أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طٰسٓ‌ ۚ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيۡنٍۙ ۞

ترجمہ:

طاسین یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں

تفسیر:

بسم اللہ الرحمن الرحیم کے معانی 

اللہ کے نام سے شروع ‘ اس کا نام عزیز ہے ‘ گنہ گار اپنا سزا میں تخفیف کے لیے اس کے نام کا قصد کرتا ہے ‘ تو اس کا گناہ معاف کردیا جاتا ہے ‘ اس کا نام کریم ہے ‘ عبادت گزار اپنی عبادت کے اجر کے اضافہ کے لیے اس کا قصد کرتا ہے تو اس کے اجر میں اضافہ کردیا جاتا ہے ‘ اس کا نام جلیل ہے ‘ ولی عزت و کرامت کی طلب کے لیے اس کا قصد کرتا ہے تو اس کا قصد پورا ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : طاسین ‘ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔ (النمل : ١)

طاسین کے اسرار 

مفسرین نے کہا ہے کہ طاسین کی ط سے یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے دل طیب ہیں ‘ اور سین سے اس سر (راز) کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں ہے۔ نیز اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ وہ اپنے طالبین کی طلب کی قسم کھاتا ہے کہ ان کے دل اس کے ماسوا کی طلب سے سلامت ہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ طا سے اس کے قدس کی طہارت کی طرف اشارہ ہے ‘ اور سین سے اس کی سنائ (روشنی یا بلندی) کی طرف اشارہ ہے ‘ گویا کہ وہ اپنے قدس کی طہارت اور اپنی عزت کی بلندی کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ میں اپنے لطف کے کسی امیدوار کی امید کو ضائع اور نامراد نہیں کروں گا ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ طا سے اس کے فضل اور سین سے اس کی سناء (بلندی) کی طرف اشارہ ہے۔

امام قشیری متوفی ٥٦٤ ھ نے لکھا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ میری پاکیزگی کی وجہ سے میرے اولیاء کے قلوب طیب ہوگئے ‘ اور میرے جمال کے مشاہدہ کی وجہ سے میرے اصفیاء کے اسرار چھپ گئے ‘ میرا ارادہ کرنے والوں کی طلب میرے لطف کے مقابل ہے اور نیک اعمال کرنے والوں کے اعمال میری رحمت کے مشکور ہیں۔ (لطائف الاشارات ج ٢ ص ٩٠٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٠ ٢٤١ ھ)

اس سورة کو قرآن اور کتاب مبین فرمانے کی وجہ 

تلک کے لفظ سے اس سورة کی آیات کی طرف اشارہ ہے اور کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے ‘ جس میں تمام ماکان ومایکون کا بیان ہے ‘ اور ملائل کہ اس کو پڑھ کر مستقبل میں ہونے والے امور کا بیان کرتے ہیں۔

اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ تلک کے لفظ سے اس عظیم الشان سورة کی طرف اشارہ ہے ‘ اور آیات قرآن سے مراد تمام قرآن کی آیتیں ہیں یا اس سورة کی آیتیں ہیں ‘ اس قرآن کو کتاب مبین فرمایا ہے ‘ مبین کا معنی ہے مظہر ‘ یعنی یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی حکمتوں اور اس کے احکام کو ‘ آخرت کے احوال کو جن میں نیکوں کا ثواب اور بروں کا عذاب ہے ‘ اور سابقہ انبیاء اور گزشتہ امتوں کے واقعات کو ظاہر کرنے والی ہے۔

اس سورة کو قرآن بھی فرمایا اور کتاب بھی ‘ قرآن کا لفظ قرأت سے بنا ہے جس کا معنی پڑھنا ہے اور کتاب کا لفظ کتب سے بنا ہے جس کا معنی لکھنا ہے ‘ اس کو قرآن اس لئے فرمایا کہ اس کو سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور کتاب اس لیے فرمایا کہ اس کو سب سے زیادہ لکھا جاتا ہے ‘ اور قرآن کے لفظ کو کتاب کے لفظ پر اس لئے مقدم فرمایا کہ پہلے اس کو پڑھا جاتا تھا پھر اس کو لکھا جاتا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 1