أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

آپ کے قلب کے اوپر تاکہ آپ (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب پر قرآن مجید کو نازل کرنے کی کیفیت 

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو الفاظ عربیہ کا لباس پہنایا اور ان الفاظ عربیہ کو حضرت جبریل پر نازل فرمایا اور ان کو ان الفاظ پر امین بنایا تاکہ وہ اس کے حقائق میں تصرف نہ کریں پھر حضرت جبریل نے ان الفاظ کو سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب پر نازل فرمایا ‘ جیسا کہ فرمایا :

آپ کے قلب کے اوپر تاکہ آپ (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں۔ (الشعراء : ١٩٤)

یعنی اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبریل نے اس قرآن کی آپ کے سامنے تلاوت کی ‘ حتیٰ کہ آس کو اپنے دل میں یاد کرلیا کیونکہ دل ہی کسی چیز کو یاد رکھنے اور اس کے ثبوت کا محل ہے اور وحی اور الہام کا معدن اور منبع ہے اور انسان کے جسم میں صرف دل ہی خطاب اور فیض کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اللہ کے کلام کو اپنے دل میں جذب کرنے اور اس کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت تمام انبیاء میں سے اللہ تعالیٰ نے صرف ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کی تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ترجمہ : (الاعلیٰ : ٦)… ہم عنقریب آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ (اس کو) نہیں بھولیں گے۔

اور باقی انبیاء کی کتابیں الواح (تختیوں) اور صحائف کی صورتوں میں نازل کی گئی تھیں۔ ان کے دلوں پر نازل نہیں کی گئی تھیں۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی اس وقت نازل کی گئی جب آپ کو وحی کی سخت پیاس تھی۔ پھر وہ وحی آپ کی فہم اور آپ کی سماعت میں آگئی اور یہ بلندی سے پستی کی طرف نزول ہے اور خواص کا مرتبہ ہے کیونکہ عوام پہلے کسی کلام کو سنتے ہیں پھر وہ ان کی فہم میں آتا ہے ‘ پھر اس کے بعد وہ اس کو دل میں یاد رکھتے ہیں اور یہ پستی سے بلندی کی جانب ترقی ہے اور یہ مریدین اور اہل سلوک کا درجہ ہے ‘ سو خواص اور عوام میں کس قدر فرق ہے۔

الفتاویٰ النزینیہ میں مرقوم ہے کہ السید سے سوال کیا گیا کہ حضرت جبریل ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کتنی بار نازل ہوئے تو انہوں نے جواب دیا کہ مشہور قول یہ ہے کہ وہ آپ پر چوبیس ہزار بار نازل ہوئے اور مشکوٰۃ الانوار میں مذکور ہے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جبریل ستائیس ہزار بار نازل ہوئے اور باقی انبیاء (علیہم السلام) پر تین ہزار بار سے زیادہ نازل نہیں ہوئے۔ (روح البیان ج ٦ ص ٣٩٤)

نیز فرمایا تاکہ آپ (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں۔ ہرچند کہ آپ نیک اعمال پر ثواب کی بشارت دینے والے بھی ہیں اور برے اعمال پر اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے بھی ہیں لیکن اس آیت میں صرف عذاب سے ڈرانے کا ذکر کیا ہے کیونکہ ثواب کے حصول کی بہ نسبت عذاب سے بچنا زیادہ اہم اور اس پر مقدم ہے۔ رذائل سے خالی ہونا فضائل سے متصف ہونے پر مقدم ہوتا ہے جیسے بیمار اور کمزور آدمی پہلے بیماری کو دور کرتا ہے پھر قوت بخش غذائیں کھاتا ہے۔

حضرت جبریل (علیہ السلام) نے قرآن مجید کے علاوہ دیگر احکام کے متعلق بھی آپ پر وحی نازل کی ہے 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن مردویہ حضرت سعد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سنو الروح الامین نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کسی شخص کو اس وقت تک موت نہیں آتی جب تک کہ اس کا رزق مکمل نہ ہوجائے خواہ اس میں تاخیر ہو۔

امام ابن ابی شیبہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر وہ کام جو تم کو جنت کے قریب کرے گا اور دوزخ سے دور کرے گا میں تم کو اس کا حکم دے چکا ہوں اور ہر وہ کام جو تم کو دوزخ کے قریب اور جنت سے دور کرے گا میں تم کو اس کام سے منع کرچکا ہوں اور بیشک الروح الامین نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ جب تک کوئی شخص اپنے رزق کو مکمل نہیں کرلے گا اس کو موت نہیں آئے گی۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقہ سے طلب کرو اور حصول رزق کی تاخیر تم کو اللہ کی معصیت پر نہ ابھارے کیونکہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٤٣٢١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)(الدرالمنشور ج ٦ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں آپ کے قلب سے مراد آپ کی روح ہے اور قلب کا روح پر بھی اطلاق کیا جاتا ہے اور قرآن مجید کو آپ کی روح پر نازل کیا گیا ہے کیونکہ روح ہی مدرک اور مکلف ہے نہ کہ جسد اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو جہتیں تھیں ‘ آپ کی ایک جہت ملکی تھی اور اس جہت سے آپ فیض قبول کرتے تھے اور آپ کی دوسری جہت بشری تھی اور اس جہت سے آپ مخلوق کو فیض دیتے تھے۔ اس لئے قرآن مجید کو آپ کی روح پر نازل کیا گیا کیونکہ آپ کی روح ہی صفات ملکیہ سے متصف ہے جن صفات کی وجہ سے آپ الروح الامین سے فیض (روحی) کو قبول کرتے ہیں۔(روح المعانی جز ١٩ ص ١٨٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 194