أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اَنَّهُمۡ فِىۡ كُلِّ وَادٍ يَّهِيۡمُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں

شعراء کا ہر وادی میں بھٹکتے پھرنا 

نیز فرمایا : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں یعنی وہ ہر قسم کی صنف میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ وہ اشعار میں کسی کی مدح کرتے ہیں کسی کی مذمت کرتے ہیں ‘ کسی کی ہجو کرتے ہیں ‘ ان کے اشعار میں بےحیائی کی باتیں ہوتی ہیں ‘ گالی گلوچ ‘ لعن طعن ‘ افتراء اور بہتان ‘ تکبر اور فخر کا اظہار ‘ حسد ‘ دکھاوا ‘ فضیلت اور دناءت کا بیان ‘ تذلیل ‘ توہین ‘ اخلاق رذیلہ اور انساب میں طعن اور دوسری چیزیں ہوتی ہیں۔ بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں ‘ ان میں شجاعت اور سخاوت کی ترغیب ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت اور صحابہ کرام اور اہل بیت کی منقبت بھی ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ شعراء ہر وادی میں گشت کرتے ہیں ان کے کلام میں اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں اور بری باتیں بھی ہوتی ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شعر کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شعر کلام ہے ‘ اس کا اچھا کلام اچھا ہے اور برا کلام برا ہے۔ (سنن دارقطنی ج ٤ ص ٥٥١‘ کتاب المکاتب ‘ باب خیر الواحد یو جب العمل رقم : ٢)

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 225