تمنائے مدینہ

نبھالو تم نبھالو تم نبھالو یا رسول اللہ

بلالو اب مدینے میں بلالو یا رسول اللہ

ستاتے ہیں جو دنیا والے اس کا کچھ نہیں ہے غم

مجھے بس اپنا کہہ کر تم بلا لو یا رسول اللہ

سنہری جالیوں کے سامنے پہنچا ہوں میں آقا

مجھے اپنی زیارت تم کرادو یا رسول اللہ

عطا ہو علم کی دولت عطا ہو دید کی دولت

دم آخر مدینہ بھی عطا ہو یا رسول اللہ

شفاعت کا سوالی ہوں، سوالی ہوں میں رحمت کا

اجابت سے نوازو تم نوازو یا رسول اللہ

تصدق غوث اعظم کا توسل اعلیٰحضرت کا

بقیع پاک کے قابل بنادو یا رسول اللہ

میری قسمت بری ہو تو خدارا تم بھلی کر دو

سنوارو میری قسمت کو سنوارو یا رسول اللہ

معینِ راہِ طیبہ ہیں میرے خواجہ معین الدین

معینِ راہِ جنت بھی بنا دو یا رسول اللہ

نگاہِ مفتیٔ اعظم نے زندہ کر دیا دل کو

انہیں کا ساتھ محشر میں عطا ہو یا رسول اللہ

کرم سے مفتیٔ اعظم کے پہنچا ہوں میں اس در پہ

انہیں کا ساتھ محشر میں عطا ہو یا رسول اللہ

تمنا یہ لئے جاتا ہے آقا شاکرِؔ رضوی

اسے اذنِ مدینہ پھر عطا ہو یا رسول اللہ