۱۰۸۔ عن …………… قیل لعمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ ہہنا رجل من أہل الحیرۃ نصرانی لا یعرف أقوی حفظا ولا أحسن خطا منہ فاِن رأیت أن تتخذہ کاتبا، فامتنع عمر رضی اللہ تعالی عنہ من ذلک و قال : اِذن اِتخذت بطانۃ من غیر المؤمنین، فقد جعل عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہذہ الآیۃ دلیلا علی النہی عن اِتخاذ النصرانی بطانۃ ۔ فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۲۸۹

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا گیا یہاں ایک حیرہ کا باشندہ نصرانی آیا ہوا ہے ۔ امانت و خوشخطی میں نہایت مشہور و معروف ہے اگر آپ چاہیں تو اسے محرر بنالیں ۔ آپ نے منع فرمایا اور فرمایا: اگر میں نے ایسا کیا تو میں اسکو مسلمانوں کا راز دار بنانے والا ہوںگا۔ تو سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس آٰیت کو اس بات پر دلیل بتایا کہ غیرمسلم کو مذہبی و دینی امور کیلئے رازدار بنانا جائز نہیں ۔

]۸[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

کفارو غیر مسلمین سے جملہ انواع معاملت ناجائئز نہیں ۔ مثلا بیع و شراء، اجارہ و استجارہ وغیرہ میں کیا رازدار بنانا یا اسکی خیر خواہی پر اعتماد کرنا ہے ۔ جیسے چمار کو دام دئے جوتا گٹھوالیا ، بھنگی کو مہینہ دیا پا خانہ کموالیا ،بزاز کو روپئے دئے کپڑا مول لے لیا ، آپ تاجر ہیں کوئی چیزاسکے ہاتھ بیچی دام لے لئے وغیرہ وغیرہ ۔

ہر کافر حربی محارب ہے ، حربی و محارب ایک ہی ہے، جیسے جدلی و مجاد ل، و ہ ذمی و معاہد کا مقابل ہے ۔ رازدار بنانا ذمی و معاہد کوبھی جائز نہیں ۔ امیر المؤمنین کا مذکورہ ارشاد ذمی ہی کے بارے میں ہے ۔ یوں ہی موالات مطلقا جملہ کفار سے حرام ہے ،حربی ہو یا ذمی ۔ ہاں صرف دربارئہ برو احسان ان میںفرق ہے ۔ معاہد سے جائز ہے کہ

لاَ یَنْہَکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ ،

اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے ۔

اور حربی سے حرام کہ اِنّمَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنْ الَّذِیْنَ قَاتِلُو کُمْ فِی الدِّیْنِ ۔

اللہ تمہیں انہیں سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے۔

تفسیر کبیر میں یہ ہی فرمایا اور یہ ہی اکثر اہل تاویل کا قول بتایا۔ اسی پر اعتماد و

تعویل ہے اور ائمہ حنفیہ کے یہاں تو اس پر اتفاق جلیل ہے ۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلاشبہ رحمۃ للعلمین ہیں اور ارشاد خدا وندی وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ کے نزول سے قبل انواع انواع کی نرمی اور عفو و صفح فرماتے ۔ خود اموال غنیمت میں مؤلفۃ القلوب کا ایک سہم مقرر تھا ، مگر اس ارشاد کریم نے ہر عفو و صفح کو نسخ فرمایا اور مؤلفۃ القلوب کا سہم ساقط ہوگیا ۔

سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے افضل الاساتذہ اما م عطاء بن ابی رباح رضی اللہ تعالی عنہ جنکی نسبت امام فرماتے :میں نے ان سے افضل کسی کو نہ دیکھا ۔ وہ آیت کریمہ ’’ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں ۔ نسخت ہذہ الایۃ کل شئی من العفو و الصفح ۔

اس آیت کریمہ نے نازل ہو کر ہر عفو و صفح کو منسو خ کردیا ۔

قرآن عظیم نے یہود و مشرکین کو عداوت مسلمین میں سب کافروں سے سخت تر فرمایا۔

لَتَجِدَنَّ أشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِلَّذِیْنَ آمَنُواالْیَہُوْدَ وَ الَّذِیْنَ أشْرَکُوْا۔

ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائوگے۔ (کنز الایمان)

مگر ارشاد خدا وندی عام ہے

یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ! جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْہِمْ وَ مَأوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ اے غیب بتانے والے(نبی )!کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرمائو اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی برا انجام ۔ کنز الایمان

اس آیت میں کسی کا استثناء نہ فرمایا ۔ کسی وصف پر حکم کا مرتب ہونا اسکی علیت کا مشعر ہوتا ہے ۔ یہاں انہیں وصف کفر سے ذکر فرماکر ان پر جہاد و غلظت کا حکم دیا ۔تو یہ سزا انکے نفس

کفر کی ہے نہ کہ عداوت مومنین کی ،اور نفس کفر میں وہ سب برابر ہیں ۔

الکفر ملۃ واحدۃ ۔

ہاں معاہد کا استثناء دلائل قاطعہ متواترہ سے ضرورۃً معلوم و مستقر فی الاذہان کہ حکم ’’جاہد‘‘ سن کر اسکی طر ف ذہن جاتا ہی نہیں ۔ فنفس النص لم یتعلق بہ ابتداء کما افاد ہ فی البحرا لرائق ۔ تفاوت عداوت پر بنائے کار ہوتی تو یہود کا حکم مجوس سے سخت تر ہوتا حالانکہ امر بالعکس ہے ، اور نصاری کا حکم یہود سے کم تر ہوتا حالانکہ یکساں ہے ۔ ذمی وحربی کافر کا فرق میں بتا چکا ہوں اور یہ کہ ہر حربی محارب ہے۔

ہاں حسب حاجت ذلیل قلیل ذمیوں سے حربیوں کے مقاتلہ و مقابلہ میں مددلے سکتے ہیں ایسی جیسے سدھائے ہوئے مسخر کتے سے شکار میں ۔

امام سرخسی نے شرح جامع صغیر میں فرمایا۔

و الاستعانۃ باہل الذمۃ کالاستعانۃ بالکلاب۔

اور بروایت اما م طحاوی ہمارے ائمہ مذہب اما اعظم و صاحبین وغیرہم رضی

اللہ تعالی عنہم نے اس میں بھی کتابی کی تخصیص فرمائی مشرک سے استعانت مطلقا ناجائز رکھی اگر چہ ذمی ہو ۔ ان مباحث کی تفصیل جلیل المحجۃ المؤتمنہ میں ملاحظہ ہو ۔

رہا کافر طبیب سے علاج کرانا خارجی یا ظاہر مکشوف علاج جس میں اسکی بد خواہی نہ چل سکے وہ تو لاَ یَالُونَکُمْ خَبَالًا ، سے بالکل بے علاقہ ہے ۔ اور دنیاوی معاملات بیع و شراء ، اجارہ و استجارہ کی مثل ہے ۔ ہاں اندرونی علاج جس میں اسکے فریب کو گنجائش ہو ۔ اس میںاگرکافر وں پر یوں اعتماد کیا کہ انکو اپنی مصیبت میں ہمدرد ،اپنا ولی خیرخواہ اپنا مخلص بااخلاص، خلوص کے ساتھ ہمدردی کر کے اپناو لی دوست بنانے والا اور اسکی بے کسی میں اسکی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھانے والا جانا تو بیشک آیت کریمہ کا مخالف ہے ،اور ارشاد آیت جان کر ایسا سمجھا تو نہ صرف اپنی جان بلکہ جا ن و ایمان و قرآن سب کا دشمن ۔اور انہیں اسکی خبر ہوجائے اور اسکے بعد واقعی دل سے اسکی خیر خواہی کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ تو مسلمان کے دشمن ہیں اور یہ مسلمان ہی نہ رہا ۔فانہ منہم ، ہوگیا ، انکی تو دلی تمنا یہی تھی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے ۔

وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَائً ۔

انکی آرزو ہے کہ کسی طرح تم بھی انکی طرح کافر بنوتو تم اور وہ ایک ہو جائو ۔ مگر الحمد للہ کوئی مسلمان آیت کریمہ پر مطلع ہو کر ہرگز ایسا نہ جا نے گا ۔ اور جانے تو آپ ہی ا س نے تکذیب قرآن کی ۔بلکہ یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ ان کا پیشہ ہے ۔ اس سے روٹیاں کماتے ہیں ۔ ایسا کریں تو بد نام ہوں ،دوکان پھیکی پڑے، کھل جائے تو حکومت کا مواخذہ ہو، سزاہو، یوں بد خواہی سے باز رہتے ہیں ۔ تو اپنے خیر خواہ ہیں نہ کہ ہمارے۔اس میں تکذیب نہ ہوئی ،پھر بھی خلاف احتیاط و شنیع ضرور ہے ۔ خصوصا یہود و مشرکین سے، خصوصا سربر آوردہ مسلمان کو ، جس کے کم ہونے میں و ہ اشقیاء اپنی فتح سمجھیں ،و ہ جسے جان و ایمان دونوں عزیز ہیں اسکے بار ے میں آیت کریمہ

لاَ تَتَّخِذُوْ ا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لاَ یَالُونَکُمْ خَبَالاً ۔

کسی کافر کورازدار نہ بنائووہ تمہاری بد خواہی میں گئی نہ کریں گے ۔

اور آیت کریمہ

وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لاَ رَسُوْلِہٖ وَ لاَ الْمُؤمِنِیْنَ وَ لِیْجَۃً۔

اللہ و رسول اور مسلمانون کے سوا کسی کو دخیل کار نہ بنائو

اور حدیث مذکور

وَ لاَ تَسْتَضِیْئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔

مشرکوں کی آگ سے روشنی نہ لو

بس ہیں، اپنی جان کا معاملہ اسکے ہاتھ میں دینے سے زیادہ اور کیارازدار و دخیل کا ر اور مشیر بنانا ہوگا ۔

امام محمد بن محمد ابن الحاج عبدری مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں ۔

سخت تر قبیح و شنیع ہے وہ جسکا ارتکاب آجکل بعض لو گ کرتے ہیں ، کافر طبیب اور سیتے سے علاج کرانا ، جن سے بھلائی اور خیر خواہی کی امید درکنار یقین ہے کہ جس مسلمان پر قابو پائیں اسکی بد سگالی کریں گے اور اسے ایذا پہونچائیں گے ، خصوصا جبکہ مریض دین یا علم میں عظمت والا ہو۔

پھر فرمایا۔

وہ مسلما ن کو کھلے ضرر کی دوا نہیںدیتے کہ یوں تو انکی بد خواہی ظاہر ہوجائیگی اور انکی روزی میں خلل آے گا ۔بلکہ مناسب دواد یتے اور اس میں اپنی خیر خواہی وفن دانی ظاہر کرتے ہیں۔ اورکبھی مریض اچھا ہوجاتا ہے جس میں انکا نام ہو اور معاش خوب چلے، پھر اسی کے ضمن میں ایسی دوا دیتے ہیں کہ فی الحال مریض کو نفع دے اور آئند ہ ضرر لائے یا ایسی دوا کہ اس وقت مرض کھودے مگر جب مریض جماع کرے مرض لوٹ آئے اور مرجائے ۔یا ایسی کہ اس وقت مریض کھڑا ہوجائے اور ایک مدت سال بھر یا کم و بیش کے بعد اپنارنگ لائے اور ان کے سوا انکے فریبوں کے اوربہت طریقے ہیں ، پھر جب مرض پلٹا تو اللہ کا دشمن یوں بہانے بناتا ہے کہ یہ جدید مرض ہے اس میں میرا کیا اختیارہے ،اور مریض کی حالت پر افسو س کرتا ہے ، پھر صحیح نافع نسخے بتاتا ہے مگرجب بات ہاتھ سے نکل گئی کیا فائد ہ۔ تو اس وقت خیر خواہی دکھاتا ہے جب اس سے نفع نہیں ۔ دیکھنے والے اسے خیر خواہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت تر بد خواہ ہے ۔تمام دشمنیوں کا زوال ممکن ہے مگر عداوت دینی کہ یہ نہیں جاتی

پھر فرمایا:

و ہ کبھی عوام کے علاج میںخیر خواہی کرتے ہیں اور یہ بھی انکا مکرہے کہ ایسا نہ کریں تو شہرت کیسے ہو،روٹیوں میں فرق آئے ،اور کبھی لوگ انکے فریب پر چرچ جائیں ۔ یوں ہی یہ فریب ہے کہ بعض رئیسوں کا علاج اچھا کرتے ہیں کہ شہرت حاصل ہو اور اسکے اور اسکے جلیسوں کی نگاہ میں وقعت ہو ۔ پھر علماء و صلحا ء کے قتل کا موقع ملے اور ایسے اب موجود و ظاہر ہیں، اور کبھی علماء و صلحاء کے علاج میں بھی خیر خواہی کرتے ہیں اور یہ بھی فریب ہے کہ مقصود ساکھ بندھن ہے۔ پھر جس عالم یا دیندار کا قتل مقصود ہے اسکی راہ ملنا اور یہ انکا بڑا مکر ہے ۔

پھر ابن حاج مکی نے اپنے زمانہ کا ایک واقعہ ثقہ معتمد کی زبانی بیان فرمایا :کہ مصر میں ایک رئیس کے یہاں ایک یہودی طبیب تھا ،رئیس نے کسی بات پر ناراض ہو کر اسے نکال دیا، وہ خوشامد یں کرتا رہا یہاں تک کہ رئیس راضی ہوگیا ،کافر وقت کا منتظر رہا پھر رئیس کو کوئی سخت مرض ہوا ۔ میں طبیب مغربی سے طب پڑھ رہا تھا لوگ انہیں بلانے آئے ۔ انہوں نے عذر کیا، لوگوں نے اصرار کیا ، لہذاگئے اور مجھے فرماگئے میرے آنے تک بیٹھے رہنا ۔تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ کانپتے تھراتے واپس آئے ۔ میں نے کہا خیر ہے ۔ فرمایا:ـ میں نے پوچھا کہ یہودی نے کیا نسخہ دیا؟ معلوم ہوا کہ وہ رئیس کاکام تمام کر چکا ہے ۔ اندر نہ گیا کہ ایک تو اسکے بچنے کی امید نہیں ، پھر یہ اندیشہ کہ یہودی کہیں میرے ذمہ نہ رکھ دے ، کل تک نہ بچے گا، وہی ہوا کہ صبح تک اسکا انتقال ہوگیا ۔

پھر فرمایا:

بعض لوگ کافر طبیب کے ساتھ مسلمان طبیب کو بھی شریک کرتے ہیں کہ جو نسخہ وہ بتائے مسلمان کو دکھالیں یوں اسکے مکر سے امن سمجھتے ہیں ،اور اس میں کچھ حرج نہیں جانتے ،حالانکہ یہ بھی چند وجوہ سے کچھ نہیں ۔ایک تو ممکن کہ جو دوا کافر نے بتائی اس وقت مسلمان طبیب کے خیال میں اسکا ضرر نہ آئے ۔ پھر اسکی دیکھا دیکھی اور مسلمان بھی کافر سے علاج کرائیں گے، فیس وغیرہ جو اسے دی جائے وہ اسکے کفر پر مدد ہوگی ۔مسلمان کو اسکے لئے تواضع کرنی پڑے گی علا ج کی نامور ی سے کافر کی شان بڑھیگی خصوصا اگر مریض رئیس تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انکی تحقیر کا حکم دیا اور یہ اسکا عکس ہے ۔ پھر ان سب وجوہ کے ساتھ یہ ہے کہ اس سے انکے ساتھ انس اور کچھ محبت پیدا ہوجاتی ہے اگر چہ تھوڑی ہی سہی ،سوا اسکے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اور وہ بہت کم ہیں ۔ اور کافر سے انس اہل دین کی شا ن نہیں ۔

ان امام ناصح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ان نفیس بیانوں کے بعد زیادت کی حاجت نہیں اور بالخصوص علما ء و عظمائے دین کیلئے زیادہ خطر کا مؤید ۔

امام مارزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا واقعہ ہے ،علیل ہوئے ،ایک یہودی معالج تھا، اچھے ہوجاتے پھر مرض عود کرتا کئی بار یونہی ہوا ۔ آ خر اسے تنہائی میں بلا کر دریافت فرمایا۔ اس نے کہا :اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیک اس سے زیاد ہ کوئی کار ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کھو دیں۔ امام نے اسے دفع فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی۔ پھر امام نے طب کی طرف توجہ فرمائی ۔ اس میں تصانیف کیں اور طلبہ کو حاذق اطباء کردیا ۔ مسلمانوںکو ممانعت فرمادی کہ کافر طبیب سے کبھی علاج نہ کرائیں ۔یہود کے مثل مشرکین ہیں کہ قرآن عظیم نے دونوں کو ایک ساتھ مسلمانوں کا سب سے سخت تر دشمن بتایا۔ اور لا یألونکم خبالا تو عام کفار کیلئے فرمایا ۔

فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۲۹۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰۸۔ التفسیر الکبیرر للرازی، ٭