أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور لوگوں کی چیزیں کم نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے ہوئے حد سے تجاوز نہ کرو

فساد کی دو قسمیں 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور لوگوں کی چیزیں کم نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے ہوئے حد سے تجاوز نہ کرو۔ (الشعرائ : ١٨٣)

اس آیت میں تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ پہلے ان کو خصوصیت کے ساتھ ناپ اور تول میں کمی کرنے سے منع فرمایا تھا اور اس آیت میں ان کو مطلقاً لوگوں کے مالوں میں کمی کرنے سے منع فرمایا۔ خواہ وہ کمی چوری کے ذریعے کی جائے یا ڈاکے کے ذریعے یا ناپ اور تول میں کمی کے ذریعے اور ان کو زمین میں قتل و غارت گری کرنے سے بھی منع فرمایا۔ اس آیت میں عثی کے بعد فساد کا ذکر فرمایا اور ان دونوں لفظوں کے معنی ہیں فساد کرنا اور حد سے تجاوز کرنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی کام صورۃ فسادہوتا ہے لیکن حقیقاً فساد نہیں ہوتا۔ جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) نے مسکینوں کی کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا۔ یا جیسے انہوں نے ایک لڑکے کو قتل کردیا تھا۔ یہ کام بظاہر فساد تھے ‘ حقیقت میں اصلاح تھے۔ یا جیسے جراح یاسرجن سرجری کرتا ہے اور کسی عضو کو کاٹ ڈالتا ہے ‘ بظاہر یہ اعضا کو کاٹنا ہے لیکن اس میں جسم کی فلاح اور اصلاح ہوتی ہے۔ اس طرح بعض کام صورۃً اور ظاہراً فساد ہوتے ہیں اور درحقیقت وہ اصلاح اور فلاح ہوتے ہیں۔ اس لئے یہاں عثی کے بعد فساد کا ذکر فرمایا کہ تم اس طرح کا فساد نہ کرو جس میں حد سے تجاوز ہو اور اس میں اصلاح اور فلاح کا کوئی پہلو نہ ہو۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 183