أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّقُوا الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِـبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَؕ ۞

ترجمہ:

اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تم سے پہلے لوگوں کی جبلت (سرشت) کو پیدا کیا ہے

جبلّت کا معنی 

الشعرائ : ١٨٤ میں فرمایا : اس ذات سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کی جبلّت (سرشت) کو پیدا کیا۔

الجبلّۃ : جبلّت کا معنی ہے کسی انسان کا فطری اور پیدائشی وصف۔ جبلہ اللہ علی کذا اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں ایسا وصف رکھ دیا ہے جس کو وہ ترک نہیں کرسکتا۔ جیسے کوئی انسان فطرتاً سخی ہو یا فطرتاً حیا دار ہو اور انسان کی فطرت بدل نہیں سکتی۔ اسی طرح کہا جاتا ہے جبلہ اللہ علی الکرم ‘ اللہ تعالیٰ نے کرم اور شرافت اس کی فطرت میں رکھی ہے۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ : ا (الشعراء : ١٨٤)… اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کی جبلّت کو پیدا کیا۔

یعنی کافروں کے جو اوصاف ہیں وہ فطری اور جبلّی ہیں۔ تکبر ‘ عناد اور ہٹ دھرمی ان کی سرشت میں ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ : (الاسرائ : ٨٤)… ہر شخص اپنی فطرت اور سرشت کے مطابق عمل کرتا ہے۔

(المفردات ج ١ ص ١١٣‘ مطبوعہ مکتبہ نزاد مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

نیز علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : طبیعت ‘ خصلت اور عادت میں فرق ہے :

طبیعت ‘ خصلت ‘ خلق اور عادت کا فرق :

الطبع : اس لفظ کی اصل یہ ہے طبع السیف ‘ تلوار کو ڈھالا گیا ‘ یعنی لوہے سے اس کی مخصوص صورت بنائی گئی۔ اسی طرح دراھم اور دینار کو مخصوص صورتوں میں جو ڈھالا جاتا ہے اس کو بھی طبع کہتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو جس سرشت پر بنایا جائے ‘ اس کو طبیعت اور غریزہ کہتے ہیں۔ غرز کا معنی ہے گاڑنا اور ٹھوکنا۔ گویا اس وصف کو اس میں گاڑ دیا گیا ہے اور طبیعت اور غریزہ انسان کی اس قوت کو کہتے ہیں جس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوسکتا۔ اس کو جبلّت ‘ فطرت اور شیمہ بھی کہتے ہیں۔ الشامہ کے معنی تل ہیں اور شیمہ اس خصلت کو کہتے ہیں جو انسان کے اندر تل کی طرح پیوست ہو۔ جیسے کوئی انسان جبلّی طور پر سخی ہو یا بخیل ہو۔

السجیۃ : سجیہ انسان کی پختہ عادت کو کہتے ہیں۔

خلق : خلق (خ پر پیش) انسان کی ان قوتوں کو کہا جاتا ہے جن کی بصیرت سے ادراک کیا جاتا ہے اور ان کو غور و فکر سے معلوم کیا جاتا ہے ‘ مثلاً کسی شخص کے حسن و جمال کا ادراک بصر سے ہوتا ہے ‘ اس کو خلق کہتے ہیں اور اس کی شرافت اور نجابت کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے اس کو خلق کہتے ہیں اور بعض اوقات قوت غریزہ پر بھی خلق کا اطلاق کردیا جاتا ہے جیسا کہ ان احادیت میں ہے۔

جبلّت کے متعلق احادیث :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ چار چیزوں سے فراغت ہوچکی ہے ‘ خلق سے ‘ خلق سے ‘ رزق سے اور مدت حیات سے اور کوئی شخص کسی سے زیادہ کسب کرنے والا نہیں ہے۔(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٨٩٥٣‘ حافظ الھیشمی نے کہا اس حدیث کی سند میں عیسیٰ بن مسیب البجلی ہے اور یہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے اور حاکم اور دارقطنی نے اس کو توثیق کی ہے اور دوسروں نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ )

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے مستقبل کی باتیں کررہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم یہ سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کی تصدیق کرنا اور جب تم یہ سنو کہ کسی شخص کا خلق (جبلّت) بدل گئی ہے تو اس کی تصدیق نہ کرنا۔ وہ شخص اسی سرشت کی طرف لوٹ جائے گا جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے۔(مسند احمد ج ٦ ص ٤٤٣‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٧٣٧٦‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ حافظ زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن زہری کا حضرت الوالدرداء سے سماع نہیں ہے ‘ مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٩٦)

عبداللہ بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے ایک شخص کے خلق (جبلّت) کا ذکر کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا ‘ یہ بتائو کہ اگر تم کسی شخص کا سر کاٹ دو تو پھر کیا اس کو جوڑ سکتے ہو ؟ لوگوں نے کہا ‘ نہیں ! حضرت ابن مسعود نے پھر فرمایا ‘ اگر تم اس کا ہاتھ کاٹ دو تو ؟ لوگوں نے کہا ‘ نہیں ! حضرت ابن مسعود نے فرمایا اور اگر تم اس کا پیر کاٹ دو تو ؟ لوگوں نے کہا ‘ نہیں۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا ‘ بیشک تم کسی شخص کے خلق (جبلّت) کو اس وقت تک نہیں بدل سکتے جب تک کہ تم اس کے خلق (اعضاء اور شکل و صورت) کو نہ بدل دو ‘ پھر حضرت ابن مسعود نے اس حدیث کو سنایا۔(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٨٨٨٤‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ )

خلق کا زیادہ تر اطلاق جبلّت پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسان ایک کام کرتا ہے اور دوسرا کام نہیں کرتا ‘ جیسے ایک شخص غضب کرنے والا ہوتا ہے کیونکہ اس کے مزاج میں تندی اور تیزی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہر شخص اس خلق کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے جو اس کی اصل خلقت اور فطرت میں ہوتا ہے ‘ جیسے شیر شجاعت کے ساتھ مخصوص ہے اور خرگوش یا بکری بزدلی کے ساتھ اور لومڑی مکاری کے ساتھ اور کبھی خلق کا اطلاق اوصاف مکتبہ پر بھی کیا جاتا ہے۔ انسان بعض کاموں کو کرنے کا عادی اور خوگر ہوجاتا ہے اور گویا کہ وہ کام اس کی فطرت ثانیہ بن جاتے ہیں ‘ جیسا کہ حسن اخلاق کے متعلق درج ذیل احادیث ہیں :

حسن اخلاق کے متعلق احادیث :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ تم جہاں کہیں بھی ہو ‘ اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تم کسی گناہ کے بعد کوئی نیک کام کرلو گے تو وہ اس گناہ کو مٹا دے گا اور لوگوں کے ساتھ حسن خلق کے ساتھ پیش آئو۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٨٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ١٥٣‘ سنن داری رقم الحدیث : ٢٧٩٤‘ المستدرک ج ١ ص ٥٤ )

حضرت حذیفہ بن یمان اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے سامنے اس کے بندوں میں سے ایک ایسے بندہ کو پیش کیا گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تم نے دنیا میں کیا عمل کیا ؟ اس نے کہا اے میرے رب ! تو نے مجھے اپنا مال عطا کیا تھا اور میں لوگوں سے خریدو فروخت کرتا تھا اور میرا خلق (طریقہ) یہ تھا کہ میں لوگوں سے درگزر کرتا تھا۔ میں امیر آدمی کے لئے آسانی کرتا تھا اور غریب آدمی کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہاری بہ نسبت درگزر نے کا زیادہ مستحق ہوں۔ (پھر فرشتوں سے فرمایا) میرے اس بندے سے درگزر کرو۔صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٨٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٦٠ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومنین میں سے سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کا خلق سب سے اچھا ہے اور تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کا اپنی بیویوں کے ساتھ خلق سب سے بہتر ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١١٦٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٧٢‘ ٢٥٠‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٣١١‘ المستدرک ج ١ ص ٣)

حضرت ابو امامہ باھلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں جنت کے وسط میں اس شخص کے گھر کا ضامن ہوں جو اپنا موقف برحق ہونے کے باوجود جھگڑے کو ترک کردے اور اس شخص کے لیے جنت کے وسط میں گھر کا ضامن ہوں کہ وہ خواہ مزاق کررہا ہو جھوٹ نہ بولے ، اور اس شخص کے سب سے بلند درجہ میں گھر کا ضامن ہوں جس کا خُلق سب سے اچھا ہو۔سنن ابوداود المعجم صغیر )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے روزہ دار شب زندہ دار کا اجر وثواب پا لیتا ہے۔(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٩٨‘ المستدرک ج ١ ص ٦٠‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٩٢٧ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ مجھے اس لئے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں صالح (نیک) اخلاق کو پورا کردوں۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٨١‘ المستدرک ج ٢ ص ٦١٣)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ قیامت کے دن میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے زیادہ میری مجلس سے دور وہ لوگ ہوں گے جو تکلف سے زیادہ باتیں کرتے ہوں گے اور فصاحت و بلاغت بگھارتے ہوں گے اور اپنے فضائل کا اظہار کرکے تکبر کرتے ہوں گے۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠١٨‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٩١٧)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ کے ڈر اور حسن خلق کی وجہ سے آپ سے پوچھا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے زیادہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ منہ اور شرم گاہ کی وجہ سے۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٠٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٤٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩١‘ الادب المفرورقم الحدیث : ٢٨٩‘ الادب المفرد رقم الحدیث : ٢٨٩‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٧٦‘ المستدرک ج ٤ ص ٣٢٤‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٤٩٧)

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ (مجھ کو رخصت کرتے وقت) جب میرا پائوں رکاب میں تھا تو سب سے آخر میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت کی ‘ اس میں فرمایا : اے معاذ بن جبل لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنا۔ (موطا امام مالک ج ٢ ص ٤٠٣‘ رقم الحدیث : ١٧١٦‘ مطبوعہ دارالمعرفت بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن مومن کے میزان میں حسن خلق سے زیادہ کوئی چیز وزنی نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ بےحیائی اور بری باتوں کے کرنے والے سے بغض رکھتا ہے۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٠٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٩٩)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلق سب سے اچھا تھا۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام سے بھیجا ‘ میں نے کہا ‘ اللہ کی قسم ! میں نہیں جائوں گا۔ حالانکہ میرے دل میں یہ تھا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم دیں گے تو میں چلا جائوں گا۔ حضرت انس نے کہا میں چلا گیا حتیٰ کہ میں بچوں کے پاس سے گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے ‘’ اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیچھے سے آکر مجھے گدی سے پکڑا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس وہاں جائوجہاں جانے کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں جارہا ہوں۔ حضرت انس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں سات سال یا نو سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں رہا ‘ مجھے علم نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کام کے متعلق یہ فرمایا ہو کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یا کسی کام کے متعلق یہ فرمایا ہو کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٧٣)

وہ افعال جو حسن اخلاق کا مصداق ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق حسنہ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے مسجد میں پیشاب کردیا ‘ لوگ اس کو مارنے کے لئے جھپٹے تو رسول الہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اس کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب کے اوپر ایک یا دو ڈول پانی بہا دو کیونکہ تم آسانی کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو ‘ مشکل میں ڈالنے کے لئے نہیں بھیجے گئے۔(صحیح الخاری رقم الحدیث : ٦١٢٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہا ‘ السام علیکم (تم پر موت آئے) ۔ حضرت عائشہ نے کہا تم پر موت آئے اور تم پر اللہ کی لعنت اور تم پر اللہ کا غضب ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ رک جائو ‘ تم نرمی کو لازم رکھو اور تم موجب عار باتوں اور بدکلامی سے اجتناب کرو۔ حضرت عائشہ نے کہا ‘ کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ان کی بات ان پر لوٹا دی تھی اور ان کے متعلق میری دعا قبول ہوگی اور میرے متعلق ان کی دعا قبول نہیں ہوگی۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٣٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٦٥ )

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ کی باندیوں میں سے کوئی باندی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ کر جہاں چاہتی وہاں لے جاتی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٧٢)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس آگئے۔ ایک وادی جس میں بہت زیادہ درخت تھے وہاں سب کو نیند آگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں ٹھہر گئے اور لوگ منتشر ہو کر درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی اور ہم لوگ سو گئے۔ اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بلا رہے تھے اور اس وقت وہ اعرابی آپ کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس وقت میں سویا ہوا تھا تو اس اعرابی نے مجھ پر تلوار سونت لی۔ میں بیدار ہوا تو وہ برہنہ تلوار لئے ہوئے کھڑا تھا۔ اس نے کہا تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ! میں نے تین بار کہا : اللہ ! آپ نے اس کو سزا نہیں دی اور بیٹھ گئے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٩١٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٤٣ )

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چادر لے کر آئی۔ سہل نے کہا تم کو معلوم ہے کہ وہ کیسی چادر تھی۔ اس کے دونوں کناروں پر بیل بوٹے کڑھے ہوئے تھے۔ اس عورت نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو یہ چادر پہنائوں گی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ چادر لے لی اور آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چادر کو پہن لیا۔ صحابہ میں سے ایک شخص نے اس چادر کو دیکھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چادر کتنی خوبصورت ہے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چادر مجھے دے دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھا ! جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر چلے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس شخص کو ملامت کی اور کہا تم نے یہ اچھا نہیں کیا۔ جب تم کو معلوم تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضرورت کی وجہ سے یہ چادر لی ہے۔ پھر تم نے آپ سے اس چادر کا سوال کرلیا اور تم کو معلوم ہے کہ آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جائے تو آپ منع نہیں فرماتے۔ اس شخص نے کہا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چادر کو پہن لیا تو میں اس چادر میں برکت کی توقع رکھتا تھا تاکہ میں اس چادر میں کفن دیا جائوں ‘ پھر وہ اس کا کفن ہوگئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٣٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن بن علی (رض) کو بوسہ دیا۔ اس وقت آپ کے پاس الاقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا میرے دس بیٹے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا جو شخص کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٩٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣١٨)

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ سے کوئی حاجب طلب کی جاتی تو آپ فرماتے تم (اس کی) سفارش کرو ‘ تم کو اجر دیا جائے گا اور اللہ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٣٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٢٧ )

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ گویا کہ میں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آپ نبیوں میں سے کسی نبی کا واقعہ بیان فرما رہے تھے۔ امن کی قوم نے ان کو زد و کو ب کیا اور ان کا چہرہ خون آلود کردیا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے دعا کررہے تھے کہ اے میرے رب ! میری قوم کو معاف کردے کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٢٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٢)

اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں کیا کام کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٣٩‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٨٩‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٤٦١ )

عمرہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں کیا کام کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ بشر میں سے ایک بشر تھے۔ کپڑے صاف کرلیتے تھے۔ بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور اپنے کام کرتے تھے۔(شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٣‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٦٤٨‘ حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٣٣١‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص ٣٢٨ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جوتی مرمت کرلیتے تھے اور اپنے کپڑے سی لیتے تھے اور گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے جس طرح تم میں سے کوئی شخص کام کرتا ہے۔(مسند احمد ج ٦ ص ١٠٦‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٨٩‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٤٩٢‘ مصنف ابو یعلیٰ رقم الحدیث ‘ ٤٦٥٣ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جارہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے سخت موٹے تھے۔ ایک اعرابی نے اس چادر کو پکڑ کر سختی کے ساتھ کھینچا۔ میں نے دیکھا کہ اس چادر کو سختی کے ساتھ کھینچنے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھے پر نشان پڑگئے تھے۔ پھر اس اعرابی نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے پاس جو اللہ کا مال ہے ‘ اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کچھ عطا کرنے کا حکم دیا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٨٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٥٧ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی کھانے کی مذمت نہیں کی۔ اگر آپ کو کوئی چیز پسندہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو کھالیتے ورنہ اس کو چھوڑ دیتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥٦٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٦٤ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کو ‘ سوا اس کے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے اور جب بھی کسی شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے انتقام نہیں لیا۔ ہاں اگر اللہ کی حرمات اور اس کی حدود کو کسی نے پامال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ عز و جل کے لئے انتقام لیتے تھے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٢٨ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی دو کاموں کے درمیان اختیار نہیں دیا گیا مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے اس کام کو اختیار کرتے جو آسان ہوتا ‘ بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ اس کام سے دور ہوتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی چیز میں بھی کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا ماسوا اس کے کہ اللہ کی حدود کو توڑا جائے تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے لئے انتقام لیتے تھے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٢٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٢٨‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٩٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث ’ ٢٤٩٠)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جنگ احد سے بھی زیادہ کوئی سخت دن آیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ میں نے تمہاری قوم کی طرف سے جو تکلیفیں اٹھائی ہیں ‘ وہ اٹھائی ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف یوم عقبہ (جس دن آپ نے طائف کی گھاٹیوں میں جا کر تبلیغ کی تھی) کو اٹھائی تھی۔ اس دن میں نے اپنے آپ کو ابن عبدیا لیل بن عبدکلال پر پیش کیا۔ میں جو کچھ چاہتا تھا اس نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ‘ پھر میں انتہائی افسردگی کے ساتھ چل پڑا۔ میں اس وقت قرن الثعالب میں تھا اور میرا غم ابھی دور نہیں ہوا تھا ‘ میں نے سر اوپر اٹھایا تو ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا تو وہاں پر حضرت جبریل تھے۔ انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا بیشک اللہ نے سن لیا ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو کیا پیغام سنایا اور انہوں نے آپ کو کیا جواب دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتہ کو بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں اس کو حکم دیں ‘ پھر پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھے آواز دی اور مجھے سلام کیا ‘ پھر کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ جو چاہیں ! اگر آپ چاہیں تو میں ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے در میان پیس ڈالوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ بلکہ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی پشتوں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جو اللہ وحدہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٣١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٩٥‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٧٠٦‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٧٤٧ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے خلاف دعا کیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ مجھے تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٩٩‘ الادب المفرد رقم الحدیث : ٣٢٧ شرح السنۃ ج ١٣ ص ٢٤٠ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی کسی شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کان کے ساتھ اپنا منہ لگایا ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے پاس سے اپنا سر ہٹا لیا ہو ‘ حتیٰ کہ وہ خود اپنا سر ہٹاتا تھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پڑا ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ہو ‘ حتیٰ کہ وہ خود اپنا ہاتھ چھڑاتا تھا اور امام ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آکر آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے ‘ حتیٰ کہ وہ خود آپ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیتا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی شخص سے اپنا چہرہ نہیں پھیرتے تھے ‘ حتیٰ کہ وہ شخص خود اپنا چہرہ پھیر لیتا تھا۔(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٩٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٩٠)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنی حاجب پیش کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام فلاں ! تم مدینہ کی گلیوں میں سے کسی گلی میں بھی بیٹھ جائو ‘ میں تمہارے پاس بیٹھ جائوں گا۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس بیٹھ گئے ‘ حتیٰ کہ اس کی حاجت پوری کردی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٢٦‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨١٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ٩٨‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٦٧٢)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض کی عیادت کرتے تھے۔ جنازہ کے ساتھ جاتے تھے ‘ خادم کی دعوت کو قبول کرلیتے تھے اور دراز گوش پر سوار ہوجاتے تھے۔ میں نے خود جنگ خیبر کے دن دیکھا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دراز گوش پر سوار تھے۔ اس کی لگام خشک گھاس کی تھی۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠١٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٧٨‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٦٧٣)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دراز گوش کی ننگی پشت پر سوار ہوتے تھے اور مملوک (خادم) کی دعوت کو قبول فرما لیتے تھے اور زمین پر سوتے تھے اور زمین پر بیٹھ جاتے تھے اور زمین پر (بیٹھ کر) کھاتے تھے اور فرماتے تھے ‘ اگر مجھے بکری کے ایک پائے کو کھانے کی بھی دعوت دی گئی تو میں چلا جائوں گا اور اگر مجھے بکری کی ایک دستی کی بھی دعوت دی گئی تو میں اس کو قبول کرلوں گا۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٣٣٨‘ شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٣٣‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٦٧٤‘ اس حدیث کی سند میں رواد بن الجراح اور حسن بن عمارہ ضعیف راوی ہیں۔ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مزاح بھی کرتا ہوں لیکن میں حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا۔ (مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٤٢٠١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوتی یا آپ وعظ فرماتے تو ہم دل میں کہتے کہ اب آپ لوگوں کو عذاب سے ڈرائیں گے اور جب آپ سے یہ کیفیت دور ہوجاتی تو میں دیکھتا کہ آپ سب لوگوں سے زیادہ کشادہ رو ‘ سب سے زیادہ خوش طبع اور سب سے زیادہ حسین لگتے۔(مسند البزار رقم الحدیث : ٢٤٧٧‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٤٢٠٢)

حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے میں کنواری لڑکی کے چہرے سے زیادہ شرم و حیاء ہوتی تھی اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار ہوتی تھی تو ہم آپ کے چہرے سے جان لیتے تھے۔(المعجم الکبیر ج ١٨ ص ٢٠٦‘ حافظ الہیثمی نے کہا امام طبرانی نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے ان میں سے ایک سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٤٢٠٥)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے اوپر آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا جو مجھ سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی پر نازل ہوگا اور وہ اسرافیل ہیں اور ان کے ساتھ حضرت جبریل (علیہ السلام) بھی تھے۔ انہوں نے کہا السلام علیک یا محمد ! میں آپ کے پاس آپ کے رب کا پیغام لانے والا ہوں۔ مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں آپ کو یہ اختیار دوں کہ آپ چاہیں تو نبی اور عبد رہیں اور اگر آپ چاہیں تو نبی اور بادشاہ ہوجائیں۔ میں نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کی طرف دیکھا۔ انہوں نے تواضع کرنے کا اشارہ کیا۔ پس اس وقت نبی (علیہ السلام) نے کہا اگر میں نبی بادشاہ کہتا تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلتے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٣٣٠٩‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن عبداللہ البابلتی ‘ ضعیف راوی ہے ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٤٢١١)

حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہو کر کپکپا رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا تم آرام سے اطمینان سے کھڑے رہو کیونکہ میں بادشاہ نہیں ہوں۔ میں قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو گوشت سکھا کر کھاتی تھی۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٢٨٢‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٦٦‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٤٢٤٠ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آدمی رات کے وقت بھی جو کی روٹی کھانے کے لئے بلاتا تو آپ چلے جاتے تھے۔(المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٤١‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٥٧١‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٤٢٢١ )

حضرت حنظلہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ چار زانو پر بیٹھے ہوئے تھے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٤٩٨‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند میں محمد بن عثمان القرشی ضعیف راوی ہے ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث ١٤٢٣٠)

حضرت عامر بن ربیعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد کی طرف گیا۔ آپ کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ میں آپ کی جوتی کو ٹھیک کرنے لگا۔ آپ نے میرے ہاتھ سے جوتی لے لی اور فرمایا یہ خود پسندی اور خود کو دوسرے پر ترجیح دینا ہے اور میں خود پسندی کو پسند نہیں کرتا۔(مسند البزار رقم الحدیث : ٢٤٦٨‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند میں ایک راوی مجبول ہے ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٤٢٣٢)

خصلت اور عادت کا معنی اور آیا عادت کا بدلنا ممکن ہے یا نہیں ؟

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

عادت کا لفظ عاد یعود سے بنا ہے۔ آدمی جب کسی فعل کو بار بار کرتا ہے یا کسی فعل کو بار بار قبول کرتا ہے تو اس کی عادت کہتے ہیں۔ عادت مخلوق کا فعل ہے اور سجیت اور جبلّت اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔ یہ انسان کی قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اپنی سجیت اور جبلّت کے خلاف کوئی کام کرے کیونکہ مخلوق کا فعل خالق کے فعل کو تبدیل نہیں کرسکتا لیکن بعض اوقات عادت اس قدر قوی اور پختہ ہوجاتی ہے کہ وہ سجیت اور جبلّت کے قائم مقام ہوجاتی ہے اور پھر اس کو طبیعت ثانیہ کہتے ہیں۔

ہم نے پہلے بتادیا ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل نہیں کرسکتا اس لئے انسان کی سرشت اور جبلّت اگر نیک ہے تو وہ نیک رہے گی اور اگر بد ہے تو وہ بد رہے گی۔ حدیث میں ہے ‘ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے حسین شکل دی اور نیک فطرت دی اس کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ (کشف الخفاء ج ١ ص ١٧٧) اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ خلق (شکل و صورت) اور خلق (سجیت اور جبلّت) سے فارغ ہوچکا ہے اور خالق کے فعل کو تبدیل کرنا مخلوق کی طاقت میں نہیں ہے۔(الذریعہ ص ١١٥۔ ١١٤‘ مطبوعہ منشورات الرضی ایران ١٤١٤ ھ)

امام محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ فرماتے ہیں :

بعض لوگوں کا یہ زعم ہے کہ اخلاق میں تغیر اور تبدل نہیں ہوسکتا اور اس پر دو دلیلیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ : خُلق باطن کی صورت ہے جیسا کہ خلق ظاہر کی صورت ہے اور انسان ظاہر کی صورت کو نہیں بدل سکتا ‘ مثلاً جس کا قد چھوٹا ہو وہ اپنا قد بڑا نہیں کرسکتا اور جس کا قد بڑا ہو وہ اپنا قد چھوٹا نہیں کرسکتا اور جس کی شکل و صورت قبیح ہو ‘ وہ اپنی شکل و صورت حسین نہیں بنا سکتا۔ پس جس طرح وہ اپنی ظاہری صورت کو تبدیل نہیں کرسکتا ‘ اسی طرح وہ اپنی باطنی صورت کو بھی تبدیل نہیں کرسکتا اور اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ حسن اخلاق تب حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنی شہوت اور غضب کو منقطع کرے اور شہوت اور غضب تب منقطع ہوگا جب انسان کی طبیعت اور اس کا مزاج بدل جائے اور ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ طویل مجاہدہ اور کڑی ریاضت کرنے کے باجود بھی شہوت اور غضب کو منقطع نہیں کر پاتے۔ لہٰذا اپنے اخلاق کو تبدیل کرنے کی کوشش محض عبث اور تضیع اوقات ہے۔ ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اگر اخلاق تغیر اور تبدل کو قبول نہ کرسکیں تو وعظ اور نصیحت اور تادیب اور وصیت سب باطل ہوجائیں گی اور قرآن اور حدیث میں جو نیک کام کرنے کی تلقین اور ترغیب کی گئی ہے وہ سب عبث ہوجائیں گی حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : حسنوا اخلاقکم اپنے اخلاق حسین بنائو۔

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو اور لوگوں کے ساتھ اچھے اور نیک اخلاق کے ساتھ پیش آئو۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن تصحیح ہے۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٨٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ٥٣‘ سنن الداری رقم الحدیث : ٢٧٩٤‘ المستدرک ج ١ ص ٥٤‘ حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ٣٧٨)

اگر خلق کو تبدیل کرنا ممکن نہ ہوتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ حکم کیوں دیتے ؟

ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کی طبیعت اور خلق میں تغیر ہوجاتا ہے۔ جنگلی جانوروں کی طبیعت میں انسانوں سے وحثت ہے۔ وہ ان سے گھبرا کر دور بھاگتے ہیں لیکن انسان ان کو مانوس کرلیتا ہے۔ شیر ‘ ہاتھی، ریچھ اور بندروں کو سدھا لیتا ہے۔ کتے کی طبیعت میں گوشت کھانے کی حرص ہے لیکن انسان تعلیم اور تادیب سے شکار کتے کی فطرت اور طبیعت بدل دیتا ہے۔ وہ مالک کے لئے شکار کرتا ہے اور خود نہیں کھاتا تو جب جانوروں کی طبیعت بدل جاتی ہے تو انسان کی طبیعت کیوں نہیں بدل سکتی۔(احیاء العلوم ج ٣ ص ٥١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

لوگوں کی جبلّتیں مختلف ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں کی جبلت کسی چیز کو جلدی قبول کرتی ہے اور بعض لوگوں کی جبلت کسی چیز کو دیر سے قبول کرتی ہے اور بعض لوگوں کی جبلت متوسط ہوتی ہے اور ہر ایک میں کسی اثر کو قبول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ خواہ وہ صلاحیت بہت کم ہو اور جو علماء یہ کہتے ہیں کہ خلق اور جبلت میں بالکل تغیر نہیں ہوسکتا ‘ ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ قوت ختم نہیں ہوسکتی ‘ مثلاً کسی شخص کی جبلت میں برے کاموں کی قوت ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ سرے سے وہ قوت ختم ہوجائے اور اس کے بجائے اس میں نیکی کی قوت ہوجائے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ وعظ اور نصیحت سے اس کی برائی کی قوت میں کمی ہوجائے اور یہ صحیح ہے ‘ کیونکہ کھجور کی گٹھلی میں کھجور کو پیدا کرنے کی طاقت ہے۔ اس کی پیداوار میں کمی تو ہوسکتی ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ کھجور کی گٹھلی سے سیب پیدا ہوجائے اور جو علماء یہ کہتے ہیں کہ خلق اور جبلت میں تغیر اور تبدل ہوسکتا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ انسان میں نیکی اور بدی دونوں کی صلاحیت ہے۔ فرض کیجئے کہ اس کی جبلت میں بدی ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس بدی کو بروئے کار لائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس بدی کو بروئے کار نہ لائے۔ اسی طرح فرض کریں کہ اس کی جبلت میں نیکی ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس نیکی کو بروئے کار لائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی قوت سے اس نیکی کو بروئے کار نہ لائے۔ کسی شخص کے پاس کھجور کی گٹھلی ہو تو وہ چاہے تو اس سے کھجور کا درخت اگائے اور چاہے تو اس کو یونہی چھوڑ دے ‘ حتیٰ کہ وہ گل سڑ جائے اور یہ قول بھی صحیح ہے۔ (الذریعۃ ص ١١٦‘ مطبوعہ منشورات الرضی ‘ ایران ‘ ١٤١٤ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 184