أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ زَيَّـنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ‘ ہم نے ان کے کاموں کو ان کے لیے خوش نما بنادیا ہے پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے کاموں کون کے لیے خوش نما بنادیا ہے پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (النمل : ٥۔ ٤)

جب کفریہ کاموں کو اللہ تعالیٰ نے مزین فرمایا ہے تو پھر ان کی مذمت کیوں کی جاتی ہے ؟

قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ مومنوں کا اور کافروں کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے ‘ کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے ‘ اس سے پہلی آیت میں مومنوں کا ذکر فرمایا تھا کہ یہ (قرآن) ان ایمان والوں کے لیے ہدیت اور بشارت ہے ‘ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اس آیت میں کافروں کا ذکر فرمایا ہے کہ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ‘ ہم نے ان کے کاموں کو ان کے لیے خوش نما بنادیا ہے پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اس آیت کے ظاہر پر دو اعتراض ہوتے ہیں ‘ ایک اعتراض تو یہ ہے کہ جب کافروں کے کاموں کو اللہ تعالیٰ نے ہی ان کے لیے خوش نما بنادیا اور مزین کردیا ہے تو پھر اگر کافروں نے وہ کام کرلیے تو پھر ان کو ملامت اور ان کی مذمت کیوں کی جار ہی ہے اور ان کو ان کاموں پر عذاب کی وعید کیوں سنائی جا رہی ہے ‘ اور دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے ان کے کاموں کو مزین کرنے کی اپنی طرف نسبت کی ہے ‘ اور دوسری آیتوں میں ان کاموں کو مزین کرنے کی شیطان کی طرف نسبت کی ہے قرآن مجید میں ہے :

واذ زین لہم الشیطن اعمالھم (الانفال : ٨٤) اور جب شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کردیا۔

فلو لآ اذ جآء ھم با سنا تضرعوا ولکن قست قلوبہم وزین لہم الشیطن ماکانوا یعملون۔ (الحجر : ٩٣) (شیطان نے) کہا : اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو مجھے بھی قسم ہے کہ میں ان کے لیے ضرور زمین میں میں گناہوں کو مزین کر دوں گا ‘ اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا۔

پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہم کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور بندوں کے اعمال کا بھی وہی خالق ہے ‘ اور بندہ جس عمل کو کرنے کا ارادہ کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس بندے کے لیے اس عمل کو پیدا کردیتا ہے ‘ سو جب کافروں نے شرک ‘ کفر اور دیگر برے اعمال کو اچھا نام تو اللہ تعالیٰ نے ان کی نگاہوں میں ان کفریہ اعمال کا حسن پیدا کردیا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ جب کفار نے تسلسل اور تواتر کے ساتھ کفر اور شرک کیا اور نبیوں اور رسولوں کی تکذیب ‘ تنقیص اور تضحیک کی اور آخرت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے بہ طور سزا ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان اعمال قبیحہ کو ان کی نگاہوں میں خوش نما بنادیا۔

معتزلہ نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ دراصل ان کاموں کو ان کے لیے شیطان نے مزین کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کاموں کی نسبت مجازاً ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ان کفر یہ اور قبیح اعمال پر چونکہ فوراً گرفت نہیں کی اور بڑے عرصہ تک ان کو ان کے کفر کے باوجود ڈھیل دیتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے اس مہلت دینے کو مجاز اً اس طرح تعبیر فرمایا کہ اس نے ان کے لیے ان کاموں کو مزین کرد یا۔

حسن بصری نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نیک کاموں کو مزین فرمایا تھا ‘ لیکن انہوں نے اپنے کفر کی وجہ سے ان نیک کاموں کو نہیں کیا ‘ لیکن یہ جواب درست نہیں اول تو اس لیے کہ یہ معنی سیاق وسباق کے مناسب نہیں ہے۔ دوسرے اس لیے کہ قرآن مجید میں تزیین کا اطلاق زیادہ تر برے کاموں کے لیے آیا ہے ‘ جیسے کہ ان آیات میں ہے :

زین للذین کفروالحیوۃ الدنیا۔ (البقرہ : ٢١٢) کافروں کے لیے دنیا کی زندگی میں مزین کردی گئی ہے۔

وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکآؤ ھم لیردو ھم ولیلبسوا علیہم دینھم۔ اسی طرح مشرکین کے باطل معبودوں نے مشرکین کے لیے ان کی اولاد کے قتل کرنے کو مزین کردیا ہے تاکہ وہ ان کو ہلاک کردیں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ کردیں۔

اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت کی تصدیق نہیں کرتے ‘ ہم نے برے کاموں کو ان کے لیے پسندیدہ بنادیا ہے گویا کہ وہ ان کی طبیعت کا مقتضیٰ بن گئے ہیں جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کا احاطہ تکلیف دہ چیزوں نے کیا ہوا ہے اور دوزخ کا احاطہ پسندیدہ چیزوں نے کیا ہوا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٢٨٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩٥٥٢‘ مسند احمدج ٣ ص ٤٥٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٧‘ سنن الداری رقم الحدیث : ٦٤٨٢‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٧٢٣ )

اور دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ان افعال کو مزین کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بہ اعتبار تخلیق کے ہے اور شیطان کی طرف اس کی نسبت بہ اعتبار کسب اور اس کے ارادہ کے ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 4