أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

ان پر اچانک وہ عذاب آئے گا اور ان کو اس کا شعور بھی نہ ہوگا

اس کے بعد فرمایا : ان پر اچانک وہ عذاب آئے گا اور ان کو اس کا شعور بھی نہیں ہوگا۔ (الشعرائ : ٢٠٢)

ان پر وہ عذاب یا دنیا میں اچانک آئے گا یعنی وہ دنیا میں اپنی رنگ رلیوں اور کفر و شرک میں مگن ہوں گے اور اسی حالت میں اچانک ان پر وہ عذاب آجائے گا یا آخرت میں بغیر کسی تیاری کے اچانک ان پر عذاب آجائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 202