أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور سلیمان کے لیے جنات اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور ہر ایک کو الگ الگ منقسم کیا گیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور سلیمان کے لیے جنات اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور ہر ایک کو الگ الگ منقسم کیا گیا۔ (النمل : ٧١)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت اور ان کا لشکر 

امام عبدالرحمن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی ٧٢٣‘ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنا تخت رکھتے تھے اور اس کی دائیں اور بائیں جانب کرسیاں رکھتے تھے۔ پہلے انسانوں کو بیٹھنے کی اجازت دیتے ‘ پھر جنات کو بیٹھنے کی اجازت دیتے جو انسانوں کے پیچھے بیٹھتے تھے۔ پھر شیاطین کو بیٹھنے کی اجازت دیتے جو جنات کے پیچھے بیٹھتے تھے ‘ پھر ہوا کو حکم دیتے وہ ان سب کو اٹھا کرلے جاتی اور پرندے ان کے اوپر سایہ کرتے اور ہوا ان کے تخت اور ان کی کرسیوں کو اڑا کرلے جاتی ‘ وہ صبح کے وقت بھی ایک ماہ کی مسافت کی سیر کرتے اور شام کو بھی ایک ماہ کی مسافت کی سیر کرتے۔ وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو ملک کا وارث کیا اور ان کو نبوت عطا فرمائی۔ حضرت سلیمان نیدعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسا ملک عطا کرے جو ان کے بعد اور کسی کے لائق نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے انکی دعا قبول کرلی۔ سو ان کے لیے انسانوں ‘ جنوں ‘ پرندوں اور ہوائوں کو مسخر کردیا ‘ حضرت سلیمان کے گھنے بال تھے ‘ روشن چہرہ تھا اور وہ سفید کپڑے پہنتے تھے ‘ جب وہ اپنے گھر سے اپنی مجلس کی طرف جاتے تو انکے اوپر پرندے اڑتے تھے ‘ اور جب تک وہ اپنے تخت پر بیٹھ نہیں جاتے تو انسان اور جن ان کے لیے کھڑے رہتے تھے ‘ وہ بہت جنگ جو شخص تھے بہت کم فارغ بیٹھتے تھے ‘ روئے زمین میں انکو بج بھی کسی کی سلطنت کا پتا چلتا وہ اس پر حملہ کر کے اس کو فتح کرلیتے تھے ‘(یہ روایت بھی محل اشکال ہے) وہ جب کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتے تو لشکر کو اپنا تخت اٹھانے کا حکم دیتے انکے لشکر میں انسان اور مویشی اور انواع و اقسام کے ہتھیار ہوتے تھے وہ ہوا کو حکم دیتے تو وہ ان کے تخت کو اس ملک میں پہنچا دیتی تھی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٩ ص ٦٥٨٢‘ ٥٥٨٢‘ رقم الحدیث : ٢٩١٦١۔ ١٩١٦١‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز ‘ مکہ مکرمہ ٨١٤١ ھ)

علامہ ابو حیان محمد بن یوسف غرناطی اندلسی متوفی ٤٥٧ ھ لکھتے ہیں۔

روایت ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کی جگہ ایک سوفرسخ میں تھی ‘ پچیس فرسخ جگہ انسانوں کے لیے تھے ‘ پچیس فرسخ جگہ جنات کے لیے تھی ‘ پچیس فرسخ جگہ پرندوں کے لیے تھی اور پچیس فرسخ جگہ وحشی جانوروں کے لیے تھی ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تختوں پر ایک ہزار رشیشہ کے گھر بنے ہوئے تھے ‘ جن میں ان کی تین سو منکوح بیویاں تھیں اور سات سو باندیاں تھیں ‘ جنات نے ان کے لیے سونے کے تاروں اور ریشم کے گدے بنائے ہوئے تھے ‘ وہ ان گدوں کے وسط میں سونے کے منبر پر بیٹھتے تھے اور پرندے اپنے پروں سے ان پر سایہ کرتے تھے حتیٰ کہ ان پر بالکل دھوپ نہیں پڑتی تھے اور صبح کی ہوا ان گدوں کو اٹھا کر ایک ماہ کی مسافت پر لے جاتی تھی ‘ ان چیزوں کی تفصیل صحت نقل کا تقاضا کرتی ہے ‘ ان کا ملک بہت بڑا تھا ‘ جو تمام روئے زمین کو محیط تھا ‘ اور تمام آبادیاں ان کی مطیع تھیں ‘ اور ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ چار بادشاہ ایسے گزرے ہیں جو تمام روئے زمین کے مالک تھے ‘ ان میں سے دو مسلمان تھے ‘ حضرت سلیمان اور حضرت ذوالقرنین اور دو کافر تھے بخت نصر اور نمرود ‘(یہ روایت بھی محل اشکال ہے) حضرت سلیمان کے لشکر میں جن ‘ انسان ‘ پرندے اور وحشی جانورجمع کیے جاتے تھے ‘ جب حضرت سلیمان کسی سفر پر یا کسی مہم پر جاتے تھے تو تمام لشکر آپ کے ساتھ جاتا تھا۔ (البحر المحیط ج ٨ ص ٨١٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٢١٤١ ھ)

اس روایت کو امام بغوی متوفی ٦١٥ ھ ‘ علامہ قرطبہ متوفی ٨٦٦ ھ اور علامہ اسماعیل حقی حنفی ٧٣١١ ھ نے بھی بیان کیا ہے۔

(معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٩٤‘ الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٦٥١‘ روح البیان جز ٦ ص ٧٢٤ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 17