أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانْتَصَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا‌ ؕ وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ۞

ترجمہ:

سو ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نے اللہ کو بہت زیادہ یاد کیا اور انہوں نے اپنے مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیا اور ظلم کرنے والے عنقریب جان لیں گے کہ وہ کیسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نے اللہ کو بہت زیادہ یاد کیا اور انہوں نے اپنے مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیا ‘ اور ظلم کرنے والے عنقریب جان لیں گے کہ وہ کیسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجاتے ہیں۔ (الشعرائ : ۲۲۷) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقام لینے کے لیے کفار کی ہجو کرنا 

اس آیت میں مومنین صالحین کے اشعار کا استثناء ہے کیونکہ ان کے اشعار اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ اس کی حمد وثناء ‘ اس کی اطاعت کی ترغیب ‘ حکمت اور نصیحت ‘ دنیا سے اعراض اور آخرت کی ترغیب پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کا شعر و شاعری میں اشتعال اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت سے مانع نہیں ہوتا۔

اور فرمایا : انہوں نے اپنے ظلم کا بدلہ لیا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ کفار نے اپنے اشعار میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجوم اور آپ کی مذمت کی تھی تو انہوں نے بھی اس کے بدلہ میں مشرکین کی ہجو اور مذمت کی تھی جیسے حضرت حسان بن ثابت ‘ حضرت کعب بن مالک اور حضرت عبداللہ بن رواحہ وغیرہ ہم کو کیونکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت کا دفاع کرتے تھے۔ حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسان (رض) کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے اور اس منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل بیان کرتے تھے یا انہوں نے کہا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موافقت کرتے تھے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے جب تک حسان فضائل بیان کرتے ہیں یا آپ کی موافقت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ روح القدس سے حسان کی تائید فرماتا رہتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦٤٨٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٠٥‘ شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٠٥٢‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٩٥٤‘ المستدرک ج ٣ ص ٧٨٤‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٨٠٤٣‘ مسند احمد ج ٦ ص ٢٧ )

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ قریظہ کے دن حضرت حسان بن ثابت (رض) سے فرمایا : مشرکین کی ہجو کرو کیونکہ جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢١٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٨٤٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٥٢٧٨١‘ عالم الکتب بیروت)

حضرت کعب بن مالک انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے شعر کے متعلق وہ آیتیں نازل کی ہیں جو نازل کی ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک مومن اپنی تلوار اور زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے ‘ اور اس ذات کی قسم جس کیقبضہ وقدرت میں میری جان ہے ‘ ان کے خلاف شعر پڑھ کر تم ان کو تیروں کی طرح زخمی کرتے ہو۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٠٠٥٠٢‘ مسند احمد ج ٦ ص ٧٨٣‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٨٧٥‘ المعجم الکبیر ج ٩١‘ رقم الحدیث : ١٥١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٠١ ص ٩٢٣) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مشرکین کے خلاف اپنے مالوں ‘ اپنی جانوں اور اپنی زبانوں سے جہاد کرو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٠٥٢‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٦٩٠٣‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٢١‘ المستدرک ج ٢ ص ١٨‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٨١٦١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٠٢)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرۃ القضاء کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے جارہے تھے۔

خلوا بنی الکفار عن سبیلہ الیوم نضربکم علی تنزیلہ 

ضربا یزیل الھام عن مقیلہ ویز ھل الخلیل عن خلیلہ 

(کفار کے بیٹوں کو آپ کے راستہ سے ہٹا دو ‘ قرآن مجید کے حکم کے مطابق آج ہم کفار پر اس طرح وار کریں گے کہ ان کے سرتن سے الگ ہوجائیں گے اور ان کا دوست اپنے دوست کو بھول جائے گا)

حضرت عمر نے کہا اے ابن رواحہ ! تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھ رہے ہو ! تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کو چھوڑو ! یہ شعر ان کے دلوں میں تیر سے زیادہ اثر کرتے ہیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٧٤٨٢‘ شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٥٤٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٨٨٧٥‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٠٤٤٣‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ٧٩٢٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ٠١ ص ٨٢٢‘ حلیۃ الاولیاء ج ٦ ص ٢٩٢)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریش کی ہجو کرو ‘ کیونکہ ان پر اپنی ہجو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ شاق گذرتی ہے ‘ پھر آپ نے حضرت ابن رواحہ کی طرف پیغام بھیجا کہ کفار قریش کی ہجو کرو ‘ انہوں نے کفار قریش کی ہجو کی ‘ وہ آپ کو پسند نہیں آئی ‘ پھر آپ نے حضرت کعب بن مالک کی طرف پیغام بھیجا ‘ پھر حسان بن ثابت کی طرف پیغام بھیجا ‘ جب حضرت حسان آپ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا اب وقت آگیا ہے آپ نے اس شیر کی طرف پیغام بھیجا ہے جو اپنی دم سے مارتا ہے ‘ پھر اپنی زبان نکال کر اس کو ہلانے لگے ‘ پھر کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ‘ میں ان کو اپنی زبان سے اس طرح چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا جس طرح چمڑے کو پھاڑتے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جلدی نہ کرو ‘ کیونکہ ابوبکرقریش کے نسب کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ان میں مرا نسب بھی ہے ‘ تاکہ ابوبکر میرا نسب ان سے الگ کردیں ‘ حضرت حسان حضرت ابوبکر کے پاس گئے پھر لوٹ آئے اور کہا یارسول اللہ ! آپ کا نسب الگ کردیا گیا ہے ‘ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ‘ میں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے ‘ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک تم اللہ اور رسول کی طرف سے جواب دیتے رہتے ہو روح القدس تمہاری تائید کرتا رہتا ہے ‘ نیز حضرت عائشہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے ‘ حسان نے کفار قریش کی ہجو کر کے مسلمانوں کی شفاء دی (یعنی ان کا دل ٹھنڈا کردیا) اور کفار کے دلوں کو بیمار کردیا ‘ حضرت حسان کے وہ اشعار یہ ہیں :

(١) ھجوت محمد اً فاجبت عنہ وعند اللہ فی ذاک الجزآء تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کی تو میں نے حضور کی طرف سے جواب دیا اور اسکی اصل جزا اللہ ہی کے پاس ہے۔

(٢) ھجوت محمدا برا حنیفا رسول اللہ شیمتہ الوفائ تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کی جو نیک ہیں اور ادیان باطلہ سے اعراض کرنے والے ہیں ‘ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی خصلت وفا کرتا ہے۔

(٣) فان ابی ووالدتی وعرضی لعرض محمد منکم وقاء بلاشبہ میرے ماں باپ اور میری عزت ‘ تم سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت بچانے کے لیے قربان ہے۔

(٤) ثکلت بنیتی ان لم تروھاتثیر النقع من کنفی کدآئ ‘ میں خود پر گریہ کروں (یعنی مرجائوں) اگر تم گھوڑوں کو مقام کداء کی طرف گرداڑاتے نہ دیکھو۔

(٥) یبارین الاعنۃ مصعدات علی اکتافھا الا سل الظمآئ وہ گھوڑے جو تمہاری طرف دوڑتے ہیں ان کے کندھوں پر پیاسے نیزے ہیں۔

(٦) تظل جیاد نا متمطرات تلطمھن بالخمر النسائ ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے ‘ اور ان کی تھوتھنیوں کو عورتیں دوپٹوں سے صاف کریں گی۔

(٧) فان اعر ضتمو اعنا اعتمرنا وکان الفتح وانکشف الغطائ اگر تم ہم سے روگردانی کرو تو ہم عمرہ کرلیں گے ‘ پردہ اٹھ جائے گا اور فتح حاصل ہوجائے گی۔

(٨) والا فاصبرو الضراب یوم یعز اللہ فیہ من یشاء ورنہ اس دن کا انتظار کرو جس دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا عزت دے گا۔

(٩) وقال اللہ قد ارسلت عبدا یقول الحقلیسس بہ خفائ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ میں نے ایک بندہ کو رسول بنایا ہے ‘ جو حق کہتا ہے اور اس میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے۔ 

(٠١) وقال اللہ قد یسرت جندا ھم الا نصار عرض تھا اللقائ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ایک لشکر بنایا ہے جو انصار ہیں اور ان کا مقصد صرف دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔ 

(١١) یلاقی کل یوم من معد سباب اوقتال اوھجائ وہ لشکر ہر روز مذمت ‘ جنگ یا ہجو کرنے کے لیے تیار ہے۔

(٢١) فمن یھجو رسول اللہ منکم ویمدحہ وینصرہ سوآئ پس تم میں سے جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کرے ‘ تعریف کرے ‘ یا آپ کی مدد کرے ‘ سب برابر ہے۔

(٣١) وجبریل رسول اللہ فینا وروح القدس لیسس لہ کفائ ہم میں اللہ کے رسول جبریل موجود ہیں وہ روح القدس ہیں جن کا کوئی کفو نہیں ہے۔ 

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٠٩٤٣‘ دلائل النبوۃ ج ٥ ص ١٥۔ ٠٥ ذ معالم التنزیل ج ٣ ص ٨٨٤۔ ٧٨٤‘ الجامع الاحکام القرآن جز ٣١ ص ٢٤١ )

اشعار کی فضیلت میں احادیث 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کی بات کی ہے :

الاکل شیء ماخلا اللہ باطل سنو اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧١٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٥٢٢ )

حضرت عمر و بن اشرید (رض) اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں میں ایک دن ایک سواری پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ‘ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں امیہ بن الصلت کا کوئی شعر یاد ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ‘ آپ نے فرمایا : سنائو ‘ میں نے ایک شعر سنایا ‘ آپ نے فرمایا : اور سنائو حتی کہ میں نے آپ کو ایک سواشعار سنائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر شعر کے بعد فرماتے تھے اور سنائو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٥٢٢‘ شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٩٤٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٨٧٥‘ مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٩٠٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٢٩٦‘ مسند احمد ج ٤ ص ٩٨٣۔ ٨٨٣‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٣٢٧‘ سنن کبری للبیہقی ج ٠١ ص ٦٢٢‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٠٠٤٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٥٧٣)

حضرت جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ بعض غزوات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا : 

ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت 

تو صرف ایک انگلی ہے جو زخمی ہوئی ہے۔ اور تو نے اللہ کی راہ ہی میں تکلیف اٹھائی ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠٨٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٩٧١‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ٨٨٧٤)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت حسان (رض) سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مدافعت کرتے رہتے ہو جبریل تمہاری تائید کرتے رہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حسان ان کی ہجو کی تو خود بھی شفاء پائی اور مسلمانوں کو بھی شفاء دی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٠٩٤٢‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ١٩٧٤)

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ خندق کے دن مٹی پلٹ رہے تھے آپ کا شکم مبارک غبار آلود ہو رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے :

واللہ لو لا اللہ ما اھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا 

اللہ کی قسم اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے 

فانزلن سکینۃ علینا واثبت الا قدام ان لاقینا 

سو ہم پر سکون نازل فرما اور اگر ہمارا دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ہم کو ثابت قدم رکھ 

ان الا ولی قد بغوا علینا اذا ارادو افتنۃ ابینا 

بے شک پہلے لوگوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی جب وہ فتنہ ڈالنے کا ارادہ کریں گے تو ہم انکار کریں گے 

آپ بار بار ابینا ابینا فرماتے اور آواز بلند فرماتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٠١٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٠٨١)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں مہاجرین اور انصار خندق کھود تے وقت مٹی ڈال رہے تھے اور کہہ رہے تھے :

نحن الذین با یعوا محمدا علی الجھاد ما بقینا ابدا 

ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد کے ہاتھ پر جب تک زندہ رہیں جہاد کی بیعت کی ہے 

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٨٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٠٨١)

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بعض اشعار حکمت آمیز ہوتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٤١٦)

حافظ ابن عبدالبر ‘ حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر عسقلانی وغیر ہم نے بیان کیا ہے کہ حضرت سوادبن قارب (رض) نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں ان کے پاس جنات آتے تھے اور باتیں بتاتے تھے اور ان کو ان کے جن نے تین راتیں مسلسل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی خبر دی پھر حضرت سوادبن قارب (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اشعار سنائے جن میں سے بعض یہ ہیں :

فاشھد ان اللہ لارب غیرہ وانت مامون علی کل غائب 

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں اور آپ ہر غیب پرامین ہیں 

وانک ادنی المرسلین وسیلۃ الی اللہ یا ابن الا کرمین الا طایب 

اور آپ اللہ کی طرف سب سے نزدیک وسیلہ ہیں اے پاکیزہ اشخاص کے بیٹے 

وکن لی شفیعا یوم لا ذوشفاعۃ سواک بمغن عن سواد بن قارب 

اور جس دن آپ کے سوا کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا اس دن آپ سواد بن قارب کے لئے شفاعت کرنے والے ہوجائیں۔

(الا ستیعاب رقم : ٤١١١‘ البدایہ والنہا یہ ج ٢ ص ٧٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٨١٤١ ھ ‘ الا صابہ رقم : ٦٩٥٣‘ الروض الانف ج ١ ص ٠٤١‘ ملتان ‘ الوفاء ج ١ ص ٣٥١‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ١٣‘ دلائل النبوۃ للا صبہانی ج ١ ص ٢٢‘ مختصر سیرۃ الرسول لعبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب ص ٩٦‘ لاہور)

حکیمانہ اشعار کا معدن اور منبع 

نور ایمان ‘ اعمال صالحہ کی قوت ‘ اللہ تعالیٰ کے بہ کثرت ذکر اور فرشتوں کی تائید سے غور و فکر کے بعد نیک اور حکیمانہ اشعار کہے جاتے ہیں اور ان کو موزون الفاظ کے قالب میں ڈھالا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے الہام سے حقائق اور وقائق کو اشعار کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے ‘ اور مواعظ حسنہ ‘ دنیا کی مذمت ‘ آخرت کی رغبت ‘ عبادت کے ذوق اور اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت ‘ اور ان کی حمد و نعت ‘ صحابہ اور اہل بیت کی منقبت اور اسلام کی تعلیم پر مشتمل اشعار کہے جاتے ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اشعار نہ کہنے کا سبب 

چونکہ اشعار میں معانی الفاظ کے تابع ہوتے ہیں اور ان میں یہ قصد کیا جاتا ہے کہ شعر کہ آخری الفاظ ایک وزن اور ایک قافیہ پر ہوں اس لیے انبیاء (علیہم السلام) کے لائق اور مناسب شعر کہنا نہیں ہے کیونکہ ان کا مقصود الفاظ نہیں معانی ہوتے ہیں اس لئے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشعار نہیں فرمائے ‘ البتہ آپ نے دوسروں کے اشعار پڑھے اور سنے ہیں اور آپ سے اشعار کی صورت میں جو کلام صادر ہوا ہے جیسا کہ ہم نے متعدد حوالوں سے احادیث نقل کی ہیں مثلا انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب وغیرہ تو ہرچند کہ یہ کلام موزون ہے لیکن یہ اصطلاح میں شعر نہیں ہے کیونکہ اس میں کلام کا ایک وزن پر ہونا اتفاقاً ہے قصداً نہیں ہے ‘ جیسے قرآن مجید کی متعدد آیات موزون ہوتی ہیں جیسے انا اعطیناک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ لیکن ان کا ایک وزن پر ہونا اتفاقاً ہے قصداً نہیں ہے اس لیے یہ آیات اصطلاح میں شعر نہیں ہیں۔

اختتام سورت 

آج مورخہ ٩ ذوالحجہ ‘ یوم عرفہ ‘ بہ روز جمعہ ‘ ٢٢٤١ ھ/٢٢ فروری ٢٠٠٢ ء ‘ بعد نماز فجر سورة الشعراء مکمل ہوگئی الہٰ العلمین ! جس طرح آپ نے یہاں تک قرآن مجید کی تفسیر مکمل کرادی ہے باقی تفسیر کو بھی محض اپنے کرم سے مکمل کرادیں۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین شفیع المذنبین وعلی آلہ و اصحابہ وازواجہ وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 227