أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُـنَا وَ اِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور تم صرف ہماری مثل بشر ہو اور بیشک ہم تم کو ضرور جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں

اصحاب الایکہ کا اپنے انکار پر اصرار اور ان پر عذاب کا نزول 

یعنی جن لوگوں پر پہلے جادو کیا گیا تھا ‘ تم بھی ان ہی میں سے ہو۔ پھر کہا اور تم صرف ہماری طرح بشر ہو اور ہم تم کو ضرور جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ (الشعراء : ١٨٦) ان کا گمان یہ تھا کہ رسول کے لئے ضروری ہے کہ وہ فرشتہ ہو اور جب کہ تم فرشتہ نہیں ہو تو تمہارا رسالت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 186