أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا وہ ہمارے عذاب کو جلد طلب کر رہے ہیں ؟

اور جب ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے کہا آپ کب تک ہم کو عذاب سے ڈراتے رہیں گے اور جس عذاب سے آپ ڈرا رہے ہیں وہ کب آئے گا ؟ تب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا :

کیا وہ ہمارے عذاب کو جلد طلب کررہے ہیں ؟ (الشعرائ : ٢٠٤)

کبھی وہ کفاریوں کہتے تھے :

ترجمہ : (الانفال : ٣٢)… اور جب ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن واقعی آپ ہی کی طرف سے (منزل) ہے تو پھر تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا تو ہم پر کوئی درد ناک عذاب واقع کردے۔

اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافروں نے کہا تھا :

ترجمہ : (ھود : ٣٢)… انہوں نے کہا اے نوح تم نے ہم سے بحث کی ہے اور بہت زیادہ بحث کی ہے ‘ سو اب تم جس عذاب سے ہم کو ڈرا رہے ہو وہ لے ہی آئو ‘ اگر تم سچوں میں سے ہو۔

اور جب ان پر عذاب نازل کیا جاتا تو ان کا حال یہ ہوتا تھا کہ وہ اس سے پناہ مانگتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم کو اس دردناک عذاب سے کچھ مہلت دی جائے اور ہم سے اس عذاب کو موخر کردیا جائے اور ان کو ان دونوں باتوں میں کس قدر تنافی اور تضاد ہے وہ بالکل واضح ہے اور امام ابو منصور ماتریدی نے التاویلات النجمیہ میں کہا ‘ ان کا عذاب کو طلب کرنا اور عذاب کی دعا مانگنا ‘ دراصل یہ بھی ان پر ہمارے عذاب کی علامات میں سے ہے۔

امام عبدالرحمٰن بن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کی عیادت کی جو کمزور ہو کر بالکل چوزہ ہوچکا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کیا تم اللہ سے کسی چیز کی دعا کرتے تھے یا اس سے کوئی سوال کرتے تھے ؟ اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا تھا : اے اللہ ! اگر تو مجھے آخرت میں کوئی عذاب دینا چاہتا ہے تو مجھے وہ عذاب دنیا میں ہی دے دے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سبحان اللہ ! تم آخرت کے عذاب کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ دعا کیوں نہیں کی : اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لئے دعا فرمائی تو اس کو شفاء ہوگئی۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 204