بسم الله الرحمن الرحيم

(ا) ایمان کے مدینہ میں سمٹ آنے کی احادیث میں تعارض:

وعن عمرو بن عوف قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن الذين ليأرز إلى الحجاز كما تأرز الحية إلى جحرها ولیعقلن الذين من الحجاز معقل الأروية من رأس الجبل إن الذين بدأ غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء وهم الذين يصلحون ما أفسد الناس من بعدي من سنتی .رواه الترمذي

حضرت عمر بن عوف سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشادفرمایا آخر زمانہ میں دین حجاز کی طرف اس طرح لوٹ جائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں لوٹ جاتا ہے اور دین حجاز سے اس طرح بندھ جائے گا جیسے پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی سے بے شک اسلام غریبی سے شروع ہوا اور جیسا شروع ہوا ویساہی پر پھر ہوجائے گا غریبوں کو خوش خبری ہوغریب وہ ہیں جو میرے بعد اس سنت کو درست کریں گے جسے لوگوں نے بگاڑ دیا تھا۔

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا آخرزمانہ میں دین حجاز کی طرف اس طرح لوٹ جائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں لوٹ جاتا ہے اور دین حجاز سے ایسا بندھ جائے گا جیسے پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی سے۔

جبکہ دوسری حدیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانہ میں ایمان مدینہ کی طرف اس طرح لوٹ جائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں لوٹ جاتا ہے۔ پہلی حدیث میں ایمان حجاز کی طرف لوٹ جائے گا اور دوسری حدیث میں ایمان مدینہ کی طرف لوٹ جائے گا جو کہ بظاہر تعارض ہے۔

ایمان کے مدینہ میں سمٹ آنے کی احادیث میں تعارض کی تطبیق

فقہاء نے اس کی تخلیق اس طرح بیان فرمائی ہے کہ ابتدا میں مسلمان جازمقدس میں پناہ لیں گے اور جب وہاں بھی امن نہ پائیں گے تو مدینہ کی طرف سمٹ آئیں گے لہذا جس حدیث میں حجاز مقدس کی بات ہے اس سے مراد یہی پناہ ہے اور جس حدیث میں دین کا ذکر ہے اس سے مرادآخری پناہ ہے۔