حدیث نمبر 489

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہمارا رب دو شخصوں سے بہت راضی ہوتا ہے ایک وہ شخص جو اپنے بستر اپنے لحاف اپنے پیاروں اپنے گھروں کے درمیان سے کود کر ۱؎ نماز کے لیئے کھڑا ہو رب اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کو دیکھو کہ اپنے بستر اور لحاف سے اپنے پیاروں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لیئے اٹھ کھڑا ہوا میری رحمت کی رغبت اور میرے عذاب کے خوف سے ۲؎ اور ایک وہ شخص جو اﷲ کی راہ میں جہاد کرے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ جائے پھر غور کرے کہ اس پر بھاگنے میں کیا عذاب ہے اور لوٹنے میں کیا ثواب ہے تو لوٹ پڑے حتی کہ اس کا خون بہادیا جائے ۳؎ تو رب تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب میں رغبت میرے عذاب سے خوف کرتے ہوا لوٹ پڑا حتی کہ اس کا خون بہاد یا گیا ۴؎(شرح سنہ)

شرح

۱؎ یعنی نماز تہجد کے لیئے اپنا گرم و نرم بستر چھوڑے بال بچوں سے منہ موڑے مصلے پر آجائے۔ کود کر کھڑے ہونے میں اس جانب اشارہ ہے کہ اونگھتا ہوا سستی سے نہ اٹھے بلکہ شکر کرتے ہوئے خوشی اور پھرتی سے اٹھے اور خدا کی توفیق کو غنیمت سمجھے، سبحان ا ﷲ! یہاں جوش محبت دیکھا جاتا ہے افعال نماز کا پاور دلی جوش ہے۔

۲؎ یعنی نہ مجھ سے ناامید ہے نہ مطمئن بلکہ کرتا ہے اور پھر ڈرتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا ایسے شخص کی ملکیت بشریت پر غالب ہے کہ باوجود نفس اور شیطان کے بہکانے کے پھر ایسے وقت نیند چھوڑ دیتا ہے جب کہ نیند بڑی پیاری ہوتی ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ ایسی حالت میں جب سارے مجاہد میدان چھوڑ گئے ہوں اسے بھی بھاگ جانا رخصت تھا مگر ڈٹ کر لڑنا اور جان دے دینا عزیمت جس کا بڑا اجر ہے اور اگر مسلمان بزدلی کی وجہ سے بلا عذر بھاگے ہوں تو سب گنہگار سب پر جم کر لڑنا ایسی حالت میں فرض ہے یہاں شاید دوسری صورت مراد ہے جیسا کہ مَاعَلَیہِ سے معلوم ہورہا ہے۔

۴؎ یعنی یہ لوٹ پڑنا گزشتہ بھاگنے کے گناہ کا کفارہ بھی ہوگیا اور بلندیٔ درجات کا ذریعہ بھی۔خیال رہے کہ عذاب کا خوف اور رحمت کی امید مومن کے لیئے عبادت کا باعث تو ہے اس کی علت نہیں لہذا یہ حدیث صوفیاء کے اس قول کے خلاف نہیں کہ عبادت محض جنت حاصل کرنے یا جہنم سے بچنے کے لیئے نہ کرو بلکہ اﷲ کے لیئے کرو۔