أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ۞

 ترجمہ:

اور بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے ‘ بہت رحم فرمانے والا

اس کے بعد فرمایا :

اور بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے بہت رحم فرمانے والا۔ (الشعرائ : ١٩١)

آپ کا رب غالب ہے یعنی ہر چیز پر قادر ہے اور اس کے غلبہ کے آثار سے یہ ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کی ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرماتا ہے۔

سورۃ الشعراء میں انبیاء (علیہم السلام) کے قصص کی تنقیح 

سورۃ الشعراء میں انبیاء (علیہم السلام) کے قصص میں سے سات قصے بیان کئے گئے ہیں اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ان میں آخری قصہ ہے۔ ہمارے نبی سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قریش تکذیب کرتے تھے۔ ان کو بتایا کہ جس قوم نے بھی اپنے نبی کی تکذیب کی اس پر آسمانی عذاب نازل ہوا۔ سو قریش کو بھی اس عذاب سے ڈرنا چاہیے اور آپ کی تکذیب کو ترک کردینا چاہیے اور ان واقعات میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر قریش آپ کی تکذیب کررہے ہیں تو آپ غم اور افسوس نہ کریں۔ ہر زمانہ میں ہر نبی کے ساتھ اس طرح ہوتا آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں ان سات نبیوں کے قصص بیان فرمائے۔ سات سے کم یا سات سے زیادہ نبیوں کے واقعات کیوں بیان نہیں فرمائے اور ان سات مخصوص نبیوں کی کیا وجہ تخصیص ہے اور کیا وجہ ترجیح ہے ‘ اس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ہم پر یہ وجہ تخصیص اور ترجیں منکشف نہیں ہوسکی۔ نیز ان انبیاء میں سے پہلے حضرت شعیب (علیہم السلام) کا قصہ بیان فرمایا اور ظاہر ہے کہ ان انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کی ترتیب اس طرح نہیں ہے۔ پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں پھر حضرت ھود ہیں ‘ پھر حضرت صالح ہیں ‘ پھر حضرت ابراہیم پھر حضرت لوط ہیں ‘ پھر حضرت شعیب ہیں اور پھر حضرت موسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ سو ان کے واقعات کو اس ترتیب کے ساتھ بیان کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے ‘ اس کو بھی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ہم پر اس کی حکمت اور اس کی وجہ منکشف نہیں ہوسکی۔

مستقبل میں عذاب سے نجات کا مدار 

سورۃ الشعراء میں گزرے ہوئے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ذکر سے مستقبل کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ کفر اور گناہ کبیرہ کے ارتکاب پر عذاب ہوتا ہے اس لئے دل کو کفر اور گناہوں کے ارادہ اور گناہوں کی لذت اور محبت سے خالی کرنا ضروری ہے اور دل میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق اور ان پر ایمان کا حصول ضروری ہے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع کا جذبہ لازمی ہے اور انسان پر واجب ہے کہ وہ ان چیزوں اور ان تعلقات سے کنارہ کش رہے جو اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور ان کی اطاعت کی راہ میں مزاحم ہوتی ہے۔ اس پر اخلاض اور نجات موقوف ہے اور یہ چیز اس وقت حاصل ہوگی جب وہ تمام احکام شریعت پر عمل کرے گا اور ہر قسم کے گناہوں سے بچے گا اور وعظ و نصیحت اور خیر خواہی کی باتوں کو قبول کرے گا اور کسی صاحب دل اور صاحب نظر کی مجلس میں بیٹھے گا اور اس کے سلوک اور وظائف پر عمل کرے گا۔ پس جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پر ‘ آپ کے اصحاب کے طریقہ پر اور آئمہ مجتہدین کے ارشادات ‘ ان کے اخلاق اور ان کے زہد وتقویٰ پر عمل کرے گا اور ہمیشہ شب بیداری اور تہجد گزاری کرے گا اور تمام مامورات شرعیہ پر دائما عمل کرے گا اور تمام ممنوعات شرعیہ سے لازماً مجتنب رہے گا اور اپنے آپ کو تسلیم و رضا کے قالب میں اس طرح ڈھال لے گا کہ اس پر جب بھی مصیبت بلاء اور مرض کا نزول ہو تو وہ اس سے گھبرائے گا نہیں اور جب بھی اس پر تنگی رزق اور حوادث روزگار کا ورود ہو تو وہ اس سے تنگ نہ ہو اور دنیا کے مناصب اور دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں کے چھن جانے سے اس کو احساس محرومی نہ ہو بلکہ فرحت اور خوشی ہو تو اس وقت اس کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رحمت کے یہ آثار ہیں کہ اس کے دل میں اللہ کے حکم کی تعظیم ہو اور اس کے تمام اعضا ساری زندگی اس کے حکم پر عمل پیرا رہیں اور اگر اس کا حال اس کے برعکس ہو تو جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے اور اس پر غضبناک ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو تو اللہ تعالیٰ قاہر اور غالب ہے اور اپنا انتقام لینے پر ہر طرح سے قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے اور اپنے قہر و غضب اور اپنے انتقام سے اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 191