أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً قَالُوۡا هٰذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ‌ۚ ۞

ترجمہ:

سو جب ان کے پاس ہماری بصیرت افروز نشانیاں آگئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادو ہے

دو آیتوں میں تعارض کا جواب 

اس سورة میں فرمایا ہے :

فلما جآء تھم ایتنا۔ (النمل ۱۳) پس جب ان کے پاس ہماری نشانیاں آگئیں۔

اور دوسرے مقام پر فرمایا ہے :

فلما جآء ھم موسیٰ بایتنا۔ (القصص : ٦٣) پس جب موسیٰ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے آئے۔

سورۃ القصص میں حضرت موسیٰ کی طرف نشانیاں لانے کا اسناد کیا ہے اور سورة النمل میں نشانیوں کی طرف آنے کا اسناد کیا ہے۔ النمل میں نشانیوں کی طرف آنے کا اسناد حقیقت ہے اور القصص میں مجاز ہے ‘ اور بعض مفسرین نے اس کے برعکس کہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سورة القصص میں فرعون کے دربار میں معجزات پیش کرنے کا سیاق ہے اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ان معجزات کے لانے کی نسبت کی ہے اور سورة النمل میں اس طرح نہیں ہے ‘ اس لیے اصل کے اعتبار سے فرمایا جب ان کے پاس نشانیاں آگئیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 13