الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 490

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے فرماتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر پر رکھا فرمایا اے عبداللہ ابن عمر کیا ہے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے ۱؎ اور آ پ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں فرمایا ہاں لیکن میں تم میں سےکسی کی طرح نہیں ہوں ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ اس ساری حدیث میں نماز سے مراد نماز نفل ہے مرد کا ذکر اتفاقًا ہے ورنہ عورت کا بھی حکم یہی ہے۔خیال رہے کہ یہاں حضرت عبداﷲ کسی مجبوری سے سامنے حاضر نہ ہوسکے اور کچھ عرض نہ کرسکے اس لیئے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیئے یہ عمل کیا لہذا یہ بے ادبی میں شمار نہیں یا یہ حضرت اس وقت آداب بارگاہ سے پورے واقف نہ تھے جیسے کہ بعض ناواقفوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی داٖڑھی مبارک پر ہاتھ رکھ دیا ایسے ناواقفوں کی بے ادبی معاف ہوتی ہے۔

موسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جان در دانا دیگر اند

۲؎ یعنی ثواب کی کانٹ پھانٹ تمہارے لیئے ہے ہم کو بیٹھ کر نفل پڑھنے میں وہ ثواب ملتا ہے جو تمہیں کھڑے ہو کر پڑھنے میں نہیں ملتا یا یہ معنی ہیں کہ ہمیں جتنا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے میں ملتا ہے اتنا ہی بیٹھ کر یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے “قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ” وہاں ظاہر کا ذکر ہے یہاں حقیقت کا یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری چہرے مہرے میں شکل انسانی میں ہیں اور حقیقت و مراتب میں فرشتے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو اس آیت کو آڑ بنا کر اپنے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل اور حضور کو اپنی مثل سمجھتے ہیں(صلی اللہ علیہ وسلم)جب یہ لوگ ایمان کی وجہ سے ابوجہل کی مثل نہیں ہوسکتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے ہوتے ہوئے ہماری مثل کیسے ہوسکتے ہیں۔