أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَسۡئَـــلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ‌ۚ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور میں (رح) تم سے اس (تبلیغ دین) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت شعیب نے فرمایا) پیمانہ پورا بھر کردو اور کم تولنے والوں میں سے نہ بن جائو۔ اور صحیح ترازو سے تول کردیا کرو۔ اور لوگوں کی چزیں کم نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے ہوئے حد سے تجاوز نہ کرو۔ اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کی جبلت (سرشت) کو پیدا کیا۔ انہوں نے کہا تم صرف ان لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کیا گیا ہے۔ اور تم صرف ہماری مثل بشر ہو اور بیشک ہم تم کو ضرور جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ اگر تم سچوں میں سے ہو تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو ۔ شعیب نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ سو انہوں نے شعیب کی تکذیب کردی تو ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا ‘ بیشک وہ بہت بھاری دن کا عذاب تھا۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے۔ اور بیشک آپ کا رب ہی ضرور غالب ہے ‘ بہت رحم فرمانے والا۔ (الشعرائ : ١٩١۔ ١٨١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 180