محمد اللہ کے رسول ہیں اور ابوبکر صدیق میرے خلیفہ ہیں

اس روایت پر وارد اعتراضات کا جائزہ

بلقم:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

امام خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ایک راوی :

986- محمد بن عبد الله بن يوسف أبو بكر المهري بصري

کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے اسکو ثقہ قرار دیتے ہیں پھر اسکی غریب روایت بیان کرتے ہوئے حکم لگاتے ہیں

أخبرنا القاضي أبو العلاء الواسطي، قال: أخبرنا أبو بكر محمد بن خلف بن حيان، قال: حدثنا محمد بن عبد الله بن يوسف المهري، قال: حدثنا الحسن بن عرفة، قال: حدثنا أبو معاوية الضرير، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله، صلى الله عليه وسلم: ” لما عرج بي إلى السماء، ما مررت بسماء إلا وجدت فيها مكتوبا: محمد رسول الله، وأبو بكر الصديق من خلفي

حضرت ابی سعیدؓ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا تو جب میں جس بھی آسمان سے گزرا اس میں یہ لکھا ہوا تھا:

محمد اللہ کے رسول ہیں اور ابو بکر صدیق میرے خلیفہ ہیں

امام خطیب اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں :

هذا حديث غريب من رواية الأعمش، عن أني صالح، عن سعيد، ومن رواية أبي معاوية عن الأعمش، تفرد بروايته محمد بن عبد الله المهري إن كان محفوظا عنه، عن الحسن بن عرفة، ونراه غلطا.

یہ روایت غریب ہے جس میں اعمش ابی صالح سے اور وہ سعید سے بیان کرتے ہیں، اس میں تفرد ہے محمد بن عبداللہ المھری کا

جبکہ محفوظ (طریق) وہ ہے جسکو حسن بن عرفہ نے بیان کیا ہے

اور اسکو ہم غلطی سمجھتے ہیں (المھری)کی

پھر امام خطیب محفوظ طریق بیان کرتے ہیں باسند :

وصوابه: ما أخبرناه الحسن بن علي الجوهري، قال: أخبرنا عمر بن أحمد الواعظ، قال: حدثنا إبراهيم بن حماد بن إسحاق بن إسماعيل بن حماد بن زيد، قال: حدثنا الحسن بن عرفة، قال: حدثنا أبو معاوية الضرير، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله، صلى الله عليه وسلم: ” ما مررت بسماء إلا رأيت فيها مكتوبا: محمد رسول الله، أبو بكر الصديق

اور جو صحیح ہے وہ یہ ہے :

مجالد بن عباس نے بیان کرتے ہیں : جسکا متن اوپر گزر چکا ہے

(تاریخ بغداد)

یعنی امام خطیب نے اس روایت کو حسن بن عرفہ کے طریق سے ابو معاویہ جو امام الاعمش سے بیان کرتے ہیں وہ روایت مجاہلد کے طریق سے حضرت ابن عباس کی مرفوع روایت ہے جو کہ صحیح ہے

نہ کہ محمد بن عبداللہ المھروی کی روایت حسن بن عرفہ سے جو الاعمش کے طریق سے اس روایت کو ابو سعید سے بیان کرتے ہیں

اسکے بعد امام ذھبی امام خطیب کا تعاقب کیا ہے میزان میں وہ اس راوی کا ترجمہ میں خطیب بغدادی کا کلام نقل کرتے ہیں :

7809 – محمد بن عبد الله بن يوسف، أبي بكر المهرى (5) البصري.

عن علي بن الحسين الدرهمي، والحسن بن عرفة، والنضر بن طاهر.

وعنه أبو بكر بن شاذان، وابن حيوية، وجماعة.

وثقه الخطيب، ولكن روى له خبرا باطلا، وحكم بأنه تفرد عنه وأنه غلط، فقال: أخبرنا أبو العلاء الواسطي، أخبرنا أبو بكر محمد بن خلف بن جيان، حدثنا محمد بن عبد الله بن يوسف، حدثنا ابن عرفة، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لما عرج بى إلى السماء ما مررت بسماء إلا وجدت فيها مكتوبا: محمد رسول الله، وأبو بكر الصديق من خلفي.

محمد بن عبداللہ ابی بکر المھری البصری

امام خطیب نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

لیکن یہ ایک باطل خبر لاتا ہے جس میں اس راوی اسکا تفرد ہے اور جو اس (المھری) سے غلطی ہوئی ہے

جو بیان کرتا ہے محمد بن عبداللہ المھری ابن عرفہ سے وہ ابو معاویہ سے و الاعمش سے ابو سعید کی مرفوع حدیث بیان کرتا ہے

حضرت ابی سعیدؓ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا تو جب میں جس بھی آسمان سے گزرا اس میں یہ لکھا ہوا تھا:

امام ذھبی پھر خطیب کے حوالے سے لکھتے ہیں :

وقال الخطيب: وأنبأنا به الجوهرى، أخبرنا ابن شاهين، حدثنا إبراهيم ابن حماد بن إسحاق، حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس: ما مررت بسماء … فذكره.

ثم سكت الخطيب عن هذا، وهو أيضا باطل، ما أدرى من يغش فيه، فإن هؤلاء ثقات.

امام خطیب بیان کرتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :

میں جس بھی آسمان سے گزرا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔

پھر خطیب نے اس روایت پر سکوت کیا ہے

(الذھبی اپنا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں )حالانکہ یہ روایت بھی جھوٹی ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس (سند) میں کس نے خرابی پیدا کی ہے کیوکنہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔

پھر امام ذھبی آگے لکھتے ہیں :

ثم قال: وعند ابن عرفة فيه إسناد آخر، فذكره من جزء ابن عرفة: حدثنى عبد الله بن إبراهيم الغفاري، عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن المقبري، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما مررت بسماء إلا وجدت اسمى فيها.

قلت: الغفاري متهم بالكذب.

مات سنة ست عشرة وأربعمائة .

فهذا عنه محتمل.

وأما عن معاوية فلا والله.

پھر خطیب نے یہ بات بیان کی ہے کہ ابن عرفہ کے پاس ایک دوسری سند کے ساتھ بھ یہ روایت منقول ہے پھر انہوں نے اسے ابن عربہ کے جز سے نقل کیا ہے وہ روایت اس نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ھریرہ کے حوالے سے نقل کی ہے نبی کریم نے ارشاد کیا :

میں جس بھی آسمان سے گزرا اس میں میرا نام مجھے ملا

(میں الذھبی) کہتا ہوں عفاری نامی راوی پر جھوٹ بولنے کا الزام ہے اس راوی کا انتقا416ھ مں ہوا

تو اس سے اس روایت کے منقول ہونے کا احتمال موجود ہے (متھم قرار دینے کا امکان ہے) جہاں تک معاویہ کے احتمال کا تعلق ہے تو اللہ کی قسم ایسا نہیں (کہ اس سے متھم قرار دیا جائے)

(میزان الاعتدال الذھبی)

امام ذھبی کا تسامح :

امام ذھبی نے پہلے تو اس روایت کو غلط قرار دیکر امام خطیب کی موافقت کی ہے کہ

پہلی جو روایت مرفوع امام خطیب محمد بن عبداللہ المھری کے طریق سے ابو سعید کے طریق سے مرفوع بیان کی ہے

وہ فاحش خطاء ہے المھری کی کیونکہ امام الاعمش کی اس روایت کو باقی راویان یہ حدیث حضرت ابن عباس سے مرفوع بیان کرتے ہیں تو اس میں المھری کو غلطی ہوئی ہے

پھر امام خطیب نے اس روایت کے مقابل محفوظ اور صواب یعنی صحیح روایت بیان کی

جب امام خطیب نے محفوظ اور صواب سند نقل کردی تو امام ذھبی کاامام خطیب پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے سکوت کیا روایت نقل کرنے کے بعد یہ بات امام ذھبی کی اصول صحیح نہیں جب وہ ایک ثقہ راوی کی روایت کی غلطی بیان کر کے اسکے مقابل محفوظ اور صواب سند سے روایت نقل کر دی

جسکے راویان تمام ثقہ امام ذھبی کے نزدیک بھی ہیں تو پھر اس روایت کو امام ذھبی کا باطل کہنا اصول انکی خطاء اور تسامح ہے

یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی پھر خود بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ اس روایت کی سند کے سارے رجال ثقہ ہیں لیکن انکو معلوم نہیں کہ اس سند میں غلطی کس کی ہے

اسکی وجہ شاید امام ذھبی کے نزدیک یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ابن عرفہ اس روایت کو الغفاری سے بھی بیان کرتے تھے جو متھم بلکذب ہے تو شاید اس روایت کا مرکزی راوی الغفاری ہے

اور باقی جو طریق ہیں ان میں وھم کی علتیں ہیں تو یہ روایت میں الغفاری کی وجہ سے جھوٹٰی ہے

لیکن معاویہ جوامام الاعمش سے بیان کرتا ہے (جسکی سند میں سارے راوی ثقہ ہیں ) ان پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا

لیکن اس سند میں علت پیش کرنے سے امام ذھبی قاصر رہے

اور لسان میں امام ابن حجر نے بھی امام ذھبی کی اس بات کا رد نہیں کیا اور نہ ہی تائید کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکا رجھا ن بھی اسی طرح تھا یا نہیں

یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی کی اس بات کو کسی نے اہمیت نہیں دے سوائے اس بات کو امام ذھبی کے تسامح پر محمول کرنے کے

امام ابن عراق کا امام ذھبی پر تعاقب :

امام ابن عراق اپنی مشہور تصنیف تنزيه الشريعة میں لکھتے ہیں :

(89) [حَدِيثٌ] ” عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَمَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلا وَجَدْتُ فِيهَا اسْمِي مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ مِنْ خَلْفِي ” (عد) مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَفِيهِ عبد الله ابْن إِبْرَاهِيم الْغِفَارِيّ (تعقب) بِأَن الْغِفَارِيّ روى لَهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ، والْحَدِيث لَهُ شَوَاهِد كَثِيرَة من حَدِيث أبي سعيد، أخرجه الْخَطِيب، وَمن حَدِيث ابْن عَبَّاس أخرجه ابْن شاهين فِي السّنة، والخطيب (قلت) قَالَ الذَّهَبِيّ فِي الْمِيزَان سَنَد الْخَطِيب ثِقَات وَلَا أَدْرِي من تعس فِيهِ؟ وَالله أعلم. وَمن حَدِيث ابْن عمر أخرجه الْبَزَّار: وَمن حَدِيث أبي الدَّرْدَاء أخرجه الدَّارَقُطْنِيّ فِي الْأَفْرَاد والخطيب، وَمن حَدِيث أنس والبراء بن عَازِب أخرجهُمَا ابْن عَسَاكِر وَمن مُرْسل الْحسن أخرجه الْخُتلِي فِي الديباج وأسانيدها ضَعِيفَة يشد بَعْضهَا بَعْضًا فيلتحق الحَدِيث بِدَرَجَة الْحسن.

: نبی کریمﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا تو جب میں جس بھی آسمان سے گزرا اس میں یہ لکھا ہوا تھا

ابی ھریرہ سے مروی روایت میں عبداللہ بن ابراہیم الغفاری ہے

ابن عراقی کہتے ہیں کہ الغفاری سے ابی داود اور امام ترمذی نے رویات لی ہیں

اور اس حدیث کے کثیر شواہد موجود ہیں جس میں ایک ابو سعید سے جسکو خطیب نے ذکر کیا ہے

اور ابن عباس کی حدیث مرفوع ہے جسکو ابن شاھین نے اپنی سنہ میں لیا ہے ، اور خطیب نے

میں (ابن عراقی ) کہتا ہوں کہ ذھبی نے میزان میں خطیب بغدادی کی بیان کردہ سند (جو ابن عباس سے مروی ہے ) کے بارے کہا کہ میں نہین جانتا اس میں کس راوی کی خرابی ہے اسکے راویان ثقہ ہیں واللہ اعلم

اور حضرت ابن عمر سے یہ روایت جسکو امام البزار نے روایت کیا ہے

اور یہ حدیث ابی دردا سے بھی آئی ہے اور جسکو دارقطنی نے اور خطیب نے بیان کیا ہے

اور حدیث حضرت انس اور برا بن عازب سے بھی آئی ہے جسکی ابن عساکر نے تخریج کی ہے

اور مرسل بھی آئی ہے

اسکی اسناد بعض ضعیف ہیں اور بعض کو اکٹھا کیا جائے تو یہ روایت حسن درجہ کو پہنچتی ہے

(تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة ، امام ابن عراق الكناني)

اسی طرح امام سیوطی نے بھی اس روایت کو کثیر طرق کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے

امام سیوطی اپنی مشہور تصنیف اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة میں اس روایت کے متعلق ابن عدی کا کی جرح نقل کرتے ہیں :

(ابْن عدي) حَدَّثَنَا مُوسَى بْن إِبْرَاهِيم حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن عَرَفَة حَدَّثَنَا عَبْد الله بْن إِبْرَاهِيم الْغِفَارِيّ عَن عَبْد الرَّحْمَن بْن زيد بْن أسلم عَن سَعِيد بْن أبي سَعِيد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعا: عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَمَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلا وَجَدْتُ فِيهَا مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ مِنْ خَلْفِي، لَا يَصِحُّ: الْغِفَارِيّ يضع وَشَيْخه ضَعِيف بِاتِّفَاق.

ابن عدی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں اس میں الغفاری حدیث گھڑنے والا اور اسکا شیخ بالاتفاق ضعیف ہے

ابن عدی کاتعاقب کرتے ہوئے امام سیوطی فرماتے ہیں :

(قلت) الَّذِي أستخير الله فِيهِ الحكم عَلَى هَذَا الحَدِيث بالْحسنِ لَا بِالْوَضْعِ وَلَا بالضعف لِكَثْرَة شواهده.

میں سیوطی کہتا ہوں کہ اللہ کی کرم سے یہ حدیث حکم حسن میں آتی ہے نہ ہی یہ وضع کردہ ہے اور نہ ہی ضعیف ہے بلکہ اسکے کثرت سے شواہد موجود ہیں

اسکے بعد امام سیوطی اس روایت کے باسند متعدد شواہد ذکر کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں :

1۔ قَالَ الْخَطِيبُ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ من رِوَايَة الْأَعْمَش عَن أبي صالِح عَن أبي سَعِيد وَعَن رِوَايَة أبي مُعَاويَة عَن الْأَعْمَش تفرد بروايته مُحَمَّد بْن عَبْد الله الْمهرِي إِن كَانَ مَحْفُوظًا عَنْهُ عَن الْحَسَن بْن عَرَفَة وَكَانَ الْمهرِي ثِقَة ونراهُ غَلطا وَصَوَابه مَا أخبرناهُ الْحَسَن بْن عَليّ الْجُورِي أَنْبَأنَا عُمَر بْن أَحْمَد الْوَاعِظ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيم بْن حَمَّاد بْن إِسْحَاق بْن إِسْمَاعِيل بْن حَمَّاد بْن زيد حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن عَرَفَة حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاويَة الضَّرِير عَن الْأَعْمَش عَن مُجَاهِد عَن ابْن عَبَّاس قَالَ قَالَ رَسُول الله مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلا رَأَيْتُ فِيهَا مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ.

قَالَ الْخَطِيب وللحسن بْن عَرَفَة فِيهِ إسنادٌ آخر ثُمَّ أورد الطَّرِيق الَّتِي أوردهَا المُصَنّف من حَدِيث أبي هُرَيْرَةَ انْتهى.

2۔ قَالَ الْبَزَّار فِي مُسْنده حَدَّثَنَا قُتَيْبَة بْن الْمَرْزُبَان حَدَّثَنَا عَبْد الله بْن إِبْرَاهِيم هُوَ الْغِفَارِيّ حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَن بْن زيد بْن أسلم عَن أَبِيهِ عَن ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله: لَمَّا عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلا وَجَدْتُ اسْمِي فِيهَا مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ مِنْ خَلْفي،

(اس میں الغفاری متروک ہے )

3۔ قَالَ ابْن شاهين فِي السّنة أَنْبَأنَا إِبْرَاهِيم بْن حَمَّاد بْن إِسْحَاق بْن إِسْمَاعِيل بْن حَمَّاد بْن زيد قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن عَرَفَة حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاويَة الضَّرِير عَن الْأَعْمَش عَن مُجَاهِد عَنِ ابْن عَبَّاس قَالَ قَالَ رَسُول الله: مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلا رَأَيْتُ فِيهَا مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ

(اس سند کے سارے راوی ثقہ ثبت رجال ہیں لیکن الاعمش مدلس ہیں اور یہ احتمال ہے کہ مجاہد سےتدلیس نہ کی ہو لیکن اس روایت کے اتنے کثیر شواہد ہیں جن میں متروک راوی نہیں تو اصول محدثین کے مطابق جب مدلس کی روایت کے شواہد مل جائیں تو تدلیس مضر نہیں ہوتی)

وَمن حَدِيث أبي الدَّرْدَاء أَخْرَجَهُ الدَّارَقُطْنِيّ فِي الْأَفْرَاد قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَامِد الْحَضْرَمِيّ حَدَّثَنَا عُمَر بْن إِسْمَاعِيل بْن مجَالد.

4۔ قَالَ الدَّارَقُطْنِيّ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن أَحْمَد بْن أَسد الْهَرَويّ حَدَّثَنَا السّري بْن عَاصِم قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن فُضَيْل عَن ابْن جريج عَن عَطَاءٍ عَن أبي الدَّرْدَاء عَن النَّبِيّ قَالَ: رأيتُ لَيْلَة أسرِي بِي فِي الْعَرْش فريدة خضراء فِيهَا مَكْتُوب بِنور أَبيض لَا إِلَه إِلا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بكر الصّديق.

قَالَ الدَّارَقُطْنِيّ: تفرد بِهِ ابْن فُضَيْل ابْن جريج لَا أعلم أحدا حدَّث بِهِ غير هذَيْن.

وَأوردهُ الْمُؤلف فِي الواهيات من طَرِيق السّري وَقَالَ لَا يَصح.

قَالَ ابْن حبَان: لَا يحل الاحتجاجُ بالسري بْن عَاصِم.

(دارقطنی کہتے ہیں کہ اس روایت میں تفرد ہے فضیل کا ابن جریج کے بارے علم نہیں کہ ان سے اور کوئی روایت کرتا ہویہ روایت اور دارقطنی نے الواھیات میں اس سند کے متعلق سری کے بارےے کہا ہے کہ یہ صحیح نہیں

اور ابن حبان نے کہا ہے کہ سری بن عاصم سے احتجاج نہین ہو سکتا

اور میں (اسد الطاوی) یہ کہا ہوں کہ اس سند میں ابن جریج تیسرے درجے کے مدلس ہیں باقی اس روایت میں متروک درجے کا کوئی راوی نہیں اور تدلیس مضر نہیں کیونکہ کثرت سے شواہد موجود ہیں )

5۔ وَقَالَ الديلمي فِي مُسْند الفردوس أَنْبَأنَا أَحْمَد عَن أبي مَنْصُور الْمُحْتَسب عَن الْفضل بْن الْفضل عَن إِبْرَاهِيم بْن مُحَمَّد بْن عُبَيْد بْن جُهَيْنَة الشهروري عَن أَزْهَر بْن زفر عَن عَبْد الْمُنعم بْن بشير عَن عَبْد الرَّحْمَن بْن زيد بْن أسلم عَن أَبِيهِ عَن عَطاء بْن يسَار عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُول الله: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي حَوْلَ الْعَرْشِ مَكْتُوبًا آيَةُ الْكُرْسِيِّ إِلَى {الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ} مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ بِأَلْفَيْ عَامٍ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى أَثَرِهِ.

(اس سند میں بھی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے)

6۔ َقَالَ الْخُتلِي فِي الديباج حَدَّثَنَا نصر بْن جريش حَدَّثَنَا أَبُو سهل مُسْلِم الْخُرَاسَانِي عَن عَبْد الله بْن إِسْمَاعِيل عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُول الله: مَكْتُوبٌ عَلَى سَاقِ الْعَرْشِ لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَوَزِيرَاهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَعُمَرُ الْفَارُوقُ.

(مرسل)

7۔ وَقَالَ الْخَطِيب أَنْبَأنَا القَاضِي أَبُو الْعَلَاء الوَاسِطِيّ أَنْبَأنَا أَحْمَد بْن جَعْفَر بْن مُحَمَّد بْن الْفرج الْمقري حَدَّثَنَا أَبُو حَامِد أَحْمَد بْن رَجَاء بْن عُبَيْدَة حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن مُحَمَّد البردعي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّد خِدَاش بْن مخلد بْن حسان الْبَصْرِيّ أَنْبَأنَا عُبَيْد بْن عَبَّاس الْمَكِّيّ عَن ابْن جريج عَن عَطاء عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُول الله: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى الْعَرْشِ لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عُمَرُ الْفَارُوقُ

(ابن جریج مدلس ہے تیسرے طبقے کا )

8۔ وَقَالَ ابْن عَسَاكِر أَنْبَأنَا أَبُو مُحَمَّد الْأَكْفَانِيِّ حَدَّثَنَا عَبْد الْعَزِيز الكتاني أَنْبَأنَا أَبُو الْقَاسِم عَبْد الْوَهَّاب بْن مُحَمَّد بْن مَيْمُون الْعمريّ حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن صالِح بْن جَابِر بْن عَليّ حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَة عَبْد الْجَبَّار بْن الْحَسَن بْن مُحَمَّد الطلخي وَأَبُو مُحَمَّد الْحَسَن بْن مُحَمَّد الضَّبِّيّ الْمَعْرُوف بِابْن أبي كنَانَة قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاس مُحَمَّد بْن أَحْمَد الْأَثْرَم حدَّثَنِي الْحَسَن بْن دَاوُد بْن عَمْرو عَن الْحَارِث بن زِيَاد الْمحَاربي عَنْ أنس قَالَ قَالَ رَسُول الله مَكْتُوبٌ عَلَى سَاقِ الْعَرْشِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ

9۔ وَقَالَ ابْن عَسَاكِر أَنْبَأنَا أَبُو عَبْد الله الغروي أَنْبَأنَا سَعِيد بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد الْبُحَيْرِي أَنْبَأنَا وَالِدي أَنْبَأنَا أَبُو تَدْرُونَ مَا عَلَى الْعَرْشِ مَكْتُوبٌ لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عُمَرُ الْفَارُوقُ عُثْمَانُ الشَّهِيدُ عَلِيٌّ الرَّضِيُّ وَالله أعلم.

پس ثابت ہوا اس روایت میں ایسی کوئی علت نہیں جسکی وجہ س یہ روایت حسن لذاتہ کے درجہ کو نہ پہنچے تحقیقا اور محدثین ک اصول ک مطابق یہ روایت حسن بنتی ہے

تحقیق: اسد الطحاوی البریلوی