أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ۞

ترجمہ:

بیشک وہ بہت سننے والا بےحد جاننے والا ہے

تفسیر:

اب ہم اس سورت کی بقیہ آیتوں کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں :

وہ دلائل اور وجوہات جن کی بناء پر قرآن مجید شیطان کا نازل کیا ہوا نہیں ہے 

الشعرائ : ۱۹۲‘ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور بیشک یہ (قرآن) رب العالمین کی نازل فرمائی ہوئی کتاب ہے۔ مشرکین مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں اس کتاب کے نزول کو تو روک نہیں سکتے تھے ‘ تو انہوں نے لوگوں کو اس کتاب سے برگشتہ اور متنفر کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ کتاب شیاطین کی نازل کی ہوئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا : اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل نہیں ہوئے۔ اور نہ وہ اس کے لائق ہیں۔ اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ بیشک وہ (فرشتوں کا کلام) سننے سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ (الشعرائ : ٤١٢۔ ٠ ١٢) جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن مجید کے مضامین سنے تھے اور وہ شیاطین کی باتوں اور ان کے وسوسوں سے بھی واقف تھے ‘ وہ واضح طور پر جانتے تھے کہ قرآن مجید کے مضامین سنے تھ اور وہ شیاطین کی باتوں اور ان کے وسوسوں سے بھی واقف تھے ‘ وہ اضح طور پر جانتے تھے کہ قرآن کے مضامین سنے تھے اور وہ شیاطین کی باتوں اور ان کے وسوسوں سے بھی واقف تھے ‘ وہ واضح طور پر جانتے تھے کہ قرآن شیطانوں کا نازل کیا ہوا نہیں ہوسکتا ‘ شیاطین تو شر اور برائی کو پھیلاتے ہیں وہ تو ہر غلط اور ناجزئز طریقہ سے زبان ‘ پیٹ اور شرمگاہ کے تقاضوں کو پورا کرنے پر ابھارتے ہیں اور قرآن خیر اور نیکی کو فروغ دیتا ہے اور ہر قسم کے غلط اور ناجائز کاموں سے روکتا ہے اور عفت ‘ پاکیزگی اور پاک دامنی کی تعلیم دیتا ہے ‘ شیطان شرک کا داعی ہے ‘ قرآن توحید کا پیغام دیتا ہے ‘ شیطان کہتا ہے بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ وہ نیست اس دنیا کی رنگینیوں اور لذتوں سے جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھا لو کہ اس کے بعد اور کوئی زندگی نہیں ہے ‘ اور قرآن یہ کہتا ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں تمہیں اس زندگی میں کیے ہوئے تمام کاموں کا حساب دینا ہوگا اور اس حساب کے نتیجہ میں تمہاری اچھی یا بری ثواب اور نعمتوں کی یا عذاب اور مصیبتوں کی دائمی زندگی ہوگی ‘ سو مضامین قرآن اور وساوس شیاطین میں آسمان و زمین سے زیادہ فرق ہے تو قرآن شیاطین کا نازل کیا ہوا کیسے ہوسکتا ہے ! پھر بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی اور آپ کی سیرت کی شیاطین کی تعلیم اور تلقین سے کوئی مناسبت نہیں ہے ان پر شیاطین کیسے نازل ہوسکتے ہیں ‘ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ : آپ اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کریں اگر بہ فرض محال آپ نے ایسا کیا تو آپ بھی عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی (اللہ کے عذاب سے) ڈرائیے۔ اور جن مسلمانوں نے آپ کی پیروی کی ہے ان کے لیے اپنی رحمت کے بازو جھکا کر رکھیے۔ پھر بھی اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ کہیے کہ میں تمہارے کاموں سے بےزار ہوں۔ اور بہت غالب اور بےحد رحم فرمانے والے پر توکل کیجئے۔ جو آپ کو (آپ کی نمازوں میں) قیام کے وقت دیکھتا ہے۔ اور سجدہ کرنے والوں میں آپ کے پلٹنے کو۔ بیشک وہ بہت سننے والا ‘ بےحد جاننے والا ہے۔ (الشعرائ : ٠٢٢۔ ٣١٢)

سو جس شخص کی پوری زندگی ان احکام پر عمل سے عبارت ہو ‘ جس کی سیرت خدا خوفی اور نیک چلنی ہو ‘ جو اپنوں اور بےگانوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراتا ہو جو راتوں کو اٹھ کر نمازوں میں قیام کرتا ہو اور اپنے اصحاب کو بھی شب زندہ داری اور تہجد گذاری کی تلقین کرتا ہو اس پر شیاطین کیسے نازل ہوسکتے ہیں ‘ ان کی شیطانی کاموں کے ساتھ کیا مشابہت اور کیا مناسبت ہے ‘ پھر بتایا کہ شیطان کس قسم کے لوگوں پر نازل ہوتے ہیں فرمایا : کیا میں تمہیں ان کی خبردوں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں۔ وہ ہر تہمت باندھنے والے گناہ گار پر نازل ہوتے ہیں۔ وہ سنی سنائی باتیں پہنچاتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔ اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ (الشعرائ : ٦٢٢۔ ٤٢٢ )

ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ شیاطین کس قسم کے بدکار ‘ گنہگار اور بدکار لوگوں پر نازل ہوتے ہیں وہ پاک طینت اور پاک دامن لوگوں پر نازل نہیں ہوتے ‘ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی تو صاف اور شفاف ہے اور پاکیزہ زندگی ہے تو شیاطین آپ پر کیسے نازل ہوسکتے ہیں اور نہ قرآن مجید کے مضامین شیاطین کا موضوع ہیں ‘ کفار مکہ کا یہ کہنا ہر اعتبار سے باطل اور غلط ہے کہ اس قرآن مجید کو شیاطین نے نازل کیا ہے قرآن مجیدتو رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی نشانیاں بیان کی ہیں جن پر شیطان اترتے ہیں ‘ کہ وہ تہمت باندھنے والے گنہگار ہیں ‘ وہ سنی سنائی باتیں پہنچاتے ہیں اور جھوٹے ‘ اور شاعروں کی پیروی گم راہ لوگ کرتے ہیں اور شاعر ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ‘ اب ہم ان اوصاف کے معانی اور ان کے متعلق احادیث پیش کریں گے فنقول وباللہ التوفیق !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 220