أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ فَقَالَ مَا لِىَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ ‌ۖ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآئِبِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے پرندوں کی تفتیش کی تو کہا کیا وجہ ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ! یا وہ غیر حاضروں میں سے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے پرندوں کی تفتیش کی تو کہا کیا وجہ ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ! یا وہ غیر حاضر ہوں میں سے ہے۔ میں اس کو ضرور سخت سزا دوں گا یا اس کو ضرور ذبح کر دوں گا، ورنہ وہ اس کی صاف صاف وجہ بیان کرے۔ وہ (ہد ہد) کچھ دیر بعد آ کر بوال، میں نی اس جگہ کا احاطہ کرلیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا، میں آپ کے پاس (ملک) سبا کی ایک یقینی خبر لایا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ ان پر ایک عورت کر رہی ہے اور اس کو ہر چیز سے دیا گیا ہے اور اس کا بہت بڑا تخت ہے۔ (النمل : ٢٣-٢٠ )

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہد کی گمشدگی کے متعلق جو سوال کیا تھا اس کی وجوہ 

اس آیت میں ہے : تفقد الطیر، تفقد کے معنی ہیں گمشدہ چیز کو تلاش کرنا اور فقد کا معنی ہے گم ہوجانا۔

(المفردات ج ٢ ص ٤٩٥، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

حضرت سلیمان نے پرندوں میں سے ہد ہد کو گم پایا تو فرمایا : مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ؟ بہ ظاہر یوں کہنا چاہیے تھا کہ ہد ہد کو کیا ہوا وہ کیوں نظر نہیں آ رہا ؟ لیکن یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا بہت مہذب اور شائستہ طریقہ گفتگو ہے کہ تقصیر کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے۔

علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :

ظاہر یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے تمام پرندوں کی تفتیش کی جیسا کہ بادشاہوں اور حکمرانوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تمام رعایا اور عوام کی تفتیش کرتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ ان کے پاس ہر صنف سے ایک پرندہ آتا تھا تو اس روز ہد ہد نہیں آیا، ایک قول یہ یہ کہ دھوپ میں پرندے ان پر سایہ کرتے تھے اور ہد ہد دائیں طرف سے ان پر سایہ کرتا تھا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جب دھوپ لگی تو انہوں نے ہد ہد کی جگہ پر دیکھا تو ان کو ہد ہد نظر نہیں آیا، حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کی خبر دیتا تھا، پھر جن زمین سے اس چیز کو نکال لیتے تھے جیسے بکری سے کھال اتار لی جاتی ہے، جب حضرت سلیمان جنگل میں اس جگہ ٹھہرے اور انہیں پانی کی ضرورت پڑی تو ان کو ہد ہد کا خیال آیا کہ وہ زمین کو دیکھ کر بتائے کہ اس کے اندر پانی ہے یا نہیں تاکہ جنات سے پانی نکلوایا جاسکے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو پرندوں کی تفتیش کی اس میں یہ دلیل ہے کہ حاکم کو رعایا کیا حوال کی تفتیش کرنی چاہیے تاکہ وہ عوام کی ضروریات کو پورا کرسکے، حضرت عمر نے فرمایا اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کو بھی بھیڑیا اٹھا کرلے گیا تو عمر سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا۔

(میں کہتا ہوں کہ جب چھوٹے چھوٹے شہر ہوتے تھے اور ان میں انسانوں کی آبادیاں بہت کم ہوتی تھیں اس وقت حاکموں کور عایا کے احوال کی تفتیش کی ضرورت ہوتی تھی، اب تو وسیع آبادیوں پر مشتمل بہت بڑے بڑے شہر میں جہاں لاکھوں اور کروڑوں انسان رہتے ہیں، اب اخبارات، ریڈیو اور ٹیوی کے ذریعہ لوگوں کے احوال معلوم ہوتے رہتے ہیں اور فرداً فرداً لوگوں کے احوال معلوم کرنا عملاً ممکن نہیں ہے۔ )

پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے کیا ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا، اس سے یہ مفہوم نکلتا تھا کہ وہ حاضر ہے لیکن کسی چیز کی اوٹ میں ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آ رہا، پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر یہ منکشف ہوا کہ وہ غائب ہے اس لئے انہوں نے کلام سابق سے اعراض کر کے فرمایا : یا وہ غیر حاضروں میں سے ہے۔

اور کشاف میں مذکور ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب بیت المقدس کی تعمیر کو مکمل کرچکے تو حج کے لیء تیار ہوئے، پھر وہ حرم میں گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہاں رہے، پھر یمن کی طرف روانہ ہونے کا قصد کیا پھر ایک دن صبح کیوقت مکہ سے نکلے اور زوال کے وقت صنعاء میں پہنچے اور یہ فاصلہ ایک ماہ کیمسافت پر تھا، انہوں نے ایک خوبصورت اور سرسبز زمین دیکھی، جو ان کو اچھی لگی وہ وہاں پر کچھ کھانے پینے اور نماز پڑھنے کے لئے ٹھہرے، اس جگہ ان کو پانی نہیں ملا اور ہد ہد ان کو آ کر بتاتا تھا کہ اس جگہ پانی ہے یا نہیں ! پھر جس جگہ ہد ہد پانی کی نشاندہی کرتا وہاں سے جنات پانی نکال کردیتے تھے اس بنا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہد کی طرف توجہ کی تو وہ نظر نہیں آیا، لہٰذا فرمایا : مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا یا وہ غیر حاضروں میں سے ہے۔ (البحر المحیط ج ٨ ص ٢٢٤-٣٢٣ مطبوعہ دارا لفکر بیروت : ١٤١٢ ھ)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت دینا 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ جب حج کے موقع پر حضرت سلیمان حرم شریف میں پہنچے تو آپ نے اپنے سرداروں سے کہا : یہ وہ جگہ ہے جہاں سے نبی عربی کا ظہور ہوگا اور ان کی ایسی ایسیصفات ہوں گی، ان کے اعداء کے خلاف ان کی مدد کی جائے گی، ایک ماہ کیم سافت سے ان کے دشمنوں پر ان کا رعب طاری کردیا جائے گا، اور اللہ کا پیغام سنانے میں انہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں ہوگا، سرداروں نے پوچھا، یا نبی اللہ ! وہ کون سے دین پر ہوں گے ؟ فرمایا وہ دین حنیفہ (ادیان باطلہ سے اعرضا کرنے والا دین) پر ہوں گے، اس کے لئے خوشی ہو جو ان کا زمانہ پائے اور ان پر ایمان لائے، سرداروں نے پوچھا ہمارے اور ان کے ظہور کے درمیان کتنی مدت باقی ہے ؟ آپ نے فرمایا، تقریباً ایک ہزار سال ہیں، سو ہر حاضر کو چاہیے کہ وہ ہر غائب تک یہ خبر پہنچ دے، کیونکہ وہ تمام انبیاء کے سردار ہیں اور تمام رسولوں کے خاتم ہیں، پھر انہوں نے یمن کی طرف روانگی کا قصد کیا اور ایک ماہ کی مسافت کو صبح سے زوال تک طے کر کے ایک سرسبز وادی میں پہنچے اس جگہ ان کو پانی نہیں ملا اور پھر ان کو ہد ہد کی تلاش ہوئی۔ (روح المعانی ج ١٩ ص ٢٧٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٩٧)

تقدیر کا تدبیر پر غالب آنا 

امام عبدالرحمٰن بن محمد بن ادریس بن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں سے ہد ہد کی کیوں خصوصیت سے تفتیش کی تھی، حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک ایسی جگہ ٹھہرے جہاں ان کو پانی نہیں ملا اور ہد ہد انجینئر تھا انہوں نے اس سے یہ پوچھنے کا ارادہ کیا کہ کس جگہ زمین کے اندر پانی ہے تو اس کو گم پایا، میں نے کہا وہ کیسے انجینئر ہوگا حالانکہ بچے زمین میں دھاگے کا ایک پھندا بنا کر دبا دیتے ہیں اور اس پھندے میں اس کی گردن پھنس جاتی ہے اور وہ اس کو شکار کرلیتے ہیں (ان کا مططلب یہ تھا کہ جب ہد ہد کو زمین کی سطح کے پاس ہی چھپا ہوا پھندا نظر نہیں آتا تو زمین کی ہگرائی میں چھپا ہوا پانی اس کو کیسے نظر آجاتا ہیڈ) حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب تقدیر آتی ہے تو آنکھیں کام نہیں کرتیں ایک اور روایت میں فرمایا جب تقدیر کا لکھا پورا ہونا ہوتا ہے تو انسان اپنی احتیاط سے غافل ہوجاتا ہے۔(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٩ ص ٢٨٥٠ رقم الحدیث : ١٦٢١٢ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمکرمہ، ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 20