أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

اور جن مسلمانوں نے آپ کی پیروی کی ہے ان کے لئے اپنی رحمت کے بازو جھکا کر رکھیئے

خطا کاروں کے لئے استغفار اور منکروں سے برأت 

اور جن مسلمانوں نے آپ کی پیروی کی ہے ان کے لئے اپنی رحمت کے بازو جھکا کر رکھئے۔ (الشعرائ : ٢١٥)

اس آیت میں بازو کے لئے جناح کا لفظ ہے۔ جناح کے معنی ہیں بازو اور پرندہ کا پر۔ کسی چیز کے پہلو اور جانب کو بھی جناح کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ : (الانعام : ٣٨)… اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دو پروں کے ساتھ اڑتا ہو۔

جنا حا السفینۃ کا معنی ہے کشتی کی دو جانبیں اور جناحا العسکر کا معنی ہے لشکر کی دو طرفیں۔

ترجمہ : (طٰہٰ : ٢٢ )…اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو کے ساتھ ملایئے۔

ترجمہ : (بنی اسرائیل : ٢٤ )… اور ماں باپ پر رحمت کے لئے تواضع کا بازو جھکائے رکھنا۔

اس آیت میں جناح کے لفظ میں استعارہ ہے کیونکہ ذلت کی دو قسمیں ہیں ایک وہ ذلت ہے جو انسان کا مرتبہ پست کرتی ہے ‘ جیسے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور دوسری وہ ذلت ہے جو انسان کا مرتبہ بلند کرتی ہے جیسے اللہ کے سامنے سر جھکانا۔ یہاں جناح کے لفظ میں استعارہ ہے کیونکہ ماں باپ کے سامنے ذلت اختیار کرنے سے انسان کا مرتبہ بلند ہوتا ہے۔ انسان جب ماں باپ پر رحم کرنے کے لئے ذلت اور عاجزی اختیار کرے گا تو یہ ذلت اس کو اڑا کر اللہ کی بارگاہ میں لے جائے گی اور اس کا مرتبہ اللہ کے نزدیک بلند کردے گی۔

اور زیر تفسیر آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ مومنوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور ان کو عفو اور درگزر کے دامن میں چھپا لیں۔ ان کی تقصیرات سے صرف نظر کریں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں۔ ان کی خطائوں کو معاف کریں۔ اور ان کے لئے استغفار اور شفاعت کریں۔ اس کے بعد فرمایا :

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 215