💠 سلسلہ (شخصیت شناسی) کی قسط نمبر نمبر: 4 حاضر ہے💠

🌹خلیفۂ اعلیٰ حضرت،مبلّغِ اعظم اسلام علامہ شاہ عبد العلیم صدّیقی میرٹھی مہاجر مدنی قدس سرہ العزیز🌹

نام: محمد عبدالعلیم

نسب: صدّیقی

القاب و خطابات: مبلّغِ اسلام، مبلغ ِاعظم، مبلغ ِچین و جاپان، سفیرِ اسلام، سفیرِ پاکستان، گشتی سفیرِ پاکستان، سیاحِ عالم، علیمِ رضا، عدیم النظیر مقرر، His Exalted Eminence (فضلیت مآب) اور شاہ۔ ان میں سے دو، ‘‘مبلّغِ چین و جاپان’’ اور ‘‘علیمِ رضا‘‘، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ کے عطا کردہ ہیں۔

جائے ولادت: محلّۂ مشائخاں، شہرِ میرٹھ، صوبۂ یوپی، ہندوستان۔

والدِ ماجد: نجیبِ مصطفیٰ حضرت علّامہ الحاج قاضی مفتی شاہ محمد عبدالحکیم جوؔش ؔ صدّیقی قادری چشتی قُدِّسَ سِرُّہٗ ایک ناموَر صوفی، عالمِ دین، نعت گو شاعر اور شاہی جامع مسجد ’’التمش‘‘ (میرٹھ، یوپی، انڈیا) کے امام و خطیب تھے

صحیح تاریخِ ولادت: ۱۵،رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ مطابق تین(۳) اپریل ۱۸۹۳ء بروز پیر۔ عموماً مبلغِ اعظم حضرت الحاج علامہ مولانا حافظ قاری حکیم شاہ عبدالعلیم صدّیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیدائش کا سن ’’۱۸۹۲ء‘‘ لکھا جاتا ہے، جب کہ تاریخی شواہد، آن لائن کلینڈر اور تقویمِ تاریخی کے مطابق ’’۱۵،رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ‘‘ کو عیسوی سن ’’۱۸۹۳‘‘ تھا، نہ کہ ۱۸۹۲ء۔ آپ کی پیدائش کے تین ماہ سات دن بعد، ۲۲،ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۷،جولائی ۱۸۹۳ء بروز جمعہ بوقتِ صبحِ صادق ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری محدّثِ بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ کے شہزادۂ اصغر حضور مفتیِ اعظم علامہ شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت ہوئی۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے اردو، عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی، چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآنِ مجید ناظرہ ختم کیا اور صرف سات سال کی عمر میں قرآنِ پاک مکمّل حفظ کر لیا۔ بعد ازاں، مدرسۂ عربیہ اسلامیہ، میرٹھ، میں داخل ہوئے۔ تین جمادی الاخریٰ ۱۳۲۲ھ (اگست ۱۹۰۴ء) کو والدِ ماجد کا سایہ سر سے اٹھا، تو بقیہ تعلیم و تربیت آپ کی والدۂ ماجدہ (والدہ صاحبہ کا انتقال ۱۹۳۱ء میں اپریل کے آخر یا مئی کے شروع میں ہوا) اور برادرِ اکبر حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کی۔ چنانچہ حضرت مبلغ اعظم نے مدرسۂ قومیہ عربیہ، میرٹھ، میں داخلہ لیا اور ۱۳۲۶ھ میں امتیازی حیثیت سے درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔ دینیات کے موضوع پر نیشنل عربک انسٹی ٹیوٹ سے ڈپلوما کیا۔ تبلیغِ دین کے جذبے کے تحت، آپ نے علومِ جدیدہ کی طرف متوجہ ہوکر، بی۔اے کیا اور پھر وکالت کا امتحان پاس کر کے الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایل۔ ایل۔ بی کی سند حاصل کی؛ میرٹھ کے مشہور حکیم احتشام الدین صاحب سے فنِّ حکمت (علمِ طب) سیکھا ۔

اعلیٰ حضرت سے سندِ اجازتِ حدیث:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی آپ کو شرفِ تلمّذ حاصل تھا؛ اعلیٰ حضرت نے مبلغِ اعظم کو ۱۹، ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ کو صِحاحِ سِتّہ وغیرہا کتبِ احادیث کے روایت کرنے کی سندِ اجازت عطا فرمائی۔ اس سند کا عکس حضرت مبلغِ اعظم کے پچاسویں عرس شریف کے موقع پرخواتین اسلامی مشن۔ پاکستان، گلشن اقبال، کراچی کے شائع کردہ خصوصی مجلّہ ‘‘عظیم مبلغ اسلام‘‘ کے صفحہ ۱۵۶ سے ہدیۂ قارئین کیا جارہا ہے:

دنیا کی زبانوں پر عبور:

آپ کو دنیا کی بہت سی زبانوں پر دسترس حاصل تھی، جن میں:

اردو،انڈونیشی، انگریزی، جاپانی، جرمن، چینی، ڈچ، سواحلی(افریقی)، عربی، فارسی، فرانسیسی، ملائی، ہندی وغیرہ زبانیں شامل ہیں۔

آپ نے السنۂ شرقیہ(Oriental Languages) میں پنجاب یونیورسٹی سے سند بھی حاصل کی۔

بیعت و خلافت و روحانی فیوض:

آپ اپنے برادرِ اکبر حضرت علامہ احمد مختار صدّیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید تھے ، آپ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز سے شرف خلافت حاصل تھا

اعلیٰ حضرت کے علاوہ، حضرت مبلغِ اعظم کو اپنے پیر و مرشد و برادرِ اکبر حضرت علامہ احمد مختار صدّیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(خلیفۂ اعلیٰ حضرت) اور قطب المشائخ حضرت ابو احمدسیّد شاہ محمد علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی عرف ’’اشرفی میاں نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی؛ نیز، مذکورہ بزرگوں کے علاوہ، اپنے والدِ ماجد، اور حضرت مولانا عبد الباری فرنگی محلی، شیخ احمد الشمس مراکشی مدنی اور لیبیا کے صوفی بزرگ حضرت شیخ السنوسی ﷭سے بھی آپ نے روحانی فیوض کا اکتساب کیا؛ شیخ الدلائل حضرت مولانا عبد الحق ابنِ یار محمد صدّیقی الٰہ آبادی مہاجر مکی سے،جن کی دلائل الخیرات شریف کی سند بہت معروف ہے، دلائل الخیرات کی اجازت لی۔(قَدَّسَ اللہُ تَعَالٰی اَسْرَارَھُمُ الشَّرِیْفَۃ)

اعلیٰ حضرت کی مبلّغِ اعظم پر شفقت:

مبلّغِ اعظم پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رضی اللہ تعالیٰ عنھما ﷮بڑی شفقت فرماتے اور پیار سے آپ کو ’’علیمِ رضا‘‘ کے لقب سے پکارتے ؛ علاوہ ازیں، اعلیٰ حضرت نے اپنے قصیدے ’’اَلْاِسْتِمْدَاد عَلٰٓی اَجْیَالِ الْاِرْتِدَاد‘‘(صفحہ ۶۸) میں اپنے خلفا اور تلامذہ کےدورانِ ذکر، بد عقیدہ و بد مذہب گروہ کے مقابلے میں، آپ کے علمی مقام کو یوں بیان فرمایاہے: ؎

عبد علیم کے علم کو سن کر

جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں

تصانیف و تالیفات:

مبلّغِ اعظم علامہ شاہ عبد العلیم صدّیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک بہترین ادیب بھی تھے؛ چنانچہ آپ نے اپنی عدیم الفرصتی کے باوجود، چند تصانیف و تالیفات بھی یاد گار چھوڑی ہیں، جن میں :

احکامِ رمضان المبارک؛ بہارِ شباب؛ دیو بندی مولویوں کا ایمان؛ ذکرِ حبیب حصّۂ اوّل و دوم؛ فرت من قسورۃ؛ کتاب التصوف مسمّٰی بہ ’’لطائف المعارف‘‘؛ مرزائی حقیقت کا اظہار؛ The Elementary Teachings of Islam (for Hanafis); How to Preach Islam

وغیرہ کتب شامل ہیں۔

وصالِ مبارک:

۲۲ اور ۲۳ ذی الحجہ (اتوار اور پیر) کی درمیانی شب ۱۳۷۳ھ مطابق ۲۲، اگست ۱۹۵۴ء کو گنبدِ خضرا(مدینۂ منورہ) کے سائے میں، باب السّلام پر، آپ کا وصال ہوا۔

ملک التحریر حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کے وصالِ مبارک کی منظر کشی اِن الفاظ میں کی ہے:

اُسی سال(۱۳۷۳ھ) کے ماہِ ذی الحجہ میں (مبلّغِ اعظم) بیمار ہوئے، دن بہ دن حالت سنگین ہوتی گئی۔ جب محسوس ہوا کہ سفر کا وقت قریب آ گیا ہے تو بالیں کے قریب کھڑے ہونے والوں سے ارشاد فرمایا:

’’میری چار پائی کاندھے پر اُٹھاؤ اور باب السلام پر لے چل کر رکھ دو کچھ عجب نہیں کہ سرکار میری روح کو اذنِ باریابی مرحمت فرمائیں اور درِ پاک پر مٹنے کی آخری آرزو بھی پوری ہوجائے‘‘ جیسے ہی باب السلام کی چوکھٹ پر چار پائی لاکر رکھی گئی، کسی نے یہ شعر گنگنایا ؎

علیمؔ ِ خستہ جاں تنگ آ گیا ہے دردِ ہجراں سے

الٰہی! کب وہ دن آئے کہ مہمانِ محمدﷺ ہو شعر کیا تھا کہ حسرت و بے قراری کی ایک تڑپتی ہوئی بجلی تھی جو لوگوں کے سینے میں کوند گئی۔ ہر طرف گریۂ درد سے چیخیں بلند ہونے لگیں، ۴۵سال سے عشقِ محمدی کا پرچم اٹھاتے ہوئے جس پیکرِ وفا نے سارے جہاں کی خاک چھانی تھی، آج اس کی زندگی کا سفینہ ساحلِ مقصود پر کھڑا تھا۔ دل کا اضطراب اب مچل رہا تھا کہ کب اذنِ باریابی ملے، نگاہِ شوق طلوع ہونے والی صبحِ امّید کے انتظار میں بار بار جھک رہی تھی، اٹھ رہی تھی کہ کرم کی کوئی تجلی نمودار ہو اور کب جلوے اپنا نقاب الٹیں۔ امّید و آرزو کی بے تابیوں کا یہی عالم تھا کہ حجرۂ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پردوں کو جنبش ہوئی، حریمِ رحمت کا در کھلا، ایک روشنی چمکی، ایک خوشبو پھیلی اور اس کے بعد کیا ہوا کسی کو نہیں معلوم، بس اتنا یاد ہے کہ باب السلام پر ایک شور بپا تھا کہ آخر ایک عاشق کی بے چین روح اپنے محبوب کے قدموں پر نثار ہو ہی گئی۔

جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یار پر

عمر بھر کی بےقراری کو قرار آ ہی گیا نقیبِ غوث الوریٰ، قطبِ مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین مہاجر مدنی قدس سرہ النورانی پاس ہی کھڑے تھے، آگے بڑھے اور برستی ہوئی آنکھوں سے پیشانی کی فیروز بختیوں کو بوسہ دیا۔ بھرائی ہوئی آواز میں ارشاد فرمایا:

علیمِؔ خستہ جاں کو مبارک ہو کہ محمدﷺ کے گھر کی مہمانی کا اعزاز قیامت کے لیے محفوظ ہوگیا۔‘‘

(مجلّہ ’’عظیم مبلغِ اسلام‘‘، ص ۷۷)

آپ کی نمازِ جنازہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدّثِ بریلوی کے مرید و خلیفہ اور قائدِ ملّتِ اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمدنورانی صدّیقی کے دادا سسر، قطبِ مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین احمد قادری مدنی علیہ الرحمہ نے پڑھائی۔

(منقول)

✒️خیر خواہ اہلسنت

💐نازش المدنی مرادآبادی غفر لہ الھادی

واٹسپ نمبر :

+918320346510