حضور تاج الشریعہ : خلد زارِ طیبہ میں

(حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے دوسرے عرس مبارک پر آپ کے سفرِ طیبہ کی یادوں کے نقوش تازہ کریں… دل و نگاہ جگمگائیں… حاضریِ طیبہ کی آرزو اور بڑھائیں…ان شاء اللہ تمنّا بار آور ہوگی…)

غلام مصطفٰی رضوی٭ 

    رمضان المبارک ۱٤۳۷ھ کے مبارک ایام ہیں۔ مدینہ شریف کی بہاریں۔ سنہری جالیاں ہیں۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے کرم کی حد نہیں۔ درودوں کے نغمے ہیں۔ ادب کی ساعتیں ہیں۔ یہاں دل کا حال بھی کھلا ہے۔ جذبات بھی عیاں۔ سلام پیش کیا۔ یارانِ پاک کی بارگاہ میں بھی توشۂ دل نذر کیا۔ صدیق و عمر کی شان پر سلام۔ ان کی جاں نثاری پر سلام۔ ان کی قسمت پر سلام۔باب البقیع سے باہر آئے۔ زیرِ لب “مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام” کی ڈالیاں پیش کیں۔ ایک ایک لفظ معنویت بکھیر رہا تھا۔ مفہوم دل پر کھل رہا تھا۔

    درِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر آئے۔ عصر کی گھڑیاں قریب تھیں۔خلیفۂ تاج الشریعہ مولانا عاقب فرید قادری[وصال۱۹؍جولائی ۲۰۱۸ء-مترجم کنزالایمان انگلش] سے محبی شہباز رضوی نے رابطہ کیا۔ حضور تاج الشریعہ کی مدنی قیام گاہ کا پتہ معلوم کیا۔ پھر ہوٹل ایلافِ طیبہ چل دیے؛ جہاں اخترِؔ اسلام پورے تب و تاب سے جلوہ گر تھا۔ چند ساعتوں میں قیام گاہ پہنچ گئے۔ہم ہال میں رُک گئے۔ برابر کے کمرے میں حضور تاج الشریعہ جلوہ بار تھے۔ ہال میں مولانا عاقب فریدی محبت سے ملے۔ طیبہ کی بہاروں کا تذکرہ ہوا۔ترجمہ قرآن کنزالایمان انگلش کی توسیع سے متعلق کچھ منصوبہ بندی رہی۔ علمی گفتگو جاری تھی۔ افریقہ و دیگر بلاد سے علما کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ نمازِ عصر مولانا عاقب کی اقتدا میں اداکی۔ سامنے کھڑکی سے سبزگنبد کا جلوہ نگاہوں کی تازگی بڑھاتا تھا۔ نماز سے فارغ ہوئے۔ علماے کرام سے ملاقاتیں رہیں۔ افطار کا وقت قریب ہوا۔ محفل سج گئی۔ ہال پُر ہوگیا۔ نعت و مناقب کے نذرانے۔ ہندوپاک کے نعت خواں سوز بڑھا رہے تھی۔ ابھی بزم سجی تھی کہ روشنی بڑھی۔ حضور تاج الشریعہ بزم میں تشریف لے آئے۔ سب نگاہیں اُدھر ہی تھیں جدھر شمعِ طیبہ سے نور پانے والا اخترؔ جلوے بکھیر رہا تھا۔ ان کی توجہِ خاص ہم غلاموں کی جانب مبذول تھی۔ سبحان اللہ! کیسا نورافزا سماں!ایمان کی فصل ہری بھری ہو گئی۔ طیبہ کی بہاروں میں نورانی وجود حرارتِ ایمانی بڑھا رہا تھا۔ بہت اطمینان سے آپ تشریف فرما تھے۔

    اِس درمیان ثنا خوانی جاری تھی۔ کلام الامام امام الکلام سے محبتوں کی سوغات بٹ رہی تھی۔ واقعی امام اہل سنت اعلیٰ حضرت کے اشعار کی معنویت اور روح- درِ طیبہ پر کھلتی ہے۔ ہر ہر شعر اپنے باطن کی خوشبو سے آشنائی بخشتا ہے۔ پھر حضور تاج الشریعہ نے سبز گنبد کی ان بہاروں میں داخلِ سلسلہ فرمایااور افطار کو تشریف لے گئے۔ ہم نے موجود علما و خواص کے ساتھ افطار کیا۔نمازِ مغرب باجماعت ادا کی۔ نمازکے بعد نیاز کا اہتمام تھا۔ استفادہ کیا۔ پھر مرشد کی بارگاہ سے رُخصت ہوئے۔ سبز گنبد کے جلوے نظارہ کیے۔ میقاتِ مدینہ ذوالحلیفہ پہنچے۔ احرام باندھا۔ عازمِ حرم ہوئے۔ راہ میں سحری کی۔ حرم پہنچ کر فجر و مناسکِ عمرہ ادا کیے۔

    ابھی رمضان المبارک کے سترہ روزے ہوئے تھے کہ دوبارہ طیبہ کا عزم ہوا۔ سترہویں کی دوپہر عازمِ مدینہ ہوئے۔ طیبہ کی راہیں اشعارِ رضا کے نغموں سے گُل زار بنی ہوئی تھیں۔ شام ہوئی کہ زندگی کی صبح نمودار ہو گئی۔ جانبِ بطحا سے ہوائیں چلنے لگیں۔ گرمی کی حدت کا احساس رُخصت ہوا۔ دارالشفاء سے پیامِ تازہ آنے لگے۔ جذبات مچلنے لگے۔ ارمان جوش پر آنے لگے۔ خیالات کی وادیاں زرخیز ہو گئیں۔داخلِ شہر مقدس ہوئے۔ دور سے ہی مسجدِ نبوی کے مینار نظر آنے لگے۔ ہم قیام گاہ پہنچے؛ معلوم کیا کہ حضور تاج الشریعہ طیبہ میں موجود ہیں یا ہند رُخصت ہوئے! اِس اطلاع نے غنچۂ دل کھلا دیا کہ حضور تاج الشریعہ نے قیامِ طیبہ کی مدت طویل کی۔ قافلے نے قیام کی مدت بڑھا دی۔ تشنہ لبی تھی۔ بلادِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے رُخصت گوارہ نہ تھی۔ ہوتی بھی کیسے۔  ؎

یَا قَافِلَتِیْ زِیْدِیْ اَجَلَکْ رحمے بر حسرتِ تشنہ لبک

مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

[اعلیٰ حضرت]

    ہوٹل میں اسباب رکھے۔ درِ محبوب پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دیدار کیا- پھر حضور تاج الشریعہ کے کاشانہ کو چل دیے۔ ابھی افطار کو کچھ وقت باقی تھا۔ ثنا خواں نغمے الاپ رہے تھے۔ ہوائیں چل رہی تھیں۔ سبز گنبد روبرو تھا۔ مسجد نبوی کی بہاریں۔ذکرِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے تر زبانیں۔ ایسا لگ رہا تھاجیسے پھوہار پڑ رہی ہو۔ جیسے بادل گھر رہے ہوں ۔ جیسے بارانِ رحمت برس رہی ہو۔ جیسے کلیاں چٹک رہی ہوں۔ جیسے پھول کھل رہے ہوں۔ جیسے گلشن مہک رہے ہوں- جیسے عنادل نغمگی بکھیر رہے ہوں ؎

انھیں کی بو مایۂ سمن ہے، انھیں کا جلوہ چمن چمن ہے

انھیں سے گلشن مہک رہے ہیں، انھیں کی رنگت گلاب میں ہے

[اعلیٰ حضرت]

    حضور تاج الشریعہ کی زیارت نصیب ہوئی۔ دَست بوسی کا موقع ملا۔ جوق در جوق زائرین آتے رہے۔ دیدار کی لذت پاتے رہے۔ آج بوقتِ افطار حضور تاج الشریعہ نے شرکا کے لیے دُعا کی۔  چہرے پر نور کا پہرا تھا۔ نعت خوانی ہوئی۔ کلام الامام کی سوغاتیں، کلامِ مفتی اعظم کی عطر بیزی، کلامِ اخترؔ کی نوا سنجی۔ سماں بندھ گیا۔ یوں لگا جیسے توشے بٹ رہے ہوں۔ مُرادوں سے دامن بھرے جا رہے ہوں۔ سبز گنبد سے مدد مل رہی ہو۔ فریاد رَسی ہو رہی ہو۔ حسرتیں پوری ہو رہی ہوں۔ جھولیاں بھری جا رہی ہوں۔ منھ مانگی مرادیں مل رہی ہوں   ؎

ان کے در پہ اخترؔ کی حسرتیں ہوئیں پوری

سائل درِ اقدس کیسے منفعل جاتا

[تاج الشریعہ]

    افطار کیا۔ نماز پڑھی۔ سوئے حرمِ نبوی چل دیے۔ اب روزانہ کا معمول بن گیا کہ سرِ شام حضور تاج الشریعہ کے دولت کدہ پہنچ جاتے۔ زیارت کرتے۔ نعت خوانی سے کشکولِ مراد بھرتے۔ طیبہ کی بہاروں میں ثنا خوانی کی لذت پاتے۔ تشنہ لبی دور کرتے۔پھر پیاس بڑھاتے۔ دیدار کی تمنا کو فروزاں کرتے۔ پھر افطار کرتے۔ آتے جاتے۔مراد پاتے۔ تمنا بڑھاتے۔ یوں ہی چار پانچ دن گزر گئے۔ پھر وہ ساعت آئی کہ قافلے حجاز سے ہند آنے کو تھے۔ حضور تاج الشریعہ کی ہند روانگی تھی۔ ۲۱؍ رمضان کی سہ پہر تھی۔ ہم کاشانۂ حضور تاج الشریعہ پہنچے۔آج بڑا کیف آور لمحہ تھا۔ نمازِ عصر حضور تاج الشریعہ نے پڑھائی۔ فراغ کے بعد نعت خواں محمد زبیر مکی و ڈاکٹر نثار احمد معرفانی کو بُلوایا۔ مسند پر بٹھایا۔ حمد باری تعالیٰ پڑھی گئی۔ کلام الامام سے آغاز ہوا۔ آج یوم شہادتِ مولائے کائنات تھا۔ کئی نسبتیں جمع تھیں۔ صاحبِ نسبت جلوہ گر تھے۔ محفل اشک بار کیے دیتی تھی   ؎

خراب حال کیا دل کو پُر ملال کیا

تمہارے کوچے سے رخصت نے کیا نہال کیا

[اعلیٰ حضرت]

    کئی کلام کی حضور تاج الشریعہ نے خود فرمائش کی اور خود بھی پڑھ رہے تھے۔ لبہاے مبارک ہل رہے تھے۔نعت خواں نے یہ کلام بھی پُر سوز پڑھا۔ آنکھیں بھیگ گئیں “پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں” ابھی گلشنِ طیبہ کا ذکر چل رہا تھا۔ دشتِ طیبہ کی یادیں تازہ تھیں۔ محویت کا عالم طاری تھا۔ نغمۂ دل چھڑ گیا   ؎

سیرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر

سوئے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر

[علامہ حسنؔ رضا بریلوی]

    نعت خواں نے گرہ لگائی۔ ایک ایک مصرعہ جذبات کی نمائندگی کر رہا تھا۔ طیبہ سے واپسی کا پیام روح کو زخمی کیے دیتا ہے۔ اس در کی حاضری حضوری کی لذت سے آشنا کرتی ہے۔ جدائی جذبات کو مضمحل کر دیتی ہے۔ درِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری عاشق کو کیسے گوارا ہو سکتی ہے! ابھی اس کلام کی تکرار جاری تھی کہ نعت خواں نے دوسرا کلام شروع کیا۔ حضور تاج الشریعہ نے خود مقطع کی تکرار فرمائی۔ کیف کے عالم میں   ؎

مَر کے جیتے ہیں جو ان کے در پہ جاتے ہیں حسنؔ

جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر

    محفل اختتام کو تھی۔ قبولیت کی ساعتیں۔ زبانِ اخترؔ سے نغماتِ بخشش امڈ رہے تھے۔ بخشش کے سفینے ترنے کو تھے۔ گویا سبز گنبد سے قبولیت کی سند عطا ہو رہی تھی۔ وہ ساعتِ سعید آئی جب سب حالتِ قیام میں آگئے۔ بصد ادب کھڑے ہو کر وہ عمل پیش کیا۔ جو اسلاف سے متوارث چلا آرہا ہے۔ پھر ارضِ طیبہ۔ سامنے جلوۂ محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ قبولیت کے لمحے لفظ لفظ سے ہویدا ہونے لگے۔ حضور تاج الشریعہ کی زبان مبارک سے جب سلامِ رضا کے اشعار ادا ہوتے تو تپشِ محبتِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بڑھ جاتی۔ آنکھیں فرطِ عقیدت سے چھلک جاتیں۔ سراپائے مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بڑا اچھوتا بیان بریلی کے تاجدار نے نظم کیا۔حضور تاج الشریعہ نے درجنوں اشعار زیرِ سایۂ گنبد خضرا پڑھے۔ پڑھوائے۔ سُنے اور سُنوائے۔

    اسی شب قافلہ سالارِ عشق- سوئے ہند روانہ ہوئے۔ یہ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ ظاہری کا آخری سفرِ حرمین تھا۔ پھر حضور تاج الشریعہ کے خلیفہ و عزیز داماد مفتی شعیب رضا نعیمی اگلے رمضان میں وصال فرما گئے۔ پھر حضور تاج الشریعہ کی علالت ۔ اور ۲۰؍ جولائی ۲۰۱۸ء/٦؍ ذی قعدہ ١٤٣٩ھ کو علم و فن کا یہ آفتاب و ماہ تاب متاعِ عشقِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جہان میں تقسیم کر کے عازمِ خلد بریں ہو گیا   ؎

اخترؔ خستہ بھی خلد میں چل دیا

جب صدا دی اسے مرشدی نے چلیں

اخترِؔ قادری خلد میں چل دیا

خلد وا ہے ہر اِک قادری کے لیے

٭٭٭ 

٭ نوری مشن مالیگاؤں انڈیا

gmrazvi92@gmail.com

Cell. 9325028586

مضمون تقریباً دو سال قبل لکھا گیا…. مع حذف و اضافہ نذرِ قارئین کیا گیا… (٢٣ جون ٢٠٢٠ء)