أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اچھا یہ بتایئے کہ اگر ہم ان کو کئی سالوں کی مہلت دے بھی دیں

اس فانی زندگی پر مغرور نہ ہونے کی تلقین 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اچھا یہ بتایئے کہ اگر ہم ان کو کئی سالوں کی مہلت دے بھی دیں۔ پھر اس کے بعد بھی ان پر وہی عذاب آجائے جس سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔ تو وہ سامان ان کے کس کام آئے گا جس سے فائدہ اٹھانے کی ان کو مہلت دی گئی تھی !۔ (الشعرائ : ٢٠٧۔ ٢٠٥)

الشعرائ : ٢٠٥ کے دو معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ انہوں نے مدت العمر جو عیش و عشرت اور نازونعم کا سامان جمع کیا تھا تو وہ اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جب ان پر اچانک عذاب آگیا ‘ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے جو ان کی مدت عمر تک ان سے عذاب کو موخر کردیا اور ان کو ان کی زندگی خوشحالی کے ساتھ گزارنے کے لئے سازوسامان عطا کیا ‘ اس سے انہوں نے کیا فائدہ اٹھایا ‘ کیونکہ انہوں نے اپنے شرک سے توبہ نہیں کی تو عذاب کی اس تاخیر نے ان کو ناکامی اور نامرادی کے سوا اور کیا دیا ! اور ان کو کیا نفع پہنچایا بلکہ جوں جوں ان کی عمر زیادہ ہوئی ‘ انہوں نے زیادہ کفر کیا اور بت پرستی کی اور دیگر بڑے بڑے گناہ بھی ‘ جس کی وجہ سے وہ اور زیادہ عذاب کے مستحق ہوئے اور اگر ان کی عمر میں یہ اضافہ نہ کیا جاتا تو وہ یہ گناہ نہ کرتے اور زیادہ عذاب کے مستحق نہ ہوتے تو اس ڈھیل دینے اور عذاب کو موخر کرنے سے بجائے فائدہ کے ان کو الٹا نقصان ہوا۔

یزید بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ سلیمان بن عبدالملک ہر جمعہ کو اپنے خطبہ میں یہ ضرور کہتے تھے کہ اہل دنیا ‘ دنیا میں خوف اور پریشانی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور ان کو کسی گھر میں امن اور چین حاصل نہیں ہوگا ‘ حتیٰ کہ اللہ کا حکم آجائے گا اور وہ اسی حال میں ہوں گے ‘ اسی طرح ان کی نعمتیں اور ان کے عیش و آرام کا سامان بھی باقی نہیں رہے گا اور وہ اچانک ٹوٹ پڑنے والے مصائب سے مامون نہیں ہوں گے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں رہے گی جس سے وہ مسرور ہو سکیں پھر وہ ان آیتوں کی تلاوت کرتے ‘ ترجمہ : اچھا یہ بتایئے کہ اگر ہم ان کو کئی سالوں کی مہلت دے بھی دیں۔ پھر اس کے بعد ان پر وہ عذاب آجائے جس سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔ تو وہ سامان ان کے کس کام آئے گا جس سے فائدہ اٹھانے کی ان کو مہلت دی گئی تھی۔

عبدالرحمان بن زید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ‘ اس سے مراد کفار ہیں۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٥٩٩٩‘ ١٥٩٩٨‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)

روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہر صبح جب اپنے تخت پر بیٹھتے تھے تو وعظ اور نصیحت کے لئے اس آیت کو پڑھتے تھے۔

یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ کہتے تھے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ غافل وہ شخص ہے جو اپنی فانی زندگی پر مغرور رہا ‘ اپنی پسندیدہ چیزوں کی لذتوں میں کھوایا رہا اور اپنی عادتوں کے مطابق زندگی گزارتا رہا۔

ہارون رشید نے ایک شخص کو قید کرلیا۔ اس قیدی نے اپنے محافظ سے کہا : امیر المومنین سے کہنا تمہارا ہر دن جو تمہاری نعمتوں اور لذتوں میں گزر رہا ہے ‘ وہ میری قید اور مشقت کے ایام کو کم کررہا ہے اور موت عنقریب آنے والی ہے۔ پل صراط پر ہماری ملاقات ہوگی جہاں حکم کرنے والا صرف اللہ ہوگا۔ ہارون رشید نے جب یہ پیغام سنا تو وہ بےہوش ہو کر گرگیا اور جب ہوش میں آیا تو اس نے اس قیدی کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ (روح البیان ج ٦ ص ٣٩٨۔ ٣٩٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 205