أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَ لۡقِ عَصَاكَ‌ ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ‌ ؕ يٰمُوۡسٰى لَا تَخَفۡ اِنِّىۡ لَا يَخَافُ لَدَىَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اپنا عصا ڈال دیجئے ‘ پھر جب انہوں نے اس کو اس طرح لہراتا ہوا دیکھا گویا کہ وہ سانپ ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ‘(تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے موسیٰ ! ڈریے مت ‘ بیشک میری بار گاہ میں رسول ڈرا نہیں کرتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنا عصا ڈال دیجئے۔ پھر جب انہوں نے اس کو اس طرح لہراتا ہوا دیکھا گویا کہ وہ سانپ ہے اور پیچھے مڑکر نہ دیکھا ‘(تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے موسیٰ ! ڈریے مت ‘ بیشک میری بارگاہ میں رسول ڈرا نہیں کرتے۔ (النمل : ۱۰)

حیۃ ‘ جآن اور ثعبان کے معنی اور ان میں تطبیق 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور جس کا سہارا لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیجئے ! اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ندا سنتا ہے اور اس کے جمال کے انوار کا مشاہد کرتا ہے ‘ اے ہر اس چیز کو پھینک دینا چاہیے جس کا وہ اللہ کے سوا سہارا لیتاہو اور اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کے فضل و کرم کے سوا اور کسی چیز کا سہارانہ لے۔

اس آیت میں جآن کا لفظ فرمایا ہے جس کا معنی سانپ ہے ‘ اور ایک سورة میں ثعبان فرمایا ہے جس کا معنی اژدھا ہے :

فالقی عصاہ فاذاھی ثعبان مبین۔ (الاعراف : ٧٠١‘ الشعرائ : ٠٢) سو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا پس اچانک وہ صاف صاف اژ دھا تھا۔

ایک اور جگہ فرمایا ہے :

فالقھا فاذاھی حیۃ تسعی۔ (طہ : ٠٢) سو موسیٰ نے اپنا عصاڈال دیا تو یکایک وہ سانپ بن کر دوڑنے لگا۔

حیۃ اور جآن کے معنی سانپ ہیں وہ چونکہ تیزی سے حرکت کرتا ہوا پھر ہا تھا اس لیے اسکو حبیہ اور جآن فرمایا اور الاعراف اور الشعراء میں اس کو ثعبان فرمایا کیونکہ جسامت میں وہ اژدھے کے برابر تھا ‘ دوسری توجیہ یہ ہے کہ وہ عصا ظاہری طور پر اس وادی میں سانپ کی صورت بن گیا اور فرعون کے دربار میں اس کو خوف زدہ کرنے کے لیے اژدھے کی صورت بن گیا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ کے سوا کسی چیز پر تکیہ اور اعتماد کرتا ہے ‘ وہ تکیہ اور سہارا درحقیقت اس کے حق میں سانپ اور اژدھا ہوتا ہے۔

رسولوں کے ڈرنے یا نہ ڈرنے کی تحقیق 

پھر جب حضرت موسیٰ نے اس عصا کو اس طرح لہراتے ہوئے دیکھا گویا وہ سانپ ہے اور پیچھے مڑکر نہ دیکھا (تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :) اے موسیٰ ! ڈریے مت ‘ بیشک میری بار گاہ میں رسول ڈرا نہیں کرتے۔

اس آیت کے دو محمل ہیں ایک یہ ہے کہ آپ میرے غیر سے مت ڈریے اور دوسرا یہ ہے کہ آپ مطلقاً مت ڈریے۔

پھر فرمایا : بیشک میری بار گاہ میں رسول ڈرا نہیں کرتے۔

بہ ظاہر اس کا معنی یہ ہے کہ رسول مطلقاً نہیں ڈرتے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ جب ان پر وحی کی جائے اور اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرمارہاہو اس وقت وہ نہیں ڈرتے ‘ کیونکہ اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے مطالعہ میں منہمک اور مستغرق ہوتے ہیں۔ اس لیے اس وقت وہ کسی سے نہیں ڈرتے ‘ اور باقی اوقات میں وہ اللہ سبحان سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آخرت میں انجام بہ خیر ہوگا اس لیے وہ سوء عاقبت (برے انجام) سے نہیں ڈرتے۔

انبیاء (علیہم السلام) کا اللہ سے ڈرنا 

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی ظاہرنصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی آخرت کے خوف سے دنیا میں ڈرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

افامنوامکر اللہ ج فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون۔ (الاعراف : ٩٩) کیا پس وہ اللہ کی گرفت اور عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں۔ اللہ کی گرفت اور عذاب سے وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہوں۔

اور ایک اور آیت میں ہے :

انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا ط۔ (فاطر : ٨٢) اللہ کے بندوں میں سے صرف وہی اللہ سے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

اور اللہ کی ذات اور صفات اور احکام شرعیہ کے سب سے زیادہ علم والے انبیاء (علیہم السلام) ہیں تو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے بھی انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔

نیز اللہ تعالیٰ نے نمازیوں کی تعریف اور تحسین کرتے ہوئے ان کے اوصاف بیان فرمائے :

والذین یصدقون بیوم الدین۔ والذین ھم من عذاب ربہم مشفقون۔ ان عذاب ربھم غیر مامون۔ (المعارج : ٨٢۔ ٦٢) اور وہ حساب کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ بیشک ان کے رب کا عذاب ‘ بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔ 

اور ان اوصاف کے ساتھ کامل متصف انبیاء (علیہم السلام) ہیں لہٰذا وہ سب سے زیادہ اللہ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔

اسی طرح بعض احادیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں :

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ سے ڈرنا 

شھر بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے عرض کیا : اے ام المومنین ! جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پاس تشریف فرما ہوتے تھے تو آپ اکثر اوقات میں کیا دعا فرماتے تھے ‘ حضرت ام المومنین نے فرمایا ‘ آپ اکثر اوقات دعا کیا کرتے تھے :

یا مقلب القلوب ! ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔

پھر آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! ہر آدمی کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان میں ہے ‘ پس وہ جس کے دل کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور جس کے دل کو چاہتا ہے ٹیڑھا کردیتا ہے پھر راوی نے اس آیت کی تلاوت کی۔

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا (آل عمران : ٨) اے ہمارے رب ! تو ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھانہ کرنا۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٥٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٠١ ص ٩٠٢‘ ج ١١ ص ٧٣‘ مسند احمد ج ٦ ص ٥١٣‘ ١٠٣‘ ٤٩٢‘ السنتہ لابن ابی العاصم رقم الحدیث : ٢٣٢‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٩١٩٦‘ ٦٨٩٦‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤٧٧‘ ٥٧٧)

آپ کا دنیا میں کثرت سے یہ دعا کرنا اللہ تعالیٰ کے خوف کی بنا پر تھا۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مسلمانوں نے کہا : یار سول اللہ ! بیشک ہم آپکی مثل نہیں ہیں ! بیشک اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولیٰ سب کاموں کی مغفرت فرمادی ہے ‘ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرئہ مبارک سے غضب کے آثار معلوم ہوئے ‘ پھر آپ نے فرمایا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠٢‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٦١٢٣ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کوئی مسئلہ معلوم کررہا تھا اور میں بھی دروازے کی جھری کے پاس کھڑی ہو کر سن رہی تھی اس نے کہا : یا رسول اللہ فجر کی نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں ‘ کیا میں اس حالت میں روزہ رکھ سکتا ہوں ؟ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر بھی نماز کا وقت آپہنچتا ہے اور میں حالت جنابت میں ہوتا ہوں اور میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ اس شخص نے کہا آپ ہماری مثل تو نہیں ہیں ؟ یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے بہ ظاہر سب خلاف اولیٰ کام معاف فرما دئیے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم : میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور میں تم سب سے زیادہ ان کاموں کو جانتا ہوں جن سے بچنا چاہیے۔(صحیح مسلم ‘ الصوم : ٩٧‘ رقم الحدیث : بلاتکرار : ١١١‘ الرمق المسلسل : ٢٥٥٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٩٨٣٢)

ان احادیث میں یہ واضح تصریح ہے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے ‘ اور آپ تمام نبیوں سے افضل اور مکرم ہیں اور جب آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے تو باقی انبیاء (علیہم السلام) تو بہ طریق اولیٰ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے۔

علامہ شہاب الدین احمد خفاجی حنفی متوفی ٩٦٠١ ھ لکھتے ہیں۔

امام اشعری کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) آخرت کے برے انجام سے نہیں ڈرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آخرت کے عذاب سے مامون ہونے کی خبر دے دی ہے اور اگر وہ پھر بھی آخرت کے برے انجام سے خائف ہوں تو لازم آئے گا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین نہیں ہے۔ (عنایۃ القاضی ج ٧ ص ٦٢٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

امام اشعری کا یہ قول اس لیے صحیح نہیں ہے کہ ہم احادیث صریحہ صحیحہ بیان کرچکے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ سے ڈرتے تھے ‘ نیز خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کی بشارت دی ہے اور جنت کی بشارت اس کو مستلزم ہے کہ وہ آخرت کے برے انجام اور دوزخ کے عذاب سیمامون ہوں پھر بھی یہ صحابہ کرام اللہ سے ڈرتے رہتے تھے اور آخرت کے عذاب سے فکر مند رہتے تھے ‘ اس سلسلہ میں یہ احادیث ہیں :

حضرت ابوبکر (رض) کا اللہ سے ڈرنا 

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا ایک غلام تھا جو آپ کے لیے کما کر لاتا تھا۔ ایک رات وہ آپ کے لیے طعام لے کر آیا ‘ آپنے اس میں سے کچھ کھالیا۔ غلام نے کہا کیا وجہ ہے کہ آپ ہر رات مجھ سے سوال کرتے تھے کہ یہ کہاں سے لائے ہو ‘ آج آپ نے سوال نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : میں بھوک کی شدت کی وجہ سے ایسانہ کرسکا تم یہ کہاں سے لائے ہو ؟ س نے کہا میں زمانہ جاہلیت میں کچھ لوگوں کے پاس گزرا اور ایں نے منتر پڑھ کر ان کا علاج کیا تھا ‘ انہوں نے مجھ سے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا ‘ آج جب میرا وہاں سے گزر ہوا تو وہاں شادی تھی تو انہوں نے اس میں سے مجھے یہ طعام دیا۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : افسوس ! تم نے مجھے ہلاک کردیا۔ پھر حضرت ابوبکر اپنے حلق میں ہاتھ ڈال کر قے کرنے لگے ‘ اور چونکہ خالی پیٹ میں وہ لقمہ کھایا گیا تھا ‘ وہ نکل نہیں رہا تھا ‘ ان سے کہا گیا کہ بغیر پانی پئے یہ لقمہ نہیں نکلے گا ‘ پھر پانی کا پیالہ منگایا گیا ‘ حضرت ابوبکر پانی پیتے رہے اور اس لقمہ کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان سے کہا گیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے ‘ آپ نے اس ایک لقمہ کی وجہ سے اتنی مشقت اٹھائی۔ حضرت ابوبکر نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسم کا جو حصہ مال حرام سے بنا ہے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے ‘ پس مجھے یہ خوف ہوا کہ میرے جسم کا کوئی حصہ اس لقمہ سے بن جائے گا۔ (صفوۃ الصفوۃ ج ١ ص ١١١‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ ریاض ‘ حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ٥٦‘ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ ‘ اتحف السادۃ المتقین ج ٥ ص ٦٢٢‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٦٩٢٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٩٥٢٩ )

حضرت عمر (رض) کا اللہ سے ڈرنا 

حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بخدا ! اگر میں چاہوں تو سب سے زیادہ ملائم لباس پہنوں اور سب سے لذیذ کھانا کھائوں اور سب سے اچھی زندگی گزاروں لیکن میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کو انکے کاموں پر ملامت کی اور فرمایا :

اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا۔ (حلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ٧١١‘ طبع جدید) تم اپنی عمدہ لذیذ چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں لے چکے اور تم نے ان سے (خوب) فائدہ اٹھا لیا۔

حضرت ابن عمر (رض) باین کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو تین صفوں تک ان کے رونے کی آواز پہنچتی تھی۔ (حلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ٤٣١‘ طبع جدید)

دائود بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا : اگر فرات کے کنارے ایک بکری بھی ضائع ہوگئی تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ مجھ سے اس کے متعلق سوال کرے گا۔ (حلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ١٤١‘ صفوۃ الصفوۃ ج ١ ص ٨٢١ )

یحییٰ بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : اگر آسمان سے ایک منادی یہ ندا کرے کہ : اے لوگو ! تم سب کے سب جنت میں داخل ہو جائو ‘ سو اے ایک شخص کے ‘ تو مجھے ڈر ہے کہ وہ ایک شخص میں ہوں گا اور اگر منادی یہ ندا کرے کہ : اے لوگو ! تم سب کے سب دوزخ میں داخل ہو جائو سو اے ایک شخص کے تو مجھے امید ہے کہ وہ ایک شخص میں ہوں گا۔ (حلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ٢٤١ )

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر تاحیات لگاتار روزے رکھتے رہے۔

سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر آدھی رات کے وقت نماز پڑھنے کو پسند کرتے تھے۔ (صفوۃ الصفوۃ ج ١ ص ٩٢١ )

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے کہا : اے عبداللہ بن عمر ! ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کے پاس جائو اور ان سے کہو کہ عمر بن الخطاب آپ کو سلام عرض کرتا ہے ‘ اور ان سے یہ سوال کرو کہ میں اپنے صاحبوں ( سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر) کے ساتھ دفن کردیا جائوں ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں اپنے لیے اس جگہ دفن ہونے کا ارادہ رکھتی تھی ‘ لیکن آج میں عمر کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔ جب حضرت ابن عمر واپس آئے تو حضرت عمر نے پوچھا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا اے امیر المومنین ! انہوں نے آپ کو اجازت دے دی۔ حضرت عمر نے کہا میرے نزدیک اس جگہ مدفون ہونے سے زیادہ اور کوئی اہم چیز نہیں تھی ‘ جب میں فوت ہو جائوں تو میرے جنازہ کو ام المومنین کے پاس لے جانا ‘ ان کو سلام عرض کرنا پھر کہنا عمر بن الخطاب آپ سے اجازت طلب کرتا ہے ‘ اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے دفن کردینا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا۔ پھر فرمایا میرے نزدیک اس خلافت کا اس ان مسلمانوں سے زیادہ کوئی اور مستحق نہیں جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے وصال کے وقت راضی تھے۔ پس میرے بعد جس کو بھی خلیفہ بنادیا جائے تم سب اس کے احکام کو سننا اور اس کی اطاعت کرنا ‘ پھر حضرت عمر نے یہ نام لیے : حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) ۔ اس وقت انصار کا ایک انوجوان آیا اور کہا اے امیر المومنین ! آپ کو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہو ‘ آپ کو معلوم ہے کہ آپ اسلام لانے میں مقدم ہیں ‘ پھر آپ کو خلیفہ بنایا گیا تو آپ نے عدل کیا ‘ پھر ان تمام (خوبیوں) کے بعد آپ کو شہادت ملی۔ آپ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! کاش کہ یہ سب برابر سرابر ہوجائے ‘ مجھے عذاب ہو نہ ثواب ہو ‘ الحدیث : (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٩٣١)

حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن الخطاب کو دیکھا کہ انہوں نے زمین سے ایک تنکہ اٹھاکر کہا کاش ! میں پیدا نہیں کیا جاتا کاش میری ماں مجھے نہ جنتی کاش میں کچھ بھی نہ ہوتا کاش میں بھولا بسرا ہوتا ۔صفوۃ الصفوۃ

حضرت عثمان (رض) کا اللہ سے ڈرنا 

شرجیل بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) لوگوں کو امیروں والا کھانا کھلاتے تھے اور جب گھر میں داخل ہوتے تو سر کہ اور زیتون کے تیل سے روٹی کھاتے تھے۔ (کتاب الزہد لاحمد ‘ ص ٠٦١‘ صفوۃ الصفوۃ ج ١ ص ٧٣١)

حضرت عثمان کے آزاد شدہ غلام ہانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر رو تے کہ ان کی داڑھی آنسوئوں سے بھیگ جاتی۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں ‘ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : قبر آخرت کی منازل میں سے سب سے پہلی منزل ہے۔ جو اس منزل سے نجات پا گیا ‘ اس کے لیے اس کے عبد کی منازل زیادہ آسان ہیں اور اگر اس سے نجات نہیں ہوئی تو بعد کی منازل زیادہ دشوار ہیں۔ (کتاب الزہد لاحمد ص ٠٦١‘ خلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ٦٨١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٨٠٣٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٧٦٢٤ )

حضرت علی (رض) کا اللہ سے ڈرنا 

مجمع بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بیت المال کا سارا مال تقسیم کرنے کا حکم دیتے ‘ پھر اس میں جھاڑودے کر اس کو دھو ڈالتے پھر اسمیں نماز پڑھتے اور یہ امید رکھتے کہ قیامت کے دن یہ بیت المال گواہی دے گا کہ انہوں نے بیت المال کے مال کو مسلمانوں سے روکا نہیں۔ (کتاب الزہد لاحمد ص ٣٦١‘ صفوۃ الصفوۃ ج ١ ص ٢٤١ )

حبہ بن جو ین بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس فالود لایا گیا اور ان کے سامنے رکھا گیا تو حضرت علی نے فرمایا : تیری بہت اچھی خوشبو ہے اور بہت اچھا رنگ ہے اور بہت اچھا ذائقہ ہے لیکن مجھے یہ ناپسند ہے کہ مجھے تجھے کھانے کی عادت پڑجائے۔ (کتاب الزہد لاحمد ص ٥٦١ )

حسن بن علی (رض) نے حضرت علی کی شہادت کے بعد خطبہ دیا کہ تمہارے پاس سے ایک امین شخص چلا گیا ‘ پہلوں میں اس جیسا کوئی امین تھا اور نہ بعد میں کوئی ان جیسا ہوگا ‘ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو جہاد کے لیے بھیجتے تھے اور ان کو جھنڈا عطا فرماتے اور وہ ہمیشہ فتح و کامرانی کے ساتھ لوٹتے تھے۔ انہوں نے اپنے ترکہ میں کوئی سونا ‘ چاندی نہیں چھوڑا سوا سات سو درہم کے جو انہوں نے مستحقین میں تقسیم کرنے کے لیے رکھے ہوئے تھے اور ان کے اہل کے لیے کوئی خادم نہیں تھا۔ (کتاب الزہد لاحمد ص ٦٦١ )

یزید بن محجن بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی (رض) کے ساتھ تھے ‘ آپ نے اپنی تلوار منگا کر کر اس کو میان سے نکالا پھر فرمایا : اس تلوار کو کون خریدے گا ‘ بخدا اگر میرے پاس لباس کو خرید نے کے لیے پیسے ہوتے تو میں اس کو نہ فروخت کرتا۔(کتاب الزہد لاحمد ص ٤٦١‘ حلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ٨٥٢‘ الریاض العضر ۃ ج ٣ ص ٠٢٢ )

ہارون بن عنزہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت علی بن ابی طالب کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ وہ ایک چادر میں کپکپا رہے تھے۔ میں نے کہا اے امیر المومنین ! اللہ نے آپکے لیے اور آ پکے اہل کے لیے بھی اس بیت المال میں حصہ رکھا ہے ‘ اور آپ نے اپنا یہ حال بنا رکھا ہے ! حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں تمہارے مال میں سے کچھ کم نہیں کرنا چاہتا ‘ میرے پاس صرف میری یہ چادر ہے جو میں مدینہ سے لایا تھا۔ (صفوۃ الصفوۃ ج ١ ص ٣٤١ )

عصمت کی تحقیق 

بعض علماء نے یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) اس لیے نہیں ڈرتے کہ وہ معصوم ہیں کیونکہ جب ان سے گناہ ہو ہی نہیں سکتا تو پھر ان کو گناہوں پر عذاب سے ڈر بھی نہیں ہوگا۔ یہ دلیل اولاً اس لیے صحیح نہیں کہ فرشتے بھی معصوم ہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں فرشتوں کے متعلق ہے :

ولا یشفعون لا الا لمن ارتضی وھم من خشیتہ مشفقون۔ (الانبیائ : ٨٢) اور فرشتے اس کی شفاعت کریں گے جس کی شفاعت سے اللہ راضی ہو اور وہ اس کے رعب اور جلال سے ڈرنے والے ہیں۔

ثانیاً یہ بات اس لیے بھی غلط ہے کہ کسی شخص کے معصوم ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا۔ عصمت کی تعریف یہ ہے :

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ١٩٧ ھ لکھتے ہیں :

عصمت کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ میں اس کی قدرت اور اختیار کے باوجود گناہ نہ پیدا کرے ‘ اسی کے قریب یہ تعریف ہے : عصمت اللہ تعالیٰ کا لطف ہے جو بندہ کو نیک کاموں پر ابھارتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے۔ اس کے باوجود کہ بندہ کو اختیار ہوتا ہے ‘ تاکہ بندہ کا مکلف ہونا صحیح رہے ‘ اس لیے شیخ ابو منصور ماتریدی نے فرمایا عصمت مکلف ہونے کو زائل نہیں کرتی۔ ان تعریفوں سے ان لوگوں (شیعہ اور بعض معتزلہ) کے قول کا فساد ظاہر ہوگیا جو یہ کہتے ہیں کہ عصمت نفس انسان یا اس کے بدن میں ایسی خاصیت ہے جس کی وجہ سے گناہوں کا صدور محال ہوجاتا ہے ‘ کیونکہ اگر کسی انسان سے گناہ کا صدور محال ہو تو اس کو مکلف کرنا صحیح ہوگا نہ اس کو اجر وثواب دینا صحیح ہوگا۔ (شرح عقائد نسفی ص ٩٠١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی)

علامہ عبد العزیز پر ہاروی نے بھی عصمت کی اس تعریف سے اتفاق کیا ہے۔ (نبراس ص ٤٣٥‘ مطبوعہ لاہور ‘ ٧٩٣١ ھ)

علامہ شمس الدین خیالی متوفی ٠٧٨ ھ عصمت کی تعریف میں لکھتے ہیں۔

ھی ملکۃ اجتناب المعاصی مع التمکن فیھا۔ گناہوں پر قدرت کے باوجود گناہوں سے بچنے کے ملکہ (مہارت) کو عصمت کہتے ہیں۔ (حاشیۃ الخیالی ص ٦٤١‘ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنو)

علامہ زبیدی متوفی ٥٠٢١ ھ نے علامہ مناوی سے عصمت کی یہی تعریف نقل کی ہے اور علامہ میر سید شریف جرجانی متوفی ٦١٨ ھ نے بھی یہی تعریف لکھی ہے۔ (تاج العروس ج ٨ ص ٩٩‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیر یہ ‘ مصر ‘ ٦٠٣١ ھ ‘ التعریفات ص ٥٦‘ مطبوعہ مصر ‘ ٦٠٣١ ھ)

شیعہ اور معتزلہ نے عصمت کی یہ تعریف کی ہے ‘ شیخ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) کے لیے کوئی برا کام کرنا ممکن نہیں ہے ‘ نبوت سے پہلے نہ نبوت کے بعد ‘ صغیرہ نہ کبیرہ۔ (التبیان ١ ص ٩١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت)

لیکن شیعہ کی یہ تعریف اس لیے غلط ہے کہ اگر انبیاء (علیہم السلام) سے گناہوں کا صدور ناممکن اور محال ہو تو پھر ان کو گناہوں کے ترک کرنے کا مکلف کرنا صحیح نہ ہوگا کیونکہ مکلف اس چیز کا کیا جاتا ہے جس کا کرنا یا نہ کرنا بندہ کی قدرت اور اس کے اختیار میں ہو ‘ اس پر بعض لوگوں نے یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) صرف امر کے مکلف ہوتے ہیں نہی کے مکلف نہیں ہوتے ‘ میں کہتا ہوں کہ جب آپ نے ان کو امر کا مکلف مان لیا تو یہ مان لیا کہ امر پر عمل کرنا یا نہ کرنا ان کے اختیار میں ہے اور جب یہ مان لیا تو آپ نے ان کی گناہوں پر قدرت مان لی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے امر اور حکم پر عمل نہ کرنا گنا ہے۔

انبیاء (علیہم السلام) سے گناہوں کا صدور عقلا ممتنع اور محال نہیں ہے ہاں شرعاً ممتنع ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے گناہوں کا صدور عادۃ محال ہے کیونکہ نصوص قطعیہ سے یہ ثابت ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) گناہ نہیں کرتے ‘ صغیرہ نہ کبیرہ ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت اور ان کی اتباع کو واجب قرار دیا ہے اگر وہ گناہ کرتے تو ان کی اطاعت اور اتباع واجب نہ ہوتی اس لیے شرعاً ان کا گناہ کرنا ممتنع ہے ‘ اور عقلاً ان کا گناہ کرنا ممتنع نہیں ہے کیونکہ وہ مکلف ہیں۔ ان کے نیک کاموں کی اللہ تعالیٰ نے تعریف اور تحسین فرمائی ہے اور ان سے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے اختیار سے نیک کام کیسے ہوں اور اپنے اختیار سے برے کاموں کو ترک کیا ہو۔

رسولوں کے اللہ سے نہ ڈرنے کا محمل 

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ ظاہر کتاب و سنت سے اور عقل سلیم سے یہ ثابت ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کی گرفت اور پکڑ سے بےخوف نہیں ہیں اور ہرچند کہ ان سے گناہوں کا صدور شرعاً ممتنع ہے لیکن عقلاً ان سے گناہوں کا صدور محال نہیں ہے ‘ بلکہ ان سے گناہوں کا صدور ان ممکنات میں سے ہے جن ممکنات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا تعلق صحیح ہے۔ سو انبیاء (علیہم السلام) اور ملائکہ سب اللہ تعالیٰ سے خائف ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو فرمایا ہے :

انی لا یخاف لدی المرسلون۔ (النمل : ٠ ١) بیشک میری بارگاہ میں رسول ڈر انہیں کرتے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے دلوں میں یہ علم پیدا کردیا ہے کہ جس عذاب سے وہ ڈرتے رہتے ہیں وہ عذاب ان کو کسی وقت بھی نہیں دیا جائے گا ‘ ہرچند کہ وہ عذاب فی نفسہ ممکن بالذات ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو عذاب نہیں دے گا اور اس نے اپنے رسولوں سے نجات کا وعدہ فرما لیا ہے ‘ اللہ کے رسول ‘ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کے وعدہ کی وجہ سے عذاب سے نہیں ڈرتے اور اس عذاب کے ممکن بالذات ہونے کی بنا پر اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (روح المعانی جز ٩١ ص ٧٤٢‘ ٦٤٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

امام محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

جب رسولوں کو معجزہ ظاہر کرنے کا حکم دیا جائے اس وقت وہ کسی سے نہیں ڈرتے ‘ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا تعلق ہے تو وہ اللہ عزول سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٥٤٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

امام ابو منصور ماتریدی نے فرمایا : جو شخص اللہ تعالیٰ کے ماسوا کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ماسوا سے مامون اور محفوظ رکھتا ہے اور اس سے فرماتا ہے تم میرے غیر سے مت ڈرو ‘ تم میری پناہ میں ہو جو میری پناہ میں ہو وہ میرے غیر سے نہیں ڈرتا۔

علامہ ابو محمد روز بہان بن ابی نصر البقلی الشیرازی المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا : آپ اژدھے سے نہ ڈریں کیونکہ آپ نے جو کچھ دیکھا ہے وہ میری عظمت کی تجلی کا ظہور ہے اور مجھ سے خطاب کے وقت میری عظمت اور جلال کے مشاہدہ سے رسول نہیں ڈرتے ‘ کیونکہ وہ میری ربوبیت کے اسرار کو جانتے ہیں۔ (عرائس البیان ج ٢ ص ٠١١‘ مطبوعہ مطبع منشی نوالکشور لکھنئو)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قبطی کو گھونسا مار کر ہلاکر دینا آیا گناہ تھا یا نہیں !

چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں ایک قبطی کو تادیباً گھونسا مارا تھا اور قضاء الہٰی سے مرگیا تھا ‘ اور فرعونیوں نے یہ سمجھا تھا کہ حضرت موسیٰ نے ظلماً ایک شخص کو ہلاک کردیا ہے اس لیے وہ انتقاماً آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے ‘ اس وجہ سے آپ مصر چھوڑ کر مدین چلے گئے تھے اور دس سال سے زیادہ عرصہ گزار کر پھر مصر لوٹ رہے تھے ‘ اس لیے اس موقع پر آپ کو اس قبطی کے ہلاک ہونے کا واقعہ یاد آیا تو اللہ تعالیٰ نے تعریضاً فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 10