أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ اِلَّا لَهَا مُنۡذِرُوۡنَ‌‌‌‌‌ ۞

ترجمہ:

ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا اس کے لئے عذاب سے ڈرانے والے (بھیجے گئے) تھے

جرم کے بغیر بھی عذاب دینا اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں ہے 

اس کے بعد فرمایا : ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ‘ اس کے لئے عذارانے والے (بھیجے گئے) تھے۔ ان کو یاد کرانے کے لئے اور ہم ان پر ظلم کرنے والے نہ تھے۔ (الشعرائ : ٢٠٩۔ ٢٠٨)

اس آیت میں جمع کے صیغے کے ساتھ منذرون فرمایا ہے اور اس سے مراد ہر بستی میں بھیجے جانے والے نبی اور ان کے متبعین ہیں جو لوگوں کو عذاب سے ڈرانے میں اپنے نبی کی مدد کرتے تھے ‘ پھر فرمایا ان کو یاد کرانے کے لئے ‘ یعنی ان کو وعظ اور نصیحت سنانے کے لئے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لئے ‘ اور فرمایا اور ہم ان پر ظلم کرنے والے نہ تھے یعنی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی ایسے شخص کو ہلاک کردیا جس نے ظلم نہ کیا ہو۔ اس آیت کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر ہم کسی بستی کو اس میں ڈرانے والوں کو بھیجنے سے پہلے ہلاک کردیتے تو یہ ظلم ہوتا ‘ جبکہ ہم کسی بستی کو اس وقت ہلاک کرتے ہیں اور اس وقت اس پر عذاب بھیجتے ہیں جب ہم اس بستی میں عذاب سے ڈرانے والوں کو بھیج دیں اور وہ لوگ پھر بھی کفر و شرک اور برے کاموں کو نہ چھوڑیں۔ ہرچند کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی ڈرانے والے کو نہ بھیجے اور اس کے بغیر کسی بستی پر عذاب بھیج کر اس کو ہلاک کردے تو یہ بھی اس کا ظلم نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا مکالک ہے اور مالک اپنی مملوک میں جو چاہے تصرف کرے۔ اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور یہ اس کا ظلم نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ظلم سے اپنی کمال نزاہت اور برات کو ظاہر کرنے کے لئے اس طرح فرمایا ‘ اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :

ابن الدیلمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن ابی کعب (رض) کے پاس گیا اور کہا میرے دل میں تقدیر کے متعلق ایک شبہ پیدا ہوگیا ہے۔ آپ مجھے کوئی حدیث سنایئے تاکہ اللہ تعالیٰ میرے دل سے اس شبہ کو نکال دے۔ انہوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان والوں کو اور تمام زمین والوں کو عذاب دے تو وہ ان کو عذاب دے گا اور یہ اس کا ظلم نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم فرمائے تو اس کی ان پر رحمت ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے اور اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردو ‘ تو اللہ اس کو اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا حتیٰ کہ تم تقدیر پر ایمان لے آئو اور تم یہ یقین رکھو کہ جو مصیبت تم کو پہنچی ہے وہ تم سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو چیز تم سے ٹل گئی وہ تم کو پہنچنے والی نہ تھی اور اگر تم اس کے خلاف عقیدہ پر مرے تو تم دوزخ میں داخل ہو جائو گے۔ ابن الدیلمی نے کہا پھر میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا ‘ پھر میں حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اس طرح کہا ‘ پھر میں حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح حدیث روایت کی۔(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ١٨٦‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٢٧‘ الشریعتہ للآجری ص ١٨٧‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤٩٤٠‘ السنن الکبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ٢٠٤)

انسان کو خیر اور شر کا اختیار عطا فرمانا 

امام ابو منصور ماتریدی نے التاویلات النجمیہ میں کہا ہے کہ اس آیت میں جس قریہ (بستی) کا ذکر ہے اس قریہ سے مراد انسان کا جسم ہے اور قریہ میں رہنے والوں سے مراد نفس ‘ قلب اور روح ہے اور ان کو ہلاک کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی یعنی اس کے احکام اور اس کی ممنوعات کے تقاضوں پر عمل کرنے کو ترک کردیتے ہیں۔ اس کے دیئے ہوئے حکم کو بجا نہیں لاتے اور جس چیز سے اس نے منع کیا ہے اس کو ترک نہیں کرتے تو اللہ ت عالیٰ نے ان انسانوں کے دلوں میں اور ان کی روحوں میں جو نیکی کی صلاحیت پیدا کی ہے اس کو اللہ تعالیٰ ضائع کردیتا ہے اور یہ جو فرمایا ہے کہ وہ بستی والوں کو اس بستی میں ڈرانے والوں کو بھیجنے کے بعد اس بستی کو ہلاک کرتا ہے ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ انسان کے دل میں نیکی کا الہام کرتا ہے اور اس کے ضمیر میں برائی پر ملامت کرنے کو پیدا کرتا ہے ‘ اور اس کا دل اور اس کا ضمیر اس کو برائی پر جھنجھوڑتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے احکام یاد دلاتے ہیں اور جب وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کان نہیں دھرتا اور مسلسل ایسا ہی کرتا ہے تو پھر اس کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے اور پھر اس سے کوئی آواز نہیں آتی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں جو نیکی کی صلاحیت رکھی تھی وہ فاسد اور ضائع ہوجاتی ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے :

ترجمہ : (الشمس : ٨۔ ٧)… قسم ہے نفس کی اور اس کو درست بنانے کی۔ پھر نفس کو بدکاری کی اور اس سے بچنے کی سمجھ دینے کی۔

ترجمہ : (البلد : ٢٠۔ ٧)… کیا ہم نے انسان کی دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں بنائے) ۔ ہم نے انسان کو دونوں راستے دکھا دیئے۔ سو وہ (خیر کی) گھاٹی (راہ) میں داخل نہیں ہوا۔ اور وہ کیا سمجھا کہ (خیر کی) گھاٹی (راہ) کیا ہے۔ کسی (لونڈی یا غلام) کی گردن کو آزاد کرنا۔ بھوک والے دن کھانا کھلانا۔ کسی یتیم رشتہ دار کو۔ یا خاک پر پڑے ہوئے مسکین کو۔ پھر وہ کامل مومنین میں سے ہوجاتا جو ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں۔ یہی لوگ دائیں طرف والے (نیک بخت) ہیں۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا وہ بائیں طرف والے (بدبخت) ہیں۔ ان پر چاروں طرف سے گھری ہوئی آگ ہوگی۔

اور فرمایا : ہم ان پر ظلم کرنے والے نہ تھے کہ عذاب کو عذاب کی جگہ پر نہ رکھتے یا رحمت کو رحمت کی جگہ نہ رکھتے یا غیرمستحق کو عذاب دیتے یا کفار ‘ مرتدین اور منافقین کو ثواب عطا فرماتے اور صحیح یہ ہے کہ نیک لوگوں کو ثواب عطا فرمانا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور بدکاروں کو عذاب دینا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 208