أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُعَذَّبِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

سو (اے مخاطب ! ) تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کر ورنہ تو بھی عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہوجائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو (اے مخاطب ! ) تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کر ورنہ تو بھی عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہوجائے گا۔ اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (عذاب سے) ڈرایئے۔ اور جن مسلمانوں نے آپ کی پیروی کی ہی ان کے لئے اپنی رحمت کے بازو جھکا کر رکھیئے۔ پھر بھی اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ کہئے میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں۔ اور بہت غالب اور بےحد رحم فرمانے والے پر توکل کیجئے۔ جو آپ کو قیام کے وقت دیکھتا ہے۔ اور سجدہ کرنے والوں میں آپ کے پلٹنے کو۔ بیشک وہ بہت سننے والا بےحد جاننے والا ہے۔ کیا میں تمہیں ان کی خبر دوں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں۔ وہ ہر تہمت باندھنے والے گنہگار پر نازل ہوتے ہیں۔ وہ سنی سنائی باتیں پہنچاتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔ (الشعرا : ٢٢٣۔ ٢١٣)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیراللہ کی عبادت سے ممانعت کی توجیہ 

الشعرائ : ٢١٣‘ میں فرمایا سو تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کر ورنہ تو بھی عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہوجائے گا۔

اس آیت میں بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے ‘ لیکن درحقیقت یہ خطاب آپ کے متبعین اور آپ کی امت کی طرف متوجہ ہے ‘ کیونکہ آپ تو نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد شرک اور ہر قسم کے کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے معصوم ہیں ‘ خواہ ان گناہوں کا صدور سہواً ہو یا عمداً ‘ صورۃً ہو یا حقیقتاً ۔ اس لئے اس آیت میں تعریضاً خطاب ہے۔ صراحتہً آپ کی طرف نسبت کی گئی ہے اور مراد آپ کی امت ہے اور اس پیرایہ خطاب میں یہ تنبیہ کرنا ہے کہ اگر بفرض محاذ آپ نے بھی اللہ کی غیر کی عبادت کی تو آپ بھی عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہوجائیں گے تو ماوشما اور عام لوگوں کی کیا حیثیت ہے کہ اگر انہوں نے غیر اللہ کی عبادت کی تو وہ کیونکہ اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بچ سکیں گے۔

امام فخر الدین رازی متوفی ١٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں :

یہ حقیقت میں آپ کے غیر سے خطاب ہے کیونکہ حکیم کا یہ اسلوب اور طریقہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی قوم سے خطاب کو موکد کرنا چاہتا ہے تو ظاہر میں اس خطاب کو اس قوم کے رئیس کی طرف متوجہ کردیتا ہے ‘ ہرچند کہ اس خطاب سے مقصود اس رئیس کے متبعین ہوتے ہیں اور کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ غیر اللہ کی عبادت سے اجتناب کرنے میں آپ کی امت آپ کی پیروی اور آپ کی اتباع کرے اور اس میں بھی ان کو آپ کی اقتداء کرنے کا شرف حاصل ہو۔ اس وجہ سے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف آپ کو خطاب فرمایا ہے۔(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٥٣٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں سے خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ اور قرآن مجید کا کفر کرتے تھے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو ورنہ تم بھی عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہو جائو گے اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے اور ہرچند کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیر اللہ کی عبادت نہیں کرسکتے ‘ کیونکہ آپ معصوم اور مختار ہیں لیکن آپ کو بھی غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت کے ساتھ خطاب کیا گیا کیونکہ اس سے مقصود آپ کا غیر ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اس آیت کے بعد فرمایا :

ترجمہ : (الشعرائ : ٢١٤)… اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرایئے۔

تاکہ آپ کے رشتہ دار آپ کے نسب اور آپ کی قرابت پر تکیہ کرکے نیک عمل اور برے کام سے اجتناب کو ترک نہ کریں۔

(الجامع لاحکام القرآن جز ١٣‘ ص ١٣١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 213