أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ وَ جِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍۢ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ‏ ۞

ترجمہ:

وہ (ہد ہد) کچھ دیر بعد آکر بولا میں نے اس جگہ کا احاطہ کرلیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا میں آپ کے پاس (ملک) سبا کی ایک یقینی خبر لایا ہوں

ہد ہد کا ملک سبا کی سیر کر کے حضرت سلیمان کی خدمت میں آنا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ (ہدہد) کچھ دیر بعد آ کر بولا، میں نی اس جگہ کا احاطہ کرلیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا۔ (النمل : ٢٣ )

امام ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) حج کرنے کے بعد حرم شریف سے واپس آئے تو زوال کے وقت یمن کے مقام صنعاء میں پہنچے، یہ جگہ حرم سے ایک ماہ کی مسافت پر تھی ان کو وہ جگہ اچھی لگی۔ انہوں نے کھانے اور نماز پڑھنے کے لیء وہاں اترنے کا قصد کیا، جب وہ تخت سے اس جگہ اتر گئے تو ہد ہد نے دل میں کہا حضرت سلیمان تو اس جگہ کی سیر میں مشغول ہیں، میں اڑ کر فضا میں گھومتا ہوں، اس نے دائیں بائیں دیکھا تو اس کو بلقیس کا باغ نظر آیا، وہ اس کے سبزہ اور پھولوں کی طرف مائل ہوا، وہ اس باغ میں اتر گیا، واں بھی اس نے ایک ہد ہد کو دیکھا۔ حضرت سلیمان کے ہد ہد کا نام یعفور تھا اور یمن کے ہد ہد کا نام یعفیر تھا، پس یمن کے یعفیر نے حضرت سلیمان کے یعفور سے کہا تم کہاں سے آئے ہو اور کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا میں اپنے بادشاہ سلیمان بن دائود کے ساتھ یمن میں آیا ہوں، اس نے پوچھا سلیمان کون ہیں ؟ اس نے کہا وہ جن اور انس، اور شیاطین اور پرندوں اور وحشی جانوروں اور ہوائوں کے بادشاہ ہیں ڈ پھ راس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ اس نے کہا میں اس ملک کا رہنے والا ہوں ! یعفور نے پوچھا اس ملک کا بادشاہ کن ہے ؟ اس نے کہا ایک عورت ہے جس کا نام بلقیس ہے اور بیشک تمہارا مالک بہت بڑا بادشاہ ہے لیکن بلقیس کا ملک بھی اس سے کم نہیں ہے، وہ پورے یمن کی ملکہ ہے اور اس کے ماتحت بارہ ہزار سردار ہیں اور ہر سردار کے تحت ایک لاکھ جنگجو ہیں کیا تم میرے ساتھ چلو گے تاکہ میں تمہیں اس کا ملک دکھائوں ؟ یعفور نے کہا مجھے خدشہ ہے کہ سلیمان کو جب پانی کی ضرورت ہوگی تو وہ مجھے تلاش کریں گے، کیونکہ میں ان کو پانی کی طرف رہنمائی کرتا ہوں، یمانی ہد ہد نے کہا جب تم اپنے بادشاہ کے پاس اس ملک کی خبر لے کر جائو گے تو وہ خوشہو گا، پھر یعفور نے اس کے ساتھ چلا گیا اور بلقیس اور اس کے ملک کو دیکھا، پھر ہد ہد عصر کے وقت حضرت سلیمان علیہ اسلام کے پاس پہنچا، ادھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نماز کے وقت تخت سے اترے اس جگہ پانی نہیں تھا، آپ نے انسان، جنات اور شیاطین سے پانی کے متعلق سوال کیا تو ان کو معلوم نہیں تھا، آپ نے پرندوں کی تفتیش کی تو ہد ہد کو غیر حاضر پایا، آپ نے پرندوں کے تلاش کرنے والے کو بلایا وہ وہ گدھا تھا اس سے ہد ہد کے متعلق سوال کیا، اس نے کہا اللہ آپ کے ملک کو سلامت رکھے مجھے معلوم نہیں وہ کہاں ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) غضبناک ہوئے اور فرمایا میں اس کو ضرور سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر دوں گا، پھر پرندوں کے سردار عقاب کو بلایا اور اس سے کہا ابھی ہد ہد کو لا کر حاضر کرو، عقاب ہوا میں بلند ہوا اور دائیں بائیں نظر ڈالی تو ہد ہد یمن کی طرف سے آ رہا تھا، عقاب اس پر حملہ کرنے کے لئے جھپٹا تو ہد ہد نے اس کو قسم دی کہ اس ذات کی قسم جس نے تجھ کو مجھ پر قدرت دی ہے مجھ پر حملہ نہ کر ! عقاب نے اس کو چھوڑ دیا اور کہا تجھ پر افسوس ہے تجھ پر تیری ماں روئے، اللہ کے نبی نے یہ قسم کھائی ہے کہ وہ تجھ کو ضرور سزا دے گا یا ضرور ذبح کر دے گا، ہد ہد نے پوچھا آیا اللہ کے نبی نے قسم کے ساتھ کوئی استثناء بھی کیا ہے یا نہیں، تو اس کو بتایا کہ حضرت سلیمان نے کہا ہے کہ ورنہ وہ اس کی (یعنی اپنی غیر حاضری کی) صاف صاف وجہ بیان کیر، ہد ہد نے کہا اب میری نجات ہوجائے گی، پھر عقاب اور ہد ہد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت حضرت سلیمان اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، عقاب نے کہا میں نے ہد ہد کو حاضر کردیا ہے۔ ہد ہد نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور اپنی دم ور پر جھکا دیئے، حضرت سلیمان نے اس سے پوچھا : تم کہاں تھے ؟ میں تم کو سخت سزا دوں گا ! ہد ہد نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ وہ وقت یاد کیجیے جب آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے، حضرت سلیمان یہ سن کر کا نپنے لگے اور اس کو معاف کردیا، پھر اس سے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا : میں نے اس جگہ کا احاطہ کرلیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا میں آپ کے پاس (ملک) سبا بڑا تخت ہے۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٩٨ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس قصہ کو علامہ زمخرشی متوفی ٥٣٨ ھ علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ علامہ اسماعیل حقی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی بیان کیا ہے۔(الکشاف ج ٣ ص ٣٦٣ زاد المسیر ج ٦ ص ١٦٤ البحر المحیط ج ٨ ص ٢٢٤ روح البیان ج ٦ ص ٤٣٣، روح المعانی ج ١٩ ص ٢٧٧)

ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے جو اپنے علم کا اظہار کیا اس کی علامہ زمخشری کی طرف سے توجیہ 

ہد ہد نے کہا میں نے اس جگہ کا احاطہ کرلیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا میں آپ کے پاس (ملک) سبا کی ایک یقینی خبر لایا ہوں۔

علامہ ابوالقاسم محمود بن عمر الزمخشری الخوارزمی المتوفی ٥٣٩ ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کو اس کلام کا الہام کیا تھا جو اس نے حضرت سلیمان کے روبرو کیا، کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبوت، حکمت، علوم وافرہ اور بہ کثرت معلومات کے احاطہ کی فضیلت دی گئی ہے اس کے باوجود ان کی آزمائش کے لئے ان کو اس کا علم نہیں دیا گیا اور ایک ادنیٰ اور کمزور ترین مخلوق نے ان چیزوں کے علم کا احاطہ کرلیا جن کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم نے احاطہ نہیں کیا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر انعام تھا تاکہ وہ باوجود اپنے عظیم علوم کے منکسر اور متواضع رہیں اور ان کے دل میں اپنے علوم کی برتری اور تفاخر کا معملوی سا شائبہ بھی پیدا نہ ہو، اور کسی چیز کے علم کے احاطہ کا معنی یہ ہے کہ اس کی تمام جہات معلوم ہوں اور اس کا کوئی گوشہ مخفی نہ رہے۔ مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں رافضیوں کے اس قول کا بطلان ہے کہ امام سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی اور اس کے زمانہ میں اس سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ہوتا۔ (الکشاف ج ٣ ص ٣٦٤ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٧ ھ)

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس تقریر کا خلاصہ لکھا ہے اور عالمہ ابوالحیان اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ نے بعینہ یہی لکھا ہے۔

علامہ بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے بھی اس کا خلاصہ لکھا ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص ٥٥٠، البحر المحیط ج ٨ ص ٢٢٥، تفسیر البیضاوی مع الخفا جی جی ٧ ص ٢٣٦)

علامہ زمخشری کی توجیہ کا رد اور اس کی صحیح توجیہ 

ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے اپنے علم کا اظہار کیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم کی نفی کی اور یہ بہ ظاہر ہد ہد کی اللہ کے نبی کے سامنے جسارت اور بےادبی ہے، علامہ زمخشری اور ان کے متعبین نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ ہد ہد کے دل میں اللہ تعالیٰ نے اس قول کا الہام اس لئے کیا تھا تاکہ حضرت سلیمان اپنے عظیم علوم پر فخر نہ کریں، لیکن دیگر مفسرین نے اس توجیہ سے اختلاف کیا ہے۔

علامہ ابوالسعود محمد بن محمد مصطفیٰ العمادی الحنفی المتوفی ١٩٨٢ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ہد ہد نے جو کہا تھا کہ میں نے اس چیز کا احاطہ کرلیا ہے، جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا اور احاطہ کا معنی ہے کسی چیز کی جمیع جہات سے معرفت ہو، اس سے ہد ہد کی یہ مراد نہیں تھی کہ اس نے ان حقائق علوم اور دقائق معارف کا احاطہ کرلیا ہے جو علماء اور حکماء کا خاصہ ہے حتیٰ کہ اللہ کے نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے اس کا یہ کہنا دائرہ ادب سے تعددی اور اپنی حد سے تجاوز ہو اور اس کا یہ کلام بےباکی اور گستاخی پر محمول کیا جائے اور اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اس علم کی جو نفی کی تھی اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بےادبی اور توہین قرار دیا جائے اور پھر اس کی یہ توجیہ کی جائے کہ ہد ہد نے جو کچھ کہا وہ اللہ تعالیٰ کے الہام سے کہا تھا تاکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبوت، حکمت، علوم کثیرہ اور معلومات وافرہ کے احاطہ کی جو فضیلت دی گئی ہے اس کی وجہ سے ان کو تفاخر نہ ہو اور ان کو اس پر تنبیہ ہو کہ اللہ کی ادنیٰ اور ضعیف ترین مخلوق نے بھی اس چیز کے علم کا احاطہ کرلیا جس کا حضرت سلیمان کے علم نے احاطہ نہیں کیا تاکہ حضرت سلیمان متواضع اور منکسر رہیں، بلکہ ہد ہد کا اپنے اس قول سے یہ ارادہ تھا کہ ہد ہد نے جس ملک سبا کو دیکھا ہے اس کو دیکھنا ان امور میں سے نہیں ہے جس کا احاطہ کرنا کوئی فضیلت ہو اور نہ اس سے غافل ہونا کوئی نقص ہے کیونکہ ملک سبا کا احاطہ کرنا تو صرف اس کے دیکھنے اور مشاہدہ کرنے پر موقوف ہے اور اس کے ادراک میں عقل والے اور بےعقل سب برابر ہیں اور ہد ہد کو یہ معلوم تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملک سبا کا مشاہدہ نہیں کیا اور نہ انہوں نے کسی اور سے اس کی خبر سنی ہے۔ اس لئے ہد ہد نے اس طریقہ سے یہ بات کہی تاکہ حضرت سلیمان کو ملک سبا کو دیکھنے کا شوق ہو اور وہ اس کے غائب رہنے کا عذر اس لئے قبول کرلیں کہ وہ ان کو ایک نئی چیز دکھانے اور اس کی طرف راغب کرنے کے لئے غیر حاضر رہا تھا۔ (تفسیر ابو السعود ج ٥ ص ٧٨ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

ملک سبا کو نہ دیکھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شان میں کسی کمی کا موجب نہیں ہے کیونکہ جو علم نبوت میں نافع اور مفید نہ ہو وہ انبیاء (علیہم السلام) کی شان کے لائق نہیں ہے، ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہ دعا کی ہے :

اعوذ بک من علم لاینفع (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٢٢ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٥٧٢) جو علم غیر نافع ہو میں اس سے تیری پناہ میں آتا ہوں، بعض علماء نے یہ کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) صنعاء میں پہنچ چکے تھے اور وہاں سے ملک سبا صرف تین دن کی مسافت یا تین فرسخ کے فاصلہ پر تھا اس کے باوجود کسی مصلحت اور حکمت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ملک سبا آپ سے مخفی رکھا جیسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جگہ مخفی رکھی تھی۔ (روح البیان ج ٦ ص ٤٣٤ ملحضاً مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی علامہ زمخشری وغیرہم کی توجیہ کا اسی دلیل سے رد کیا جو علامہ ابن سعود نے بیان کی ہے کہ ملک سبا کو دیکھنے میں کوئی فضیلت نہیں تھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو تواضح اور انکسار پر اغب کرنے کے لئے ہد ہد کا یہ قول کییس ہوسکتا ہے جبکہ اس سے متصل پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر فرمایا ہے، اے میرے رب ! تو نے مجھے اور میرے والد کو جو نعمتیں عطا کی ہیں مججھے ان کا شکر ادا کرتے رہنے پر قائم رکھ اور تو مجھے ان نیک اعمال پر قائم رکھ جس سے تو راضی ہے اور اپنی رحمت سے مجھیخ اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے۔ (النمل : ١٩) (روح المعانی ج ١٩ ص ٢٧٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

انبیاء علیہم اسلام کے علم غیب کے متعلق علامہ قرطبی کا نظریہ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :

یعنی مجھے اس چیز کا علم ہوگیا جس کا آپ کو علم نہیں ہے، اس آیت میں ان لوگو کا رد ہے جو کہیت ہیں کہ انبیاء کو غیب کا علم ہوتا ہے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١٣ ص ١٦٨ مبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کو کل غیوب کا علم ہوتا ہے اور ان سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی، سالبہ جزئیہ موجبہ کلیہ کی نقیض ہوتی ہے اور جب حضرت سلیمان کو بعض غیوب کا علم نہیں تھا تو معلوم ہوا کہ ان کو کل غیوب کا علم نہیں تھا، کیونکہ علامہ قرطبی اس کے قائل ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ جتنا چاہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے۔

الجن : ٢٧-٢٢ کی تفسیر میں علامہ قرطی لکھتے ہیں :

اولیٰ یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے غیب کو صرف اس پر ظاہر فرماتا ہے جس کو وہ نبوت کے لئے چن لیتا ہے، پھر وہ اس کو جس قدر چاہتا ہے غیب پر مطلع فرماتا ہے تاکہ یہ علم غیب اس کی نبوت پر دلالگت کرے۔

علماء رحمہم اللہ نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عالم الغیب ہونے سے اپنی مدح فرمائی اور علم غیب کو اپنے ساتھ خاص کرلیا تو اس میں یہ دلیل تھی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس سے ان کا استثناء کرلیا جن کو اس نے اپنی رسالت کے لئے چن لیا اور بذریعہ وحی ان کو غیب عطا فرمایا اور اس علم غیب کو ان کے لئے معجزہ اور ان کی نبوت کے صدق کی دلیل بنایا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٧-٢٦ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

ملک سبا کی تحقیق 

ہد ہد نے کہا میں آپ کے پاس (ملک) سبا کی یقینی خبر لایا ہوں۔

سبا یمن کے ایک قیلہ کا نام ہے، اس قبیلہ کی سب سے بڑے شخص کا نام سبا تھا، اس کا پورا نام سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان تھا، یہ بھی کہا ہے کہ اس کا نام عبدالشمس تھا اور اس کا لقب سبا تھا کیونکہ وہ سب سے پہلے قید کیا گیا تھا (سبا کا معنی قید کرنا ہے) پھر مآرب نامی ہشر کا نام سبا رکھ دیا، سب اور صنعاء کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ سبا وہ پہلا شخص ہے جس نے یمن کے بادشاہوں میں سے تاج پہنا تھا اس کے دس بیٹے تھے ان میں سے چھ یمن میں رہے اور چار شام میں اور امام راغب نے لکھا ہے کہ سبا ایک شہر کا نام ہے جس کے رہنے والے مختلف جگہوں میں پھیل گئے تھے۔ (المفردات ج ١ ص ٢٩٥) (روح البیان ج ٦ ص ٤٣٤ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢١ ھ)

سبا یمن کا ایک علاقہ ہے جو صنعاء اور حضرموت کے درمیان ہے، اس کا مرکزی شہر مآرب تھا، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس علاقہ میں سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان کی شاخ آباد تھی۔ (معجم البلدان (اردو) ص ١٨٢ مطبوعہ لاہور)

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 22