مزدلفہ کی روانگی اور اس کا وقوف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع میں تاجدار کائنا ت ﷺ عرفات سے مزدلفہ میں یہاں مغرب وعشاء کی نماز پڑھی پھر آرام فرمایا یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوا اور اس وقت اذان واقامت کے ساتھ نماز فجر ادا فرمائی پھر قصواء پر سوار ہوکر مشعر حرام میں تشریف لائے اور قبلہ جانب چہرئہ انور کرکے دعا ء تکبیر وتہلیل وتوحید میں مشغول رہے اور وقوف فرمایا یہاں تک کہ خوب اجالا ہوگیا اور طلوع آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ ہوئے۔ (مسلم شریف )

راستے بھر میں ذکر، درود، دعاء، لبیک اور گریۂ و زاری میں مصروف رہے اس وقت کی بعض دعائیں یہ ہیں :

اَللّٰہُمَّ اِلَیْکَ اَفَضْتُ وَفِیْ رَحْمَتِکَ رَغِبْتُ وَمِنْ سَخْطِکَ رَہِبْتُ وَمِنْ عَذَابِکَ اَشْفَقْتُ فَاَقْبِلْ نُسُکِیْ وَاَعْظِمْ اَجْرِیْ وَتَقَبَّلْ تَوْ بَتِیْ وَارْحَمْ تَضَرُّعِیْ وَاَجِبْ دُعَائِی وَاَعْطِنِیْ سُؤَالِیْ اَللّٰہُمَّ لَاتَجْعَلْ ہٰذَا آخِرَ عَہْدِنَا بَیْنَ ہٰذَاالمَوْقَفِ الشَّرِیْفِ العَظِیْمِ وَارْزُقْنَا العَوْدَ اِلَیْہِ مَرَّاتٍ کَثِیْرَۃٍ بِلُطْفِکَ العَمِیْمِ۔

اے اللہ میں تیری طرف واپس ہوا اور تیر ی رحمت میں رغبت کی اور تیری ناراضگی سے ڈرا اور تیرے عذاب سے خوف کیا، تو میری عبادت قبول فرما، اور میرا اجر عظیم فرمااور میری توبہ قبول فرما اور میری عاجزی پر رحم فرمااور میراسوال عطا فرما اے اللہ اس شریف اور بزرگ جگہ میں میری یہ حاضری آخری حاضری نہ کراور تو اپنی مہر بانی سے یہاں بہت مرتبہ آنا نصیب فرما۔

دخول مزدلفہ کی دعا

’’اَللّٰہُمَّ ہٰذَا جَمَعٌ اَسْئَلُکَ اَنْ تَرْزُقَنِیْ جَوَامِعَ الخَیْرِکُلَّہَا اَللّٰہُمَّ رَبَّ المَشْعَرِ الحَرَامِ وَرَبَّ الرُّکْنِ وَالمَقَامَ وَرَبَّ البَلَدِ الحَرَامِ وَرَبَّ المَسْجِدِ الحَرَامِ اَسْئَلُکَ بِنُوْرِ وَجْہِکَ الکَرِیْمِ اَنْ تَغْفِرَ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَتَجْمَعَ عَلَی الہُدیٰ اَمْرِیْ وَتَجْعَلَ التّقْوٰی زَادِیْ وَذُخْرِیْ وَالآخِرَۃَ مَآبِیْ وَہَبْ لِیْ رَضَاکَ عَنِّیْ فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ یَا مَنْ بِیَدِہٖ الخَیْرُ کُلُّہٗ اَعْطِنِیْ الخَیْرَ کُلَّہٗ وَاَصْرِفْ عَنِّیْ الشَّرَّ کُلَّہٗ اَللّٰہُمَّ حَرِّمْ لَحْمِیْ وَعَظْمِیْ وَشَحْمِیْ وَشَعْرِیْ وَسَائِرَ جَوَارِحِیْ عَلیَ النَّارِ یٰا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ ‘‘

نُورعَلیٰ نُور

حدیث شریف میں آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جمروں کی رمی کرنا تیرے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ!یہ جمروں پر جو کنکریاں ہر سال ماری جاتی تھیں ہمارا گمان ہے کہ کم ہو جاتی ہیں سرکار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو قبول ہو تی ہیں وہ اٹھائی جاتی ہیں ایسا نہ ہوتا تو پہاڑوں کے مثل تم دیکھتے۔ (طبرانی و حاکم)

صحیح مسلم شریف میں حضرت ام الحصبین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رحمتِ عالمﷺ نے’’حَجَّۃُ الوِدَاع‘‘ میں سر منڈانے والوں کے لئے تین بار دعا کی اور کترانے والوں کے لئے ایک بار دعا کی اسی کی مثل حدیث شریف حضرت ابو ہریرہ و حضرت مالک بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی روایت کیں۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مدنی آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بال منڈانے پر ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے اور ایک گناہ مٹایا جاتاہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارکائنات ﷺ کا فرمان پاک ہے کہ سر منڈانے میں جوبال زمین پر گرے گا وہ تیرے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔

۱۰؍ تاریخ کو نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب میں دورکعت پڑھنے کا وقت جب باقی رہ جائے، تو منیٰ کو چلو اور یہاں(مزدلفہ)سے سات چھوٹی چھوٹی کنکریاں کھجور کی گٹھلی برابر کی پاک جگہ سے اٹھا کر تین بار دھو لو کسی پتھر کو توڑ کر کنکریاں نہ بنائو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تینوں دن جمروں پر مارنے کے لئے یہیں سے کنکریاں لے لو یا سب کسی اور جگہ سے لے لو مگر نجس جگہ کی نہ ہوںاورنہ مسجد کی نہ جمرہ کے پاس کی ہو۔

راستہ میں پھر بدستورذکرودعا ء ودرود کثرت ِلبیک میں مشغول رہو اور یہ دعا پڑھو

اَللّٰہُمَّ اِلَیْکَ اَفَضْتُ وَمِنْ عَذَابِکَ اَشْفَقْتُ وَاِلَیْکَ رَجَعْتُ وَمِنْکَ رَمَیْتُ فَتَقَبَّلْ نُسُکِیْ وَعَظِّمْ اَجْرِیْ وَارْحَمْ تَضَرُّعِیْ وَتَقَبَّلْ تَوْبَتِیْ وَاَجِبْ دُعَائِیْ

اے اللہ! میں تیری طرف واپس ہوا اور تیرے عذاب سے ڈرا ا ور تیری طرف رجوع کیا۔ اور تجھ سے خوف کیا۔ تو میری عبادت قبول کر اور میرا اجر زیادہ کر اور میری عاجزی پر رحم فرما اور میری توبہ قبول کر اور میری دعاقبول فرما۔

جب’’ وادیٔ محسر‘‘ پہنچو تو پانچ سو پینتا لیس(۵۴۵) ہاتھ بہت جلد تیزی کے ساتھ چل کر نکل جائو۔ مگرکسی کو ایذا بھی نہ ہو۔ اور اس عرصہ میں یہ دعا پڑھتے جائو

اَللّٰہُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَ لاَ تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَا فِنَا قَبْلَ ذَالِکَ

اے اللہ د اپنے غضب سے ہمیں قتل نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اور اس سے پہلے ہم کو عافیت دے۔

واد یٔ مُحَسّر کیا ہے ؟

منیٰ و مزدلفہ کے بیچ میں ایک نالہ ہے جسے وادی ٔ محسر کہتے ہیں دونوں کی حدود سے خارج مزدلفہ سے منی کو جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر جو پہاڑ پڑتا ہے اس کی چوٹی سے شروع ہو کر پانچ سوپینتالیس ہاتھ تک ہے، یہاں اصحاب ِفیٖل آکر ٹھہرے، ان پر ابابیل کاعذاب اترا تھا، اس جگہ سے جلد گزرنا اور عذاب الٰہی سے پناہ مانگنا چاہئے۔

منٰی نظر آنے پر وہی دعا پڑھی جائے جو مکہ سے آتے وقت منٰی کو دیکھ کر پڑھتے ہیں۔

منیٰ پہنچنے پر سب سے پہلے ’’جمرۃ العقبیٰ‘‘ کو جائو جو منٰی سے اگلا اور مکہ سے پہلا جمرہ سے کم از کم پانچ ہاتھ ہٹے ہوئے یوں کھڑے ہو کہ منٰی داہنے ہاتھ پر اور کعبہ بائیں ہاتھ پر ہو اور جمرہ کی طرف منہ ہو، سات کنکریاں ایک ایک کرکے مارو، سیدھا ہاتھ خوب اٹھا کرماروکہ بغل کی رنگت ظاہر ہو۔ بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ( شیطان) تک پہنچیں ورنہ تین ہاتھ کے فاصلہ تک گریں،اس سے زیادہ فاصلہ پر گریںتو وہ کنکری شمار میں نہ آئے گی، پہلی کنکری سے لبیک کہنا موقوف کردواور کنکری مارتے وقت یہ دعا پڑھو:

’’بِسْمِ اللّٰہِ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ رَغْماً لِّلشَّیْطَانِ رِضاً لِلرَّحْمٰنِ،اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہٗ حَجّاً مَّبْرُوْراً وَّ سَعْیاً مَّشْکُوْراً وَّ ذَنْباً مَّغْفُوْراً‘‘۔

اللہ کے نام سے، اللہ بہت بڑا ہے، شیطان کو ذلیل کرنے کے لئے،اللہ کی رضا کے لئے، اے اللہ  اس حج کو مقبول اور سعی کو مشکور فرما اور گناہ بخش دے۔

کنکری صرف’’ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘کہہ کر بھی ماری جا سکتی ہے۔ ’’اللّٰہ اکبر‘‘کے بدلے ’’سُبْحٰنَ اللّٰہِ‘‘ یا ’’لا الٰہ الّا اللّٰہ‘‘ کہا جب بھی حرج نہیں۔

جب سات کنکریاں مار کر پوری ہو جائیں پھر وہاں نہ ٹھہرو، فوراََ ذکر و دعا کرتے ہوئے پلٹ آئو۔

اس رمی کا وقت دسویں کی فجر سے گیارہویں کی فجر تک ہے۔ مگر مسنون یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے زوال آفتاب تک ہو اور زوال سے غروب تک مباح اور غروب سے فجر تک مکروہ۔ ایسے ہی دسویں کی فجر سے طلوع آفتاب تک مکروہ اور اگر کسی عذر کے سبب ہو مثال کے طور پر چرواہوں نے رات میں رمی کی تو کراہت نہیں۔ (در مختار،رد المختار)

اب رمی سے فارغ ہو کر قربانی میں مشغول ہو۔ یہ وہ قربانی نہیں جو بقرہ عید میں ہوا کرتی ہے کہ وہ تو مسافر پر اصلا نہیں اور مقیم مالدار پر واجب ہے،اگر چہ حج کے سفرمیں ہو اور حج کی قربانی اصل میں یہ حج کا شکرانہ ہے۔ قارِن اور متمتع پر واجب ہے اگر چہ فقیر ہو اور ُمفرِد کے لئے مستحب اگر چہ غنی ہو،اس قربانی کے جانور کی بھی عمر و اعضاء میں وہی شرطیں ہیں جو عید کی قربانی میں ہیں۔ ذبح کرنا آتا ہو تو خود ذبح کرے کہ سنت ہے ورنہ ذبح کے وقت حاضر رہے۔

جانور کو قبلہ رو لٹا کر خود بھی قبلہ کی طرف منہ کر کے یہ پڑھو’’اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ حَنِیْفاً وَّ مَا اَنَا مِنَ المُشْرِکِیْنَ،اِنَّ صَلاَ تِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَناَ ِمنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ اس کے بعد’’ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہتے ہوئے نہایت تیز چھری سے بہت جلد ذبح کر دو کہ چاروں رگیں کٹ جائیں،زیادہ ہاتھ نہ بڑھائو کہ بے سبب کی تکلیف ہو۔

قربانی کے بعد اپنے اور تمام مسلمانوں کے حج و قربانی قبول ہونے کی دعا مانگو۔ اس کے بعد قبلہ رخ بیٹھ کر مرد حلق کریں یعنی تمام سر منڈائیں کہ افضل ہے یا بال کتروائیں کہ رخصت ہے،عورتوں کو بال مونڈاناحرام ہے، ایک بال برابر کتروائیں۔ مفرد اگر قربانی کرے تو اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ قربانی کے بعد حلق کریں اور اگر حلق کے بعد قربانی کی جب بھی حرج نہیں مگر تمتع و قران والے پر واجب ہے کہ پہلے قربانی کرے پھر حلق یعنی اگر قربانی سے پہلے سرمونڈائے گا تو دم واجب ہوگا۔

بال کترواتے وقت یہ خیال بے حدضروری ہے کہ سر میں جتنے بال ہیں ان میں کے چہارم بالوں میں سے کتروانا ضروری ہے لھٰذا ایک پور سے زیادہ کتروائیں کہ بال چھوٹے، بڑے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ چہارم بالوں میں سب ایک ایک پورا نہ تراشیں۔ حلق ہو یا تقصیر داہنی طرف سے شروع کرو یعنی مونڈانے والے کی داہنی جانب، یہی حدیث سے ثابت ہے اور امام اعظم علیہ الرحمۃ و الرضوان نے ایسا ہی کیا،بعض کتابوں میں جو حجام کی داہنی جانب سے شروع کرنے کو بتایا صحیح نہیں ہے،حلق یا تقصیر کے وقت یہ تکبیر کہتے جائو’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الحَمْدُ‘‘۔ اور فارغ ہونے کے بعد بھی کہو۔ حلق یا تقصیر کے وقت یہ دعا پڑھو :’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا ھَدٰنَا وَ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَ قَضٰی عَنَّا نُسُکَنَا، اَللّٰہُمَّ ھٰذِہٖ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ فَاجْعَلْ لِی بِکُلِّ شَعْرَۃٍ نُّوْراً یَّوْمَ القِیٰمَۃِ وَامْحَ عَنِّیْ بِھَا سَیِّئَۃً وَّارْفَعْ لِی بِھَا دَرَجَۃً فِیْ الجَنَّۃِ العَالِیَۃِ،اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِی فِی نَفْسِیْ وَ تَقَبَّلْ مِنِّیْ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ ِلیْ وَ لِلْمُحَلِّقِیْنَ وَالمُقَصِّرِیْنَ یَا وَاسِعَ المَغْفِرَۃِ ‘‘

حمد ہے اللہ عز و جل کے لئے اس پر کہ اس نے ہمیں ہدایت کی اور انعام کیا اور ہماری عبادت پوری کرادی، اے اللہ!یہ میری چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے میرے لئے ہر بال کے بدلے میں قیامت کے دن نور کر، اس کی وجہ سے میرے گناہ مٹا دے اور جنت میں درجہ بلند کر، الٰہی میرے نفس میں برکت کر اور مجھ سے قبول کر اور اے اللہ عز و جل مجھ کو اور سر مونڈانے والوں اور بال کتروانے والوں کو بخش دے اے بڑی مغفرت والے۔ (آمین)

افضل یہ ہے کہ آج یعنی دسویں تاریخ کو ہی فرض طواف کے لئے جسے طواف زیار ت بھی کہتے ہیں مکہ معظمہ جائو،بدستور مذکور پیدل،باوضوطواف کرو مگر اس طواف میں اضطباع نہیں۔

گیارہویں تاریخ کو بعد نماز ظہر پھر رمی کو چلو اس وقت رمی جمرئہ اولیٰ سے شروع کرو جو مسجد خیف سے قریب ہے اس کی رمی کے لئے مکہ کی طرف سے آکر چڑھائی پر چڑھو کہ یہ جگہ بہ نسبت ’’جمرۃ العقبہ ‘‘کے بلند ہے یہاں قبلہ رو ہو کر سات کنکریاں ماروپھر بطور مذکور جمرہ سے کچھ آگے بڑھ جائو اور قبلہ رو دعا میں یوں ہاتھ اٹھائو کہ ہتھیلیاں قبلہ کو رہیں، حضور قلب سے حمد و درود ودعا و استغفار میں کم سے کم بیس آیتیں پڑھنے کی قدر مشغول رہو ورنہ پون پارہ یا سورئہ بقرہ کی مقدار تک، پھر جمرئہ وسطیٰ پر جاکر ویسا ہی کرو،پھر جمرۃ العقبہ پر جائو مگر یہاں رمی کر کے نہ ٹھہرو فوراََ پلٹ آئو، واپسی میں دعا کرو۔

بارہویں تاریخ کوبعد زوال تینوں جمروں کی رمی کرو بعض لوگ دو پہر سے پہلے رمی کر کے مکہ معظمہ چل دیتے ہیں یہ ہمارے اصل مذہب کے خلاف اور ایک ضعیف روایت ہے تم اس پر عمل نہ کرو۔ بارہویں کی رمی کر کے غروبِ آفتاب سے پہلے اختیار ہے مکہ مکرمہ کو روانہ ہو جائو مگر غروب کے بعد چلا جانا معیوب ہے۔

٭٭٭