💠 سلسلہ(شخصیت شناسی)کی قسط نمبر :3 حاضر ہے 💠

🌹خلیفہ اعلی حضرت استاذالعلماء والفقہاء مفتی اعظم پاکستان سراج اہل تقوی سیدی ابو البرکات سید محمد احمد قادری اشرفی رضوی برکاتی محدث لاہوری قدس سرہ العزیز🌹

سند المحدثین شیخ الحدیث علامہ ابو البرکات سید احمد قادری 1886ء کو انڈیا صوبہ راجستھان کے شہر الور کے ایک علمی گھرانے خلیفہ اعلی حضرت سید المحدثین استاذ العلماء سید دیدار علی شاہ محدث الوری قدس سرہ کے یہاں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی علامہ سید دیدار علی شاہ رحمہ اللہ تعالی کے قائم کردہ ادارہ قوت الاسلام (الور راجستھان ) میں حاصل کی اورصرف ونحو ، اصول ، منطق اور فلسفہ کی کتابیں پڑھیں ۔پھر صدر الافاصل امام الھند مفسر قرآن حضرت علامہ مفتی مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ العزیز کے مدرسہ اہل سنت (مرادآباد یو پی ہند) میں داخلہ لیا اور درس نظامی کی آخری موقوف علیہ کتابیں پڑھیں اور مناظرہ توقیت فلکیات اور فلسفہ کے ساتھ ساتھ فن طب میں بھی مہارت حاصل کی۔

جامعہ نعیمیہ مراد آباد سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنے والد سید دیدار علی شاہ سے دورہ حدیث پڑھا اور احادیث کی خصوصی اسناد وتمام سلاسل اولیا ءکے معمولات وظائف کی اجازت وخلافت حاصل کی ۔ 1915ءمیں (بریلی شریف یو پی ہند) حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ مجدد اعظم اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ کے زیر تربیت رہے – اعلی حضرت نے تمام علوم عالیہ اسلامیہ قرآن وحدیث وفقہ کی خصوصی اسناد اپنے دست خاص سے لکھ کر عنایت فرمائیں۔ 1920ءکے آغاز میں جب حضرت سید دیدار علی شاہ مستقل سکونت کے ارادہ پاکستان تشریف لائے تو آپ کی جگہ حضرت ابو البرکات جامع مسجد آگرہ کے خطیب ومفتی مقرر ہوئے ۔1933ءمیں جامع مسجد مزار حضرت داتا گنج بخش کی خطابت کے لئے آپ لاہور تشریف لائے۔ اسی دوران میں دارالعلوم حزب الاحناف کی ابتداء ہوئی تو مولانا ابوالبرکات کو اس مدرسے میں مدرس مقرر کیا گیا۔ آپ کے علم وفضل کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور دوسرے شہروں سے طالبان علوم دینیہ لاہور پہنچنے لگے اور آپ کے علم وفضل سے استفادہ کرنے لگے ۔ تحریک پاکستان کی حمایت ونصرت کا مرحلہ آیا تو آپ نے دو قومی نظریہ اور قرار داد پاکستان کی بھر پور حمایت کی ۔ کانگرسی علماءکی تردید اور نظریہ پاکستان کی تائید کے لئے اپنے دارالعلوم کے سالانہ جلسوں کو وقف کر دیا ۔ ۳۰اپریل۱۹۴۶ءآل انڈیا سنی کانفرنس کا بنارس میں انعقاد ہوا اور پاکستان کی حمایت میں پر زور قرار داد منظور کی گئی اس قرار داد پر مولانا ابوالبرکات کے علاوہ تقریباًدو ہزار قرار علماءاور مشائخ نے دستخط کئے ۔ قیام پاکستان کے بعد نظام مصطفی کے قیام ونفاذ اور اہل سنت کی تعمیر وتنظیم کے لئے ہر ممکن سعی فرمائی ۔۱۹۴۹ءمیں جب پہلی دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی تو آپ نے قرار داد مقاصد کی تربیت میں حصہ لیا اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ وقیام کے لئے ہر ممکن کوشش کی ۔

شریعت کی پابندی اور سنت رسول اللہﷺکی پیروی ان کی طبیعت ثانیہ تھی ۔ ہر بات اور ہر کام میں احکام شریعت کا خیال رکھتے تھے ۔آپ نے ۱۹۷۸ءمیں وفات پائی اور مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف گنج بخش روڈ نزد مزار حضرت داتا گنج بخش کے احاطے میں سپرد خاک ہوئے

۔( منقول)

✒️خیر خواہ اہلسنت

💐نازش المدنی مرادآبادی غفر لہ الھادی

واٹسپ نمبر :

+918320346510