حدیث نمبر 491

روایت ہے حضرت سالم ابن ابی الجعد سے فرماتے ہیں کہ خزاعہ کے ایک آدمی نے کہا کاش میں نماز پڑھ لیتا تو راحت پا جاتا، شاید لوگوں نے اس بات کو معیوب سمجھا ۱؎ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اے بلال نماز کی تکبیر کہو ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ وہ یہ سمجھے کہ نماز انہیں بوجھ ہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نماز سے ہلکا ہوکر سو رہتا یہ معنی واقعی برے ہیں۔

۲؎ یعنی نماز ہماری راحت کا ذریعہ ہے اس میں مشغول ہو کر چین ملتا ہے اسی لیئے بِھَا فرمایامنھانہ فرمایا،اس کی شرح وہ حدیث ہے کہ فرماتے ہیں کہ نماز میں میری آنکھ کی ٹھنڈک ہے،یہی مطلب ان صحابی کا تھا۔