أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّهٗ لَفِىۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک اس قرآن کا ذکر پہلی کتابوں میں (بھی) ہے

سابقہ آسمانی کتابوں میں قرآن مجید کے مذکور ہونے کے محامل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور بیشک اس (قرآن) کا ذکر پہلی کتابوں میں بھی ہے۔ (الشعرائ : ١٩٦)

اس آیت میں کتابوں کے لئے زُبُر کا لفظ جمع ہے اور اس کا واحد زبور ہے جیسے رسل کا لفظ رسول کی جمع ہے۔ یعنی سابقہ آسمانی کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ اللہ تع الیٰ قرآن مجید کو اس نبی پر نازل فرمائے گا جو آخر زمانہ میں مبعوث ہوگا اور اس آیت کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انبیاء سابقین کی کتابوں میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر اور آپ کے فضائل ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے :

ترجمہ : (الاعراف : ١٥٧ )… جو لوگ اس رسول نبی ‘ اُمی کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ہے۔

اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ قرآن مجید کے مضامین اور معانی اس سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی کتابوں میں بھی مذکور ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات اور صفات کا بیان اور دیگر مواعظ اور قصص سابقہ کتب میں بھی مذکور ہیں ‘ ماسوا ان امور کے جن کا تعلق صرف اس امت کے ساتھ ہے جیسے حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگانے والوں کی مذمت اور حد قذف اور جیسے حضرت زید بن حارثہ کی بیوی کی طلاق کے بعد ان کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح کا واقعہ اور یہ بتانا کہ منہ بولے بیٹے پر وہ احکام لاگو نہیں ہوتے جو حقیقی بیٹے کے احکام ہیں اور جیسے اس واقعہ کا حکم جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض ازواج کی رضا کے لئے شہد نہ کھانے کی قسم کھالی تھی ‘ اسی طرح کی اور دوسری آیات جن کا تعلق خصوصیت سے آپ کے ساتھ ہے یا آپ کی امت کے ساتھ ہے۔

آیا قرآن مجید کو غیر عربی میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

مشہور یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ قرآن مجید کو فارسی ‘ ترکی ‘ ہندی اور دوسری زبانوں میں بھی پڑھنا جائز ہے کیونکہ سابقہ آسمانی کتابیں عربی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں مثلاً عبرانی یا سریانی زبان میں تھیں اور ان زبانوں میں قرآن مجید کی آیات یا اس کے مضامین مذکور تھے تو اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کو غیر عربی زبان میں پڑھنا جائز ہے اور ایک روایت یہ ہے کہ امام اعظم نے صرف فارسی زبان میں قرآن مجید پڑھنے کی اجازت دی ہے ‘ کیونکہ عربی زبان کے بعد سب سے افضل زبان فارسی ہے ‘ کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ اہل جنت کی زبان عربی اور فارسی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ فارسی زبان میں اس وقت قرآن مجید پڑھنا جائز ہے ‘ جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ثناء ہو جیسے سورة الاخلاص اور جب اس میں کوئی اور مضمون ہو تو پھر قرآن مجید کو فارسی میں پڑھنا جائز نہیں ہے اور امام اعظم سے ایک اور روایت یہ ہے کہ جب نمازی عربی میں قرآن کریم پڑھنے سے عاجز ہو تو پھر اس کے لئے فارسی میں قرآن مجید پڑھنا جائز ہے اور جس مضمون کو اس نے پڑھا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو یا اس کی تنزیہ ہو ‘ لیکن جب پڑھنے والا عربی اچھی طرح پڑھ سکتا ہو اور وہ غیر نماز میں پڑھے یا نماز میں پڑھے تو اس کے لئے غیر عربیہ میں قرآن کریم پڑھنا جائز نہیں ہے اور ذکر کیا گیا ہے کہ یہ امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے اور پہلے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے اس قول کی مخالفت کی تھی پھر انہوں نے اس قول سے رجوع کرلیا اور ثقہ محققین کی ایک جماعت سے صحت کے ساتھ منقول ہے کہ امام ابوحنیفہ (رض) نے مطلقاً غیر عربیہ میں قرآن پڑھنے کی اجازت سے رجوع کرلیا اور علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی ١٠٦٩ ھ نے اس مسئلہ کی تحقیق میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام یہ رکھا ہے الغمۃ القدسیہ فی احکام قراءۃ القرآن ‘ اسی طرح اس میں فارسی میں قرآن مجید لکھنے کی بھی تحقیق کی ہے اور امام ابوحنیفہ کا اس مسئلہ میں رجوع اس لئے ہے کہ سورة الشعراء کی آیت : ١٩٦ سے اس مسئلہ پر استدلال کرنا ضعیف ہے۔ (روح المعانی جز ١٩ ص ١٨٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

غیر عربی میں قرآن مجید پڑھنے کی مزید تحقیق 

علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی متوفی ١٠٨٨ ھ اور اس کے شارح علامہ شامی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

اور نماز کو بغیر عربی زبان کے شروع کرنا صحیح ہے ‘ خواہ کوئی زبان ہو اور علامہ البردعی نے فارسی زبان کی تخصیص کی ہے کیونکہ اس کی فضیلت حدیث میں ہے : اہل جنت کی زبان عربی اور فارسی فصیح ‘ (ملا علی قاری نے کہا یہ حدیث موضوع ہے ‘ الاسرار المرفوعۃ رقم : ٣٥٨‘ اسی طرح امام ابن جوزی اور حافظ سیوطی نے کہا ہے ‘ الموضوعات ج ٢ ص ٤١‘ اللآلی المصنوعۃ ج ١ ص ٤٤٢) اور امام ابو یوسف اور امام محمد نے یہ شرط عائد کی کہ وہ عربی میں پڑھنے سے عاجز ہو اور خطبہ اور نماز کے تمام اذکار میں بھی یہی اختلاف ہے کہ ان کو غیر عربی میں پڑھنا کراہت تنزیہ کے ساتھ صحیح ہے اور اگر وہ عربی میں قرآن پڑھنے سے عاجز ہے تو اس کا نماز میں غیر عربی میں قرأت کرنا اجماعً جائز ہے۔ قرأت میں عجز کی قید لگائی ہے کیونکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ نیصاحبین کے قول کی طرف رجوع کرلیا اور اسی پر فتویٰ ہے ‘ میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی نے نماز کے شروع کرنے کا حکم بھی نماز میں قرأت کرنے کی مثل لکھا ہے لیکن سلف نے اس طرح نہیں کہا اور نہ اس قول کی تقویت میں کوئی سند ہے ‘ بلکہ تاتار خانیہ میں نماز کے شروع کرنے کو تلبیہ کی مثل کہا ہے پس ظاہر یہ ہے کہ صاحبین نے امام ابوحنیفہ کے قول کی طرف رجوع کیا ہے نہ کہ امام اعظم نے ان کے قول کی طرف رجوع کیا ہے ‘ اس کو یاد رکھنا کیونکہ اکثر فقہاء پر یہ چیز مخفی ہے حتیٰ کہ علامہ شرنبلالی متوفی ١٠٦٩ ھ پر بھی ان کی تمام کتابوں میں۔ (الدارالمختار مع ردالمحتار ج ٢ ص ١٦٢۔ ١٦١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٩ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

امام ابو یوسف اور امام محمد نے یہ کہا ہے کہ نماز میں عربی میں قرأت کرنا شرط ہے ‘ ہاں اگر کوئی عاجز ہو تو وہ فارسی میں قرأت کرسکتا ہے۔ پہلے امام ابوحنیفہ بغیر عجز کے بھی فارسی میں قرات کرنے کو جائز کہتے تھے پھر انہوں نے صاحبین کے قول کی طرف رجوع کرلیا ‘ کیونکہ نماز میں قرآن کو پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور قرآن کی تعریف ہے وہ الفاظ عربیہ جو منظم ہیں اور نازل شدہ ہیں اور مصاحف میں مکتوب ہیں اور ہماری طرف نقل متواتر سے نقل کئے گئے ہیں اور جو عجمی زبان میں پڑھا گیا ہو یا لکھا گیا ہو ‘ اس کی مجازاً قرآن کہا جاتا ہے ‘ اسی لئے اس سے قرآن کے نام کی نفی کرنا صحیح ہے۔ اس دلیل کی قوت کی وجہ سے امام اعظم نے ان کے قول کی طرف رجوع کرلیا اور فارسی میں نماز شروع کرنے کے مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کی دلیل قوی ہے کیونکہ نماز کو شروع کرنے سے مطلوب ذکر اور تعظیم ہے اور یہ کسی بھی لفظ سے اور کسی بھی زبان سے حاصل ہوجاتا ہے خواہ وہ عربی اچھی طرح پڑھ سکتا ہو یا نہیں ‘ اس لئے غیر عربی میں بلا عذر نماز شروع کرنا بالاتفاق جائز ہے۔(ردالمحتار ج ٢ ص ١٦٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں :

اگر اس نے نماز میں فارسی میں قرآن پڑھایا تورات یا انجیل پڑھی اگر اس نے قصہ پڑھا ہے تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر پڑھا ہے تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔

علامہ شامی اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

یعنی اگر اس نے عربی میں قرات پر قدرت کے باوجود فارسی میں قرآن پڑھایا تورات پڑھی تو اگر اس نے قصہ پڑھا ہے تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی اور فتح القدیر میں مذکور ہے کہ اگر اس نے فارسی میں قرآن کے کسی قصہ یا امر یا نہیں کو پڑھا تو محض اس کے پڑھنے سے اس کی نماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ اس وقت وہ اس قرآن کے ساتھ کلام کررہا ہے جو غیر قرآن ہے۔ اس کے برخلاف اگر اس نے فارسی میں قرآن مجید کا وہ حصہ پڑھا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اس کی شرک اور ولد وغیرہ سے تنزیہ ہے تو اس صورت میں اس کی نماز اس وقت فاسد ہوگی ‘ جب وہ اسی پڑھنے پر اقتصار کرے اور عربی میں قرات نہ کرے۔ (ردالمحتار ج ٢ ص ١٦٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٩ ھ)

آیا ترجمہ قرآن پر قرآن مجید کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں 

کشف الاسرار میں مذکور ہے کہ اگر قرآن کا مصداق وہ ہے جس کو بطور معجزہ نازل کیا گیا ہے تو پھر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ترجمہ قرآن ‘ قرآن نہیں ہے اور اگر قرآن مجید کا مصداق وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پھر اس کی قرات ممکن ہی نہیں ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ قرآن مجید کا مصداق وہ معنی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے تعبیر کیا جائے خواہ وہ کسی لغت میں ہو تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ ناموں کا اختلاف لغات کے اختلاف سے ہوتا ہے اور جس طرح قرآن مجید کا نام تورات نہیں رکھا جاسکتا اسی طرح تورات کا نام قرآن مجید نہیں رکھا جاسکتا۔ پس ناموں کے اختلاف میں ان کی عبارات اور الفاظ کی خصوصیت کا دخل ہے اور ایسا نہیں ہے کہ ان کے نام اس معنی کے اشتراک کی وجہ سے ہیں اور اس میں بحث ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ترجمہ : (حٰمٓ السجدۃ : ٤٤ )… اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں بناتے تو یہ ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں۔

یہ آیت اس معنی کو مستلزم ہے کہ اگر یہ قرآن عجمی زبان میں ہوتا تب بھی اس کا نام قرآن ہی ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبارت اور الفاظ کی خصوصیت کا اس کا نام قرآن رکھنے میں کوئی دخل نہیں ہے اور حق یہ ہے کہ اگر قرآن کا لفظ نکرہ ہو تو پھر اس کا لغوی معنی سے منقول ہونا ثابت نہیں ہے اور اگر قرآن کا لفظ معرفہ ہو یعنی القرآن تو پھر اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے الفاظ اور اس کی عبارت عربی ہو اور یہی عرف شرعی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا نام رکھنے میں اس کے الفاظ اور اس کی عبارت کی خصوصیت کا دخل ہے اور جو آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز میں قرآن مجید کا پڑھنا فرض ہے وہ یہ ہے :

ترجمہ : (المزمل : ٢٠ )… جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لئے آسان ہے تم اتنا ہی قرآن پڑھو۔

اس تفصیل سے یہ واضح ہوگیا کہ قرآن مجید کے ترجمہ کا نام قرآن رکھنا جائز نہیں ہے۔(روح المعانی جز ١٩ ص ١٩٠۔ ١٨٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 196