أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ فَاِنِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

سوا اس کے جس نے ظلم کیا پھر اس نے برائی کے بعد کوئی نیکی کی تو بیشک میں بہت بخشنے والا ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اس کے جس ظلم کیا ‘ پھر اس نے برائی کے بعد کوئی نیکی کی تو بیشک میں بہت بخشنے والا ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہوں۔ (النمل : ١١)

قبطی کے قتل کو ظلم فرمانے کی تحقیق 

امام محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) کے جن افعال کو قرآن مجید میں ظلم فرمایا ہے اس سے مراد ترک افضل ہے یا گناہ صغیرہ (صحیح یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے کسی قسم کا کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا۔ صغیرہ نہ کبیرہ ‘ نبوت سے پہلے نہ نبوت کے بعد ‘ سہواً عمداً ) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لطیف پیرایہ میں تعریض کرنا مقصود ہو ‘ حسن بصری نے کہا خدا کی قسم ! حضرت موسیٰ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے قبطی کو قتل کر کے ظلم کیا تھا ‘ پھر انہوں نے اس ظلم کو نیکی سے تبدیل کیا۔ قرآن مجید میں ہے :

رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ ط (القصص : ٦١) اے میرے رب ! بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو تو مجھ کو معاف فرما پس اللہ نے ان کو معاف فرمادیا۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٤٤٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

امام رازی نے حسن بصری کا جو قول نقل کیا ہے ‘ وہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قبطی کو ارادۃً قتل نہیں کیا تھا اور نہ عادۃً کوئی شخص ایک گھونسے سے ہلاک ہوجاتا ہے ‘ حضرت موسیٰ ے اس قبطی کو تادیباً گھونسا مارا تھا وہ شخص قضاء الہٰی سے مرگیا اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ فعل قتل عمد تھا ‘ نہ ظلم تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس کو ظلم کہنا اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں غایت تواضع اور انتہائی عجز و انکسار کا اظہار ہے۔ اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) ربنا ظلمنا فرمانا بھی ادب اور تواضع کے لیے تھا اور اس تعلیم کے لیے تھا کہ ان سے اگر کوئی فعل اجتہادی خطا کی بنا پر بھی صادر ہوجائے تو وہ اس کو بھی ظلم اور ذنب قرار دیتے ہیں ‘ حالانکہ عام مسلمانوں کو بھی اجتہادی خطا پر اجر ملتا ہے اور اس کو ظلم اور گناہ نہیں کہا جاتا تو ان کی اجتہادی خطاء کو ظلم کہنا کس طرح جائز ہوگا ! اور اس میں ہمارے لیے یہ تعلیم ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اجتہادی خطا پر اس قدر اظہار ندامت اور توبہ اور استغفار کرتے ہیں تو ہمیں اپنی عمداً خطائوں پر کس قدر زیادہ توبہ اور استغفار کرنا چاہیے۔

عوام اور خواص کے معاصی کا فرق 

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ٧٣١١ ھ اس مقام پر لکھتے ہیں :

الفتوحات المکیہ میں مذکور ہے کہ خواص کے معاصی عوام کے معاصی کی طرح نہیں ہیں ‘ کیونکہ عوام کے معاصی ان کی شہوت طبعیہ کی وجہ سے ہوتے ہیں اور خواص کے معاصی تاویل میں خطا کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی عارف بالل میں گناہ پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے نزدیک کسی تاویل سے اس فعل کو مزین کردیتا ہے۔ کیونکہ عارف کی معرفت اس کو بغیر تاویل کے گاہ کے ارتکاب سے بازرکھتی ہے ‘ کیونکہ عارف باللہ کبھی کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا ‘ پھر جب وہ کسی تاویل سے اس فعل کا ارتکاب کرلیتا ہے تو اس کے بعد اس پر منکشف ہوتا ہے کہ اس کی وہ تاویل صحیح نہیں تھی ‘ اور درحقیقت اس فعل کا ارتکاب جائز نہیں تھا ‘ جیسا کہ شجر ممنوع سے کھانے کے لیے حضرت آدم (علیہ السلام) نے یہ تاویل کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس خاص درخت سے کھانے سے درخت سے کھانے سے منع فرمایا تھا اگر میں اس نوع کے کسی اور درخت سے اس کا پھل ھالوں تو یہ جائز ہے اور ممنوع نہیں ہے ‘ اور بعد میں ان پر یہ منکشف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس نوع کے تمام درختوں سے کھانے سے منع فرمایا تھا ‘ یا انہوں نے یہ تاویل کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا منع فرمانا تنزیہاً تھا اور بعد میں ان پر منکشف ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا منع فرمانا تھا ‘ یا انہوں نے یہ تاویل کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا منع فرمانا تنزیہاً تھا اور بعد میں ان پر منکشف ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا منع فرمانا تحریماً تھا اس لیے انہوں نے بعد میں اس پر توبہ کی اور استغفار کیا اور تاویل میں شبہ کی وجہ سے ان کا یہ فعل گناہ نہیں تھا ‘ جیسے ایک وقت میں کوئی مفتی یا مجتہد یہ سمجھے کہ غیر مسلم بینک سے سود کھانا جائز ہے یا قوالی سنناجائز ہے یا وڈیو بنوانا اور تصویر کھنچوانا جائز ہے اور بعد میں اس پر یہ منکشف ہو کہ یہ تمام امور ناجائز اور گناہ ہیں تو جب اس نے اپنے دلائل کی بنا پر یہ کام کیے تھے تو ان پر مواخذہ نہیں ہوگا خواہ اس کے دلائل غلط ہوں اور خطا پر مبنی ہوں ‘ ہاں اپنے فکر کی غلطی پر مطلع ہونے کے بعد اگر ان کاموں کو کرے گا تو پھر گناہ ہوگا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ کسی بندہ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی تاویل کے یا بغیر کسی فعل کی خوشنمائی کے یا بغیر غفلت یا نسیان کے عمداً کوئی گناہ کرے ‘ حضرت بایزید بسطامی سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص جو عارف باللہ ہو ‘ اور اہل کشف میں سے ہو آیا وہ اللہ تعالیٰ کی کوئی معصیت کرسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! یہ اللہ کی تقدیر سے ہے اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مقدر رک دیا ہے وہ ہو کر رہتی ہے ‘ اور جب کسی عارف باللہ سے کوئی قصور ہوجائے تو وہ قصور کسی تاویل کی بنا پر ہوگا یا تزیین کی بنا پر ‘ اور تزیین کا معین یہ ہے کہ اس کے نفس نے اس کے لیے اس فعل کو خوشنما بنادیا اور اس فعل کے ارتکاب کے وقت وہ اس بات سے غافل ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل سے منع کیا ہے ‘ یا اس کی نگاہوں سے اس وقت وہ عذاب اوجھل ہوگیا جو عذاب اس فعل پر مرتب ہونا تھا۔ (روح البیان ج ٦ ص ٦١٤‘ ملخصا و مضحاً ‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 11