أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَؕ ۞

ترجمہ:

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اور بیشک وہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر خود عمل نہیں کرتے۔ (الشعرائ ٦٢٢۔ ٤٢٢ )

شعر کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور شعر کی تاریخ 

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

شعر کا معنی معروف اور مشہور ہے اور اس کی جمع اشعار ہے ‘ شعر اصل میں بال کو کہتے ہیں ‘ اور بال بہت باریک ہوتا ہے ‘ اور اشعار میں بھی بہت دقیق اور باریک مضمون ہوتا ہے اس لیے ان کو شعر اور شاعری کہتے ہیں۔ شعر کا عرفی معنی ہے ‘ وہ کلام جو موزون اور مقفیٰ ہو ‘ قرآن مجید میں بعض سورتیں موزون اور مقفی ہیں۔ تبت یدآ ابی لھب وتب۔ مآ اغنی عنہ مالہ وماکسب۔ سیصلی نارا ذات لھب۔ وامراتہ ط حمالۃ الحطب۔ (اللہب ٤۔ ١) اسی طرح یہ سورة ہے انآ اعطینک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ھوالابتر۔ (الکوثر : ٣۔ ١) اسی طرح اور سورتیں بھی ہیں ‘ اور بعض سورتوں کی عبض آیات کے آخری الفاظ بھی ایک وزن پر ہوتے ہیں اس وجہ سے ‘ کفار مکہ قرآن مجید کو شعر اور آپ کو شاعر کہتے تھے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ سارا قرآن مجید کلام موزون اور کلام مقفیٰ مسجع نہیں ہے ‘ اور نہ اس سے ان کا کوئی مقصد پورا ہوتا تھا کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے ‘ اور عرب شعر کو جھوٹ سے اور شاعر کو جھوٹے سے تعبیر کرتے تھے حتی کہ وہ جھوٹے کلام کو اشعار کہا کرتے تھے اور اسی اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے شعراء کے متعلق فرمایا کہ ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘ اور کیونکہ اشعار جھوٹے کلام پر مشتمل ہوتے ہیں اس وجہ سے عرب کہتے ہیں کہ سب سے اچھا شاعروہ ہے جو سب سے بڑا جھوٹا ہو۔ (المفردات ج ١ ص ٥٤٣‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ٨١٤١ ھ)

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٦١٨ ھ لکھتے ہیں :

لغت میں شعر کا معنی علم ہے اور اصطلاح میں اس کلام کو شعر کہتے ہیں جس میں قصداً کلام کے آخری الفاظ کو ایک وزن اور ایک قافیہ پر لایا گیا ہو اور اگر کسی کلام کا آخر بغیر قصد کے ایک وزن پر ہو تو اس کو شعر نہیں کہا جاتا۔ اس لحاظ سے یہ آیت شعر نہیں ہوگی۔ الذی انقض ظھرک۔ ورفعنا لک ذکرک ط (الم نشرح : ٤۔ ٣) یہ کلام بھی مقفی اور موزوں ہے لیکن یہ شعر نہیں ہے کیونکہ اس آیت کے آخری الفاظ کو قصداً ایک وزن پر نہیں لایا گیا ‘ اسی طرح دوسری آیات بھی جو موزون اور مقفی ہیں وہ اشعار نہیں ہیں ‘ کیونکہ ان کو موزون اور مقفی لانے کا مقصد نہیں کیا گیا اور منطقیوں کی اصطلاح میں شعر اس کلام کو کہتے ہیں جو خیالی باتوں سے بنایا جائے اور اس غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی کو کسی چیز پر ا اغب کیا جائے یا کسی کو کسی چیز سے متنفر کیا جائے۔ (التعریفات ص ٢٩۔ ١٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)

قاضی عبدالنبی بن عبد الرسول احمد نگری لکھتے ہیں :

لغت میں شعر کا معنی جاننا ہے ‘ اور اصطلاح میں اس کلام کو شعر کہتے ہیں جس میں کلمات کو ایک وزن پر لانے کا قصد کیا گیا ہو ‘ اس تعریف کے اعتبار سے قرآن مجید شعر نہیں ہے ‘ مورخین نے کہا ہے کہ سب سے پہلا شعر حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا تھا جب قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تھا تو انہوں نے اس کے غم میں یہ اشعار کہے :

تغیرت البلاد ومن علیھا فوجہ الارض مغبر قبیح 

تغیر کل ذی طعم ولون وقل بشاشۃ الوجہ الملیح 

وھابیل اذاق الموت فانی علیک الیوم محزون قریح 

(تمام شہر اور ان کے رہنے والے متغیر ہوگئے ‘ زمین کا چہرہ غبار آلود اور خراب ہوگیا ‘ ہر ذائقہ والی اور رنگ دار چیز متغیر ہوگئی اور چہروں کی بشاشت اور ملاحت کم ہوگئی۔ اے ہابیل تو نے موت کا ذائقہ چکھ لیا اور تجھ پر میری طبیعت غمزدہ اور ملول ہے۔ )

قاسم بن سلام بغدادی نے کہا سب سے پہلا شعر حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے یعرب بن قحطان نے کہا اور فارسی میں سب سے پہلا شعر بہرام گورنے کہا اور ایک قول یہ ہے کہ سب سے پہلے جس نے مدح اور تعریف میں قصائد کی بنیاد رکھی وہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں خراسان ‘ بخارا اور ہر ات کے سلطان احمد بن نوح السامانی کا درباری تھا اسکا نام رود کی تھا۔ (دستور العلماء ج ٢ ص ٨٥١۔ ٧٥١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

نیک لوگوں کی پیروی کرنے سے آپ کی نبوت کے برحق ہونے پر استدلال 

کفار قریش قرآن مجید کو شعر و شاعری کہا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاعر نہیں ہیں اور قرآن مجید شعر نہیں ہے کیونکہ شعر اء کی پیروی تو جاہل اور گمراہ لوگ کرتے ہیں اور ہمارے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو ہجو کرتے تھے اور اسلام کی مذمت کرتے تھے ‘ اور جاہل عرب ان کی پیروی کرتے تھے اور ان کی کی ہوئی ہجو اور مذمت کو یاد کرلیتے تھے ‘ اور اپنی مجلس میں ان اشعار کو دہراتے تھے اور ہنستے تھے۔

کفار قریش جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کہتے تھے اور قرآن مجید کو شعر کہتے تھے ‘ ان کا یہ مقصد نہیں تھا کہ قرآن مجید کلام موزون اور مقفی ہے بلکہ ان کے نزدیک اشعار میں خیالی باتیں اور جھوٹی باتیں ہوتی ہیں اور ان کے نزدیک جنت اور دوزخ کے مناظر محض افسانے اور خیالی باتیں تھیں اور مرنے کے بعد اٹھنے کا قصہ بھی جھوٹ تھا ‘ قیامت ‘ حساب و کتاب ‘ اور عذاب وثواب کی کیفیات ان کے نزدیک صرف خیالی باتیں اور جھوٹ تھیں اس وجہ سے وہ قرآن مجید کو شعر و شاعری اور جھوٹ سمجھتے تھے ‘ اور چونکہ شعر و شاعری جھوٹ اور خیالی باتیں اور ھوٹ تھیں اس وجہ سے وہ قرآن مجید کو شعر و شاعری اور جھوٹ سمجھتے تھے ‘ اور چونکہ شعر و شاعری جھوٹ اور خیالی باتیں ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں ‘ کیونکہ شاعر کو اگر اپنے ممدوح سے انعام و اکرام کی طمع ہو تو وہ اپنے ممدوح کی مدح اور تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا ہے خواہ اس کا ممدوح کتنا ہی برا اور بےکار شخص ہو اور اگر وہ کسی شخص سے بغض رکھتا ہو تو وہ اس میں زمانے بھر کے کیڑے نکالے گا خواہ وہ کتنا ہی نیک اور اچھا شخص ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 224