أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَاُعَذِّبَـنَّهٗ عَذَابًا شَدِيۡدًا اَوۡ لَا۟اَذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّىۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

میں اس کو ضرور سخت سزا دوں گا ‘ یا اس کو ضرور ذبح کردوں گا ورنہ وہ اس کی صاف صاف وجہ بیان کرے

تفسیر:

تربیت دینے اور ادب سکھانے کے لئے جانوروں کو مارنے اور سزا دینے کا جواز 

اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اس کو ضرور سخت سزا دوں گا اس کو ضرور ذبح کر دوں گا ورنہ وہ اس کی صاف صاف وجہ بیان کرے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو ہد ہد کو سزا دینے کی وعید سنائی اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہد ہد ایک جانور اور پرندہ تھا اور جانور کسی چیز کا مکلف نہیں ہوتا پھر ہدہد کی غیر حاضری پر اس کو سزا کی وعید سنانے کی کیا توجیہ ہے ! اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سزا بہ طور تادیب ہے اور جانوروں کو سدھانے اور ان کو تربیت دینے کے لئے بھی سزا دی جاتی ہے، بچے بھی غیر مکلف ہوتے ہیں لیکن ان کو تربیت دینے کے لئے مناسب حد تک مار لگائی جاتی ہے، حدیث میں ہے :

عمرو بن شعیب اپنے و الد سے اور وہ اپنے داداد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے بچے سال سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو ، اور جب وہ دسسال کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کو مارو اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٩٦، ٤٩٥، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٤١٣٢، مسند احمد ج ٤ ص ١٨٠ رقم الحدیث : ٦٦٨٩، سنن کبری للبیہقی ج ٢ ص ٢٢٩ حلیتہ الاولیاء ج ١٠ ص ٣٦)

امام ابومنصور ماتریدی متوفی ٣٣٥ ھ نے کہا ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں تمام پرندے، دیگر حیوانات اور جنات اور شیاطینجو ان کے لئے مسخر کئے گئے تھے، وہ سب حضرت سلیمان کا حکم ماننے کیمکلف تھے اور ان کے احکام ان کے احوال کے مناسب تھے، ان میں فہم اور ادراک تھا اور جس طرح انسان اور امر اور نواہی کو قبول کرتے ہیں وہ بھی اوامر اور نواہی کو قبول کرتے تھے اور یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا معجزہ تھا۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

حافظ جلال الدین سیوطی نے الاکلیل میں لکھا ہے کہ حیوانات اور بہائم جب چلنے یا دوڑنے میں سستی کریں یا جو کام ان کو سکھایا گیا ہے اس میں غفلت اور غلطی کریں تو ان کو مارنا جائز ہے اور پرندوں کے پر اکھاڑنا بھی جائز ہے کیونکہ اس سزا سے مراد ہد ہد کے پر اکھاڑنا تھا، اور علامہ ابنالعربی نے یہ کہا ہے کہ سزا بہ قدر جرم دینی چاہیے نہ کہ بہ قدر جسم، نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پر ندیان کے احکام کے مکلف تھے تب ہی ہد ہد کی غیر حاضری پر اس کے لئے سزا کی وعید سنائی۔(روح المعانی ج ١٩ ص ٢٧٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

ہد ہد کی سزا کے متعلق متعدد اقوال 

ہد ہد کی سزا کے متعق حسب ذیل چھ اقوال ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) اور جمہور کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد پر اکھاڑنا ہے۔

(٢) عبداللہ بن شداد نے کہا اس سے مراد اس کے پر اکھاڑنا اور اس کو دھوپ میں رکھنا ہے۔

(٣) ضحاک نے کہا اس سے مراد اس کے پیر باندھ کر اس کو دھوپ میں چھوڑ دینا ہے۔

(٤) مقاتل بن حیان نے کہا اس سے مراد اس پر تیل مل کر اس کو دھوپ میں چھوڑدینا ہے۔

(۵) ثعلبی نے کہا اس سے مراداس کو پنجرے میں بند کرنا ہے۔

(٦) ثعلبی کا دوسراقول یہ ہے کہ اس کی مانوس چیزوں کو اس سے دور کردیا جائے۔ (زاد المسیر ج ٦ ص ١٦٤ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

عربی قواعد کے خلفا قرآن مجید کی کتابت کی تحقیق 

حضرت سلیمان نے فرمایا تھا میں اس کو ضرور سخت سزا دوں گا یا اس کو ضرور ذبح کر دوں گا، ذبح کرنی کے متعلق قرآن مجید میں اس طرح لکھا ہے لا اذبجنہ، اس تحریر پر یہ اعتراض ہے کہ لا کے بعد جو الف لکھا ہوا ہے یہ قواعد کے خلاف ہے، قواعد کے موافق اس طرح لکھا ہوا ہونا چاہیے تھا لا ذبحنہ 

علامہ عبدالرحمٰن ابن خلدون متوفی ٨٠٨ ھ لکھتے ہیں :

عربوں کی کتابت اس زمانے کے بدوئوں کی کتابت سے ملتی جلتی تھی بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی کتابت سے آج کل کے بدوئوں کی کتابت اچھی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ شہری تمدن سے اور شہروں اور حکومتوں کے اختلاط سے بہت قریب ہیں۔ مضر تو بدویت میں ڈوبے ہوئے تھے اور یمن، عراق، شام اور مصر کے لوگ تمدن سے بہت دور تھے۔ اسی لئے شروع اسلام میں عربی خط استحکام خوبصورتی اور عمد گی کی حد تک نہیں پہنچا تھا بلکہ درمیانی درجہ تک بھی نہیں پہنچا تھا کیونکہ عرب بدویت و وحشت سے قریب اور صنعتوں سے دور تھے اسی لئے مصحف شریف کی رسم کتابت میں جو کچھ پیش آنا تھا پیش آیا۔ صحابہ کرام نے اپنے رسم الخط میں مصحف کو لکھا ان کی عمدگی میں استحکام نہ تھا چناچہ اکثر جگہ ان کا رسم الخط معروف رسم الخط کے خلاف ہے۔ پھر یہی رسم الخط تابعین نے ترکے کے طور پر رہنے دیا، کیونکہ یہ صحابہ کا خط تھا جو امت میں بہترین لوگ اور وحی کو براہ راست رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھنے والے تھے۔ جیسے آج کل تبرک کے طور پر کسی عالم یا ولی کا خط بحال رہنے دیا جاتا ہے، اور اس کے رسم الخط کی پیروی کی جاتی ہے۔ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط صحابہ کا تو پھر بھی بہت اونچا درجہ ہے، چناچہ ان کا رسم الخط قرآن پاک میں باقی رکھا گیا اور خاص خاص مقامات پر علماء نے ان کے مخصوص خط کی نشاندہی فرمائی۔

بعض لوگوں نے یہ جو یہ کہا ہے کہ صنعت خط میں صحابہ کے زمانہ میں استحکام تھا، اور موجودہ رسم الخط کی جہاں کہیں مخالفت پائی جاتی ہے، اس کی کوئی خاص وجہ ہے جسے ’ دلا اذبحنہ “ میں الف کی زیادتی اس بات کی رف اشارہ ہے کہ فعل ذبح کا وقوع نہیں ہوا تھا اور بایید میں یا کی زیادتی سے اللہ کی کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ غرضیکہ جہاں کسی حرف کی زیادتی ہے اس میں کوئی نہ کوئی تنبیہ مقصود ہے۔ آپ اس قسم کی رائے کی طرف توجہ بھی نہ دیں کہ اس رائے کی کوئی اصل نہیں اور محض ہٹ دھرمی ہے۔ لوگوں کو اس توجیہ پر صحابہ کی شان میں نقص کو اچھا نہ سمجھنے نے آمادہ کیا کہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ انہیں اچھی طرح سے لکھنا بھی نہیں آتا تھا۔ ان کے زعم میں وہ اس نقص سے بری تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لکھنا کمال کی نشانی ہے اور اس میں نقص صحابہ کی شان کے نقص کو لازم ہے اس لئے تحریر میں نقص سے صحابہ کو بری کرنے کے لئے وہ کہتے ہیں کہ ان کی تحریر بالکل صحیح ہے۔ اصول رسم الحظ کے خلاف نہیں اور جہاں اصول رسم الحظ کے خلاف لازم آتا ہے وہاں تاویلیں کرلیتے ہیں حالانکہ یہ گمان ہی صحیح نہیں۔ یاد رکھیے کہ صحابہ کے حق میں لکھنا کمال نہیں کیونکہ کتابت بھی دیگر شہری صنعتوں کی طرح روزی کمانے کی ایک صنعت ہے جیسا کہ گزشتہ اوراق میں آپ کو معلوم ہوچکا ہے اور صنعتوں کا کمال مطلق کمال کی بہ نسبت اضافی ہے کیونکہ ان کی کمی کا اثر نہ تو بالذات دین پر پڑتا ہے نہ عادتوں پر بلکہ اسباب معاش پر پڑتا ہے اور تمدنی تعاون پر بھی، کیونکہ کتابت اظہار خیالات کا ایک قوی ذریعہ ہے۔

غور کیجیے کہ رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امی تھے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام کے بلند ہونے کی وجہ سے آپ کو عملی صنعتوں سے اور آبادی و معاش کے اسباب سے محفوظ رہنا مناسب تھا، لیکن ہمارے حق میں امی رہنا کمال نہیں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو دنیا سے کٹ کر اپنے رب سے لو لگائے ہوئے تھے اور ہم دنیوی زندگی کے لئے باہمی تعاون کرتے ہیں جیسا کہ تمام نصعتوں کا حال ہے حتیٰ کہ اصطلاحی علوم کا بھی کیونکہ آپ کے حق میں ان سب سے بچنا ہی کمال ہے ہمارے حق میں نہیں۔ (مقدمہ ابن خلدون ج ١ ص ٤١٩ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھت یہیں :

علامہ ابن خلدون کا یہ کہنا کہ لا اذبخنہ میں الف کا زیادہ لکھنا اس پر محمول ہے کہ صحابہ کرام کو عربی لکھنے کے فن میں مہارت نہیں تھی بہت بعید ہے، بعض لوگوں نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ اس میں الف اس لئے زیادہ کیا ہے تاکہ اس پر تنبیہ ہو کہ ہد ہد کو ذبح نہیں کیا گیا تھا یہ توجیہ بھی صحیح نہیں ہے ورنہ لاعذبنہ میں بھی الف کو زیادہ کرتے کیونکہ ہد ہد کو عذاب بھی نہیں دیا گیا تھا اور علامہ ابن خلدون نے جو یہ کہا ہے کہ مصحف صحابہ کرام نے اپنے خطوط میں لکھا جن کی عمدگی میں استحکام نہ تھا، اگر اس سے ان کی مراد یہ کہ ان کا خط خوبصورت نہیں تھا تو یہ ان کے حق میں کوئی نقص نہیں اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ان کا خط عربی قواعد کے مطابق نہ تھا یعنی عربی قواعد میں جہاں وصل کر کے لکھنا چاہیے اور جہاں فصل کر کے لکھنا چاہیے اور جہاں جس چیز کو لکھنا چاہیے اور جہاں جس چیز کو ترک کرنا چاہیے اور صحابہ نے اس کی رعایت نہیں کی تو یہ محل بحث ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جن صحابہ نے قرآن مجید کو لکھا ہے وہ رسم الخط کو اچھی طرح جاننے والے تھے کہ کہاں کسی حرف کو لکھنا چاہیے اور کسی حرف کو ترک کرنا چاہیے اور کہاں کس لفظ کو ملا کر لکھنا چاہیے اور کہاں کس لفظ کو ملائے بغیر لکھنا چاہیے، لیکن انہوں نے بعض مقامات پر کسی حکمت کی اور کسی نکتہ کی بنا پر ان قواعد کی مخالفت کی ہے، صحابہ میں سے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت (رض) فن کتابت میں مشہور تھے اور ان کی شہرت ان کے عمدہ لکھنے ہی کی وجہ سے تھی، سو جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ اکابر اور دیگر صحابہ یہ نہیں جانتے تھے کہ کہاں الف لکھنا چاہیے اور کہاں نہیں، اسی طرح جن دوسرے مقامات میں انہوں نے قواعد خط کی مخالفت کی ہے تو ان کو اصل قواعد کا علم نہیں تھا، اس کا یہ قول ادب اور انصاف کے خلاف ہے۔

اسی طرح جو شخص بعد کے ان تابعین وغیرہم کے متعلق یہ کہتا ہے کہ وہ اس پر مطلع تو ہوگئے تھے کہ صحابہ کرام نے ان مقامات پر قوانین خط کی مخالفت کی ہے لیکن انہوں نے صحابہ کرام کے خط کو تبرکا اسی طرح رہنے دیا اور اس کی اصلاح نہیں کی اس کا قول بھی ادب اور انصاف سے دور ہے، البت ہیہ کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرام نے جن لوگوں سے لکھنا سیکھا تھا انہوں نے ان کو اسی طرح بتایا تھا سو یہ صحابہ کا قصور نہیں ہے بلکہ ان کو سکھانے والے کا قصور ہے، یہ جواب بھی اگرچہ پہلے جواب کی مثل ہے لیکن اس میں پہلے جواب کی طرح بےادبی نہیں ہے۔ (روح المعانی جز ١٩ ص 275-276 مطبوعہ دارلافکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ محمد طاہر ابن عاشور لکھتے ہیں :

لا اذبحنہ میں لا کے بعد الف بھی لکھا گیا ہے، کیونکہ مسلمانوں کا اعتماد قرآن مجید کے پھڑنے میں حفظ پر ہے کتابت پر نہیں ہے کیونکہ مصاحف کو اس وقت تک نہیں لکھا گیا جب تک کہ ان کو بیس سے زیادہ مرتبہ پڑھ نہیں لیا گیا، اور مصحف کے رسم الحظ میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو بعد میں بنائے گئے رسم الحظ کے قواعد کے مخلاف ہیں کیونکہ ابتداء اسلام میں رسم الحظ کے قواعد منضبط نہیں ہوئے تھے اور عرب کا اعتماد اپنے حافظوں پر تھا۔ (التحریر والتنویر ج ١٩ ص 247-248 مطبوعہ تیونس)

لاذبحنہ کے علاوہ قرآن میں اور بھی کافی الفاظ ایسے ہیں جو رسم الحظ کے قواعد کے خلاف لکھے ہوئے اس لئے ہم ذیل میں ان الفاظ کی فہرست پیش کر رہے ہیں۔

قواعد رسم الحظ کے خلاف مصحف میں مذکور الفاظ کی فہرست 

نمبر  سورۃ  آیت  پارہ رکوع 

١ افائن مات سورة آل عمران ١٤٤ پ ٤ ر٦

٢ لا الی اللہ  سورة آل عمران  ١٥٨ پ ٤ ر٨

٣ تبوء ا  سورة مائدہ  ٢٩ پ ٦ ر٩

٤ ملائہ سورة اعراف  ١٠٣  پ ٩ ر٣

٥ لا اوضعوا  سورة توبہ ٤٧ پ ١٠ ر١٢

٦ ملائہ سورة یونس  ٧٥ پ ١١ ر١٢

٧ ئھم  سورة یونس  ٨٣ پ ١١ ر١٤

٨ تموذا  سورة ھود  ٦٨ پ ١٢ ر ٦

٩ ملالہ سورة ھود  ٩٧ پ ١٣ ر ٩

١٠لتتلوا سورۃ رعد ٣٠ پ ١٥ ر١٠

١١ لن یدعوا سورۃ کھف ١٤ پ ١٥ ر١٤

١٢ لشایء سورۃ کھف  ٢٣ پ ١۵ ر١٦

١٣ لکنا سورۃ کھف ٣٨  پ ۱۵ ر ١٧

١٤ افائن مث سورة انبیاء ٣٤  پ ١۸ ر ٣

١٥ ملائہ سورة مومنون ٤٦ پ ١۸ ر٣

١٦ تموذا سورة فرقان  ٣٨ پ ۱۹ ر ٢

١٧ لا اذبحنہ سورة نمل ٢١ پ ۱۹ ر ١٧

١٨ ملائہ سورة قصص ٢٢ پ ۲۰ ر ٧

١٩تمودا سورة عنکبوت ٣٨ پ ٢٠ ر ١٦

٢٠ لیریوا سورة روم ٣٩پ ٢١ ر٧

٢١ لا الی الجحیم  سورہ صافات٦٨  پ ٢٣ ر ٦

٢٢ ملائہ سورة زخرف ٤٦  پ ٢٥ ر١١

٢٣لیبلوا سورۃ محمد  ٤ پ ۲۶ ر ٥

٢٤ ونبلوا سورة محمد   ٢١ پ ٢٦ ر ٨

٢٥ ثمودا سورة النجم  ٥١  پ ٢٧ ر ٧

٢٦ سلسسلا  سورة دھر  ٤ پ ٢٩ ر١٩

٢٧ کانت قوار یرا  سورة دھر  ١٥ پ ٢٩ ر١٩

٢٨ فواریرا  سورة دھر  ١٦ پ ٢٩ ر ١٩

(القرآن الحکیم مع ترجمہ البیان، مطبوعہ کا ظمی پبلی کیشنز ملتان)

قواعد رسم الخط کی ،خالفت کے جوابات کی تنقیح

(١) علامہ ابن خلدون نے یہ جواب دیا ہے کہ جن صحابہ نیمصحف کو لکھا وہ رسم الحظ کے جاننے والے نہ تھے اور بعد کے جاننے والوں نے ان الفاظ کی اصلاح نہیں کی اور ان کو تبرکا اور ادباً اسی طرح رہنے دیا۔

(٢) علامہ آلوسی نے یہ جواب دیا ہے کہ صحابہ کرام ان قواعد کے جاننے والے تھے، لیکن ان کی یہ مخالفت کسی حکمت اور کسی نکتہ پر مبنی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہم اس حکمت پر مطلع ہوں۔ دوسرا جوابیہ ہے کہ صحابہ کرام نیجن لوگوں سے لکھنا سکیھا تھا انہوں نیان کو یہ قواعد پوری طرح نہیں سکھائی اس لئے قصور سکھانے والوں کا ہے نہ کہ صحابہ کرام کا۔

(٣) صحابہ کرام کے مصحف میں لکھنے کے بعد یہق واعد بنائے گئے ہیں اور بعد میں بنائے گئے قواعد کی اتباع کرنا صحابہ کرام پر لازم نہ تھا۔

مصحف کریمک اخط بھی تواتر سے ثابت ہے اور موجودہ خط پر امت کا اجماع ہے، اس لئے اس خط میں رد و بدل کرنا جائز نہیں اور جو آیات مصحف میں جس طرح لکھی ہوئی ہیں ان کو اسی طرح لکھا جائے گا۔

یہ آیات جو لکھنے کے قواعد کے خلاف مصحف میں لکھی ہوئی ہیں اس مخلافت میں یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید ترمیم، تحریف اور ردو بدل سے محفوظ ہے۔ آج سے چودہ سو سال پہلے جس طرح حضرت عثمان (رض) نیمصحف کو لکھوایا تھا آج بھی مصحف اسی طرح لکھا ہوا ہے، حتیٰ کہ اس وقت جو الفاظ رسم الحظ کے قواعد کے خلاف لکھے ہوئے تھے۔ وہ آج بھی اسی طرح لکھے ہوئی ہیں، ورنہ یہ ممکن تھا کہ جب بعد میں رسم الحظ کے قواعد مرتب اور مدون کئے گئے تو قرآن مجید میں جو الفاظ ان قواعد کے خلاف لکھے گئے تھے ان کی اصلاح کر کے ان کو بدل دیا جاتا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور تمام امت نے قرآن مجید کے خط کو اسی حال پر باقی رکھا جس حال میں حضرت عثمان نے اس کو رکھا تھا، اور یہ اس بات کی بہت واضح اور بین اور بہت قوی دلیل ہے کہ قرآن مجید ہر قسم کی تحریف اور رد و بدل سے محفوظ ہے نہ اس کے رسم الحظ اور لکھنے میں کوئی ترمیم ہوئی اور نہ اس کی تلاوت میں۔ (البتہ برصغیر کے بعض مصاحف میں ناخواندہ عجمیوں کی سہولت کے لئے رسم الحظ میں کچھ ناگزیر تبدیلی کردی گئی ہے۔ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 21