أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ‌ وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍؕ‌ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ۞

ترجمہ:

اور سلیمان دائود کے وارث ہوئے اور کہنے لگے اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے ‘ اور بیشک یہی کھلا ہوا فضل ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور سلیمان دائود کے وارث ہوئے ‘ اور کہنے لگے اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے ‘ اور ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے اور بیشک یہی کھلا ہوا فضل ہے۔ (النمل : ٦١ )

وراثت کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

امام لغت خلیل بن احمد فراہیدی متوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں :

الایراث : الا بقاء للشئی کسی چیز کو باقی رکھنا ‘ یورث ای یبقی میراثا کسی چیز کو بہ طور میراث باقی رکھنا ‘ کہا جاتا ہے اور ثہ العشق ھما عشقنی اس کو غم کا وارث بنادیا ‘ اور ثتہ الحمی ضعفا بخار نے اس کو کمزوری کا وارث بنادیا۔ (کتاب العین ج ٣ ص ٢٤٩١‘ مطبوعہ ایران ‘ ٤١٤١ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی مصری متوفی ١١٧ ھ لکھتے ہیں :

الوارث اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اس کا معنی ہے باقی اور دائم ‘ وانت خیر الوارثین (الانبیا : ٩٨‘ یعنی تمام مخلوق کے فنا ہونے کے بعد تو باقی رہنے والا ہے ‘ کہا جاتا ہے ورثت فلا نا مالا میں فلاں کے مال کا وارث ہوا ‘ قرآن مجید میں ہے :

فھب لی من لدنک ولیا۔ یرثنی و یرث من ال یعقوب۔ (مریم : ٦۔ ٥) تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما جو میرا (بھی) وارث ہو اور یعقوب کی آل کا (بھی) وارث ہو۔

ابن سیدہ نے یہ کہا کہ وہ ان کا اور آل یعقوب کی نبوت کا وارث ہو اور یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ حضرت زکریا کو یہ خوف تھا کہ انکے رشتہ دار انکے مال کے وارث ہوجائیں گے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم گروہ انبیاء مورث نہیں بنائے جاتے ‘ ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا وہ صدقہ ہے ‘ اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : وورث سلیمان داود (النمل : ٦١) اور سلیمان دائود کے وارث ہوئے ‘ الزجاج نے کہا وہ ان کے ملک اور ان کی نبوت کے وارث ہوئے ‘ روایت ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے ‘ ان میں سے صرف حضرت سلیمان ان کی نبوت اور ان کے ملک کے وارث ہوئے اور حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعاہ ہے :

اللھم متعنی بسمعی و بصری واجعلھا الوارث منی : اے اللہ کانوں اور میری آنکھوں سے مجھ کو نفع دے اور ان کو میرا وارث بنا دے۔ (المستدرک ج ١ ص ٣٢٥‘ مجمع الزوائد ج ٠١ ص ٨٧١)

ابن شمیل نے کہا اس کا معنی ہے میرے کانوں اور میری آنکھوں کو تاحیات صحیح اور سلامت رکھ ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ جب بڑھاپے میں قویٰ نفسانیہ مضمحل ہوجاتے ہیں تو میری سماعت اور بصارت کو باقی رکھنا پس سماعت اور بصارت تمام قوتوں کے بعد باقی رہیں اور ان کی وارث ہوجائیں۔ (لسان العربج ٢ ص ١٠٢۔ ٩٩١‘ ملخصا ‘ مطبوعہ نشر ادب احلوذۃ ایران : ٥٠٤١ ھ)

علامہ الحسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

وراثت کی تعریف یہ ہے :

انتقال قنیۃ الیک عن غیرک من غیر عقد ولا مایجری العقد۔ غیر کی کمائی کا تمہاری طرف بغیر کسی عقد یا قائم مقام عقد کے تمہاری طرف منتقل ہونا۔

اسی وجہ سے میت کی جو کمائی وارثوں کی طرف منتقل ہوتی ہے اس کو میراث کہتے ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

اثبتوا علی مشاعر کم فانکم علی ارث ابیکم۔ تم اپنے مشاعر (میدان عرفات) پر ثابت قدم رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم کے وارث ہو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٩١٩١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١١٠٣‘ المستدرک ج ١ ص ٦٤ )

قرآن مجید میں ہے ویرث من ال یعقوب (مریم : ٦) یعنی وہ نبوت ‘ علم اور فضلیت کا وارث ہوگا نہ کہ مال کا ‘ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے نزدیک مال کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے حتیٰ کہ وہ اس میں رغبت کریں ‘ وہ بہت کم مال جمع کرتے ہیں اور اس کے مالک ہوتے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم گروہ انبیاء مورث نہیں بنائے جاتے ‘ ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہے (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٤ ( اور آپ کا ارشاد ہے : علماء انبیاء کے وارث ہیں (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٤٦٣‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٨٦٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٢٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٦٩١) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو بھی وارث فرمایا ہے کیونکہ تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہیں وللہ میراث السموات والارض (آل عمران : ٠٨١) ” اللہ ہی کے لیے تمام آسمانوں اور زمینوں کی میراث ہے “ اور کوئی شخص جب کسی سے علم کا استفادہ کرے تو کہا جاتا ہے میں اس سے وارث ہوا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ورثوالکتب (الاعراف : ٩٦١) ” بعد کے لوگوں نے اس کتاب کو حاصل کیا ورثو الکتب من بعدھم (الشوری : ٤١) ” بیشک جو لوگ انکے عبد کتاب کے وارث ہوئے “ ثم اوثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا (فاطر : ٢٣) ” پھر ہم نے ان لوگوں کو الکتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا “ کیونکہ وراثت حقیقیہ یہ ہے کہ انسان کو کوئی ایسی چیز حاصل ہو جس میں اس کے ذمہ نہ کوئی معاوضہ ہو نہ اس میں اس کا کوئی محاسبہ ہو اور جو اس طریقہ سے اس دنیا کو حاصل کرے گا اس سے نہ کوئی حساب لیا جائے گا نہ اس کو کوئی سزا دی جائے گی بلکہ اس کے لیے اس میں معافی اور در گزر ہوگا جیسا کہ حدیث میں ہے : قیامت کے دن اس شخص پر حساب آسان ہوگا جو دنیا میں اپنا حساب کرے گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٥٤٢) (المفردات ج ٢ ص ٣٧٦۔ ٢٧٦‘ ملخصا ‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ٨١٤١ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ وراثت کا لغوی معنی ہے کسی کا کسی کے بعد باقی رہنا ‘ اور اصطلاحی معنی ہے کسی چیز کا ایک شخص سے دوسرے شخص طرف منتقل ہونا ‘ خواہ مال کا انتقال ہو یا ملک کا یا علم اور نبوت کا انتقال ہو یا فضائل اور محاسن کا ‘ اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں ان تمام معانی کے اعتبار سے وراثت کا استعمال کیا گیا ہے۔

اہل سنت کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) کسی کو مال وارث نہیں بناتے کیونکہ انبیاء کے نزدیک مال کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے اور نہ وہ مال کو جمع کرتے ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) علم کا وارث کرتے ہیں اور ان کی جو اولاد ان کی وارث ہوتی ہے ‘ وہ علم اور نبوت میں ان کی وارث ہوتی ہے ‘ اور اہل تشیع کے نزدیک چونکہ حضرت سید تنا فاطمہ زہراء (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چھوڑے ہوئے باغ فدک کی وارثہ تھیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) مال جمع کرتے ہیں اور مال کا وارث بناتے ہیں ‘ اس لیے سنی مفسرین کے نزدیک وورث سلیمن داود (النمل : ٦١) کا معنی ہے حضرت سلیمان حضرت دائود (علیہ السلام) کے مال کے وارث ہوئے۔ سو ہم اس آیت کی تفسیر پہلے سنی مفسرین سے نقل کریں گے پھر شیعہ مفسرین سے نقل کریں گے پھر اس مسئلہ میں سنی ائمہ کی اور شیعہ ائمہ کی روایات احادیث پیش کریں گے پھر اخیر میں شیعہ مفسرین کے دلائل کے جوابات کا ذکر کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق۔

سنی مفسرین کے نزدیک حضرت سلیمان ‘ حضرت دائود کی نبوت اور علم کے وارث تھے نہ کہ مال کے 

حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت دائود (علیہ السلام) کی کس چیز کے وارث ہوئے ‘ اس کے متعلق علامہ علی بن محمد ماوردی متوفی ٠٥٤ ھ لکھتے ہیں :

(١) قتادہ نے کہا حضرت سلیمان ‘ حضرت دائود کی نبوت اور ان کے ملک کے وارث ہوئے ‘ کلبی نے کہا حضرت دائود کے انیس بیٹے تھے ‘ اور صرف حضرت سلیمان کو ان کی وارثت کے ساتھ خاص کیا گیا کیونکہ یہ نبوت اور ملک کی وراثت تھی اگر یہ مال کی وراثت ہوتی تو اس وراثت میں ان کی تمام اولاد برابر کی شریک ہوتی۔

(٢) ربیع نے کہا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے بھی جنات اور ہوائوں کو مسخر کردیا گیا تھا۔

(٣) ضحاک نے کہا حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں حضرت سلیمان کو بنی اسرائیل پر خلیفہ بنادیا تھا ‘ اور اس وراثت سے مراد ان کی یہی ولایت ہے اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ علماء دین میں انبیاء کے قائم مقام ہیں۔

امام الحسین بن مسعود بغوی المتوفی ٢١٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت سلیمان حضرت دائود کی نبوت ‘ ان کے علم اور ان کے ملک کے وارث ہوئے ‘ نہ کہ ان کی باقی اولاد ‘ حضرت دائود کے انیس بیٹے تھے ‘ حضرت سلیمان کو حضرت دائود کا ملک عطا کیا گیا اور ہوائوں اور جنات کی تسخیر ان کو زیادہ دی گئی ‘ مقاتل نے کہا حضرت سلیمان کا ملک حضرت دائود کے ملک سے زیادہ تھا اور وہ ان سے اچھا فیصلہ کرنے والے تھے۔ حضرت دائود ‘ حضرت سلیمان سے زیادہ عبادت گزار تھے اور حضرت سلیمان ان سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ھ)

امام محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس پر دلائل قائم کیے ہیں کہ اس آیت میں مال کی وراثت مراد نہیں ہے بلکہ اس میں علم اور نبوت کی وراثت مراد ہے وہ فرماتے ہیں :

اگر یہاں مال کی وراثت مراد ہوتی تو پھر اس کے بعد یا یھا الناس علمنا منطق الطیر کا کوئی فائدہ نہ تھا اور جب اس سے مراد نبوت اور ملک کی وراثت ہو تو یہ کلام عمدہ ہے کیونکہ پرندوں کی بولی کا سکھانا بھی علوم نبوت کے ساتھ مربوط اور متصل ہوگا جبکہمال کے وارث کا پرندوں کی بولی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے ‘ اس فضل کا تعلق بھی علم اور نبوت کی وراثت سے ظاہر ہے اور مال کے وارث کا فضیلت والا ہونا ظاہر نہیں ہے کیونکہ مال کا وارث تو کامل شخص بھی ہوتا ہے اور ناقص بھی ‘ نیک بھی اور بدکار ‘ اسی طرح اس کے بعد جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کا ذکر کیا گیا اس کا ربط اور تعلق بھی اسی صورت میں ظاہر ہوگا جب اس وراثت سے مراد علم ‘ نبوت اور ملک کی وراثت ہو نہ کہ مال کی وراثت مرادہو۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٤٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

امام عبدالرحمن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٧٩٥ ھ ‘ علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی ٨٦٦ ھ ‘ حافظ ابن شافعی متوفی ٤٧٧ ھ ‘ علامہ اسماعیل حقی متوقی ‘ ٧٣١١ ھ ‘ علامہ محمودآلوسی حنفی متوفی ٠٧٢١ ھ ‘ ان سب نے یہی لکھا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ‘ نبوت اور ملک میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور اس آیت میں مال کی وراثت مراد نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے اور مال کی وراثت میں یہ سب برابر کے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے شریک تھے ‘ اور اس آیت میں صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حضرت دائود (علیہ السلام) کا وارث قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی نبوت ‘ انکے علم اور ان کے ملک کے وارث تھے۔ (زادالمسیر ج ٦ ص ٩٥١‘ الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٣٥١‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٤٩٣‘ دارالفکر ‘ ٨١٤١ ھ ‘ روح البیان ج ٦ ص ٠٢٤‘ داراحیاء التراث العربی ‘ ١٢٤١ ھ ‘ روح المعانی جز ٩١ ص ٥٥٢‘ دارالفکر ‘ ٧١٤١ ھ)

شیعہ مفسرین کے نزدیک حضرت سلیمان ‘ حضرت دائود کے مال کے وارث تھے نہ کہ نبوت اور علم کے 

شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی المتوفی ٠٦٤ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت سلیمان حضرت دائود کے وارث ہوئے ‘ اب اس میں اختلاف ہے کہ وہ کس چیز کے وارث ہوئے ‘ ہمارے اصحاب نے کہا کہ وہ مال اور علم کے وارث ہوئے اور ہمارے مخالفین نے کہا وہ علم کے وارث ہوئے ‘ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ‘ ہم گروہ انبیاء مورث نہیں بنائے جاتے ‘ اور میراث کی حقیقت یہ ہے کہ گزرنے والے کی موت کے بعد اس کا ترکہ اس کے رشتہ داروں میں سے کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل کردیا جائے اور اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ اعیان (ٹھوس مادی چیزوں مثلاً مال و دولت ‘ زمین اور سازوسامان وغیرہ) کو منتقل کیا جائے اور میراث کا لفظ جب علم کے معنی میں استعمال کیا جائے گا تو وہ مجاز ہوگا اور انہوں نے جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ خبر واحد ہے اور خبر واحد سے قرآن کے عام کو خاص کرنا جائز ہے اور نہ اس کو منسوخ کرنا جائز ہے ‘ اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ حضرت دائود کے انیس بیٹے تھے اور انمیں سے صرف حضرت سلیمان کو وارث بنایا گیا اگر اس آیت میں مال کی وراثت مراد ہوتی تو اس میں تمام بیٹے شریک ہوتے نہ کہ صرف حضرت سلیمان ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں علم اور نبوت کی وراثت مراد ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیز بھی خبر واحد سے ثابت ہے سو اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔(التبیان فی تفسیر القرآن ج ٨ ص ٣٨۔ ٢٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

شیعہ مفسرین کے دلائل کے جوابات 

شیخ طوسی کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ میراث کا لفظ عام ہے اور اہل سنت نے اس کو علم ‘ نبوت اور ملک کی وراثت کے ساتھ خاص کرلیا ہے ‘ اور قرآن مجید کے عام کو خاص کرنا جائز نہیں ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دلیل علماء شیعہ کے بھی خلاف ہے کیونکہ انہوں نے اس وراثت کو مال کے ساتھ خاصل کرلیا ہے جبکہ وراثت عام ہے خواہ اس سے مال کا نتقال ہو یا علم ‘ نبوت اور فضائل کا انتقال ہو ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ جب مخصص عقل یا عرف ہو تو عام کی تخصیص جائز ہے جیسے قرآن مجید میں ہے :

قل نفس ذآئقۃ الموت ط۔ (الانبیائ : ٥٣) ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے۔

اس آیت کے عموم میں اللہ تعالیٰ شامل نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر موت کا آنا محال ہے ‘ اور اس کا مخصص عقل ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں ہے ؟ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا :

واو تینا من کل شیء ط۔ (النمل : ٦١) اور ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے۔

اور ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ٹینک ‘ طیارے اور میزائل نہیں عطا کیے گئے تھے ‘ اس کے لیے یہاں پر ” ہر چیز “ سے مراد ان کے زمانہ کی تمام چیزیں ہیں اور اس کا مخصص عرف ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا :

انی فضلتکم علی العلمین۔ (البقرہ : ٧٤) بیشک میں نے تم کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے۔

اور ظاہر ہے بنی اسرائیل کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت پر فضیلت نہیں دی گئی تھی ‘ سو یہاں بھی عرف اور عقل اس کا مخصص ہے اور مرد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو انکے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی گئی تھی۔

اسی طرح قرآن مجید میں یہ آیت ہے :

انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا لذین یقیمون الصلوۃ ویؤ تون الزکوۃ وھم رکعون۔ (المائدہ : ٥٥) تمہارا ولی صرف اللہ اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ ادا کرتے ہیں۔

اس آیت میں تمام ایمان والوں کو مسلمانوں کا ولی فرمایا ہے ‘ لیکن علماء شیعہ نے اس آیت کو حضرت علی کی ولایت اور امامت کے ساتھ خاص کرلیا ہے۔ خود شیخ طوسی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امیر المومنین (علیہ السلام) کی امامت بلا فصل پر واضح دلیل ہے۔ (التبیان ج ٢ ص ٩٥٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

چھٹی صدی کے علماء شیعہ میں سے شیخ ابو علی الفضل بن الحسن الطبرسی نے بھی یہی لکھا ہے نیز انہوں نے لکھا ہے :

یہ آیت اس پر نص صریح ہے کہ ایمان والوں سے مراد حضرت علی ہیں اور یہ آیت ان کی امامت پر نص ہے اور اس آیت سے عموم مراد نہیں ہے اور یہ آیت حضرت علی کے ساتھ خاص ہے۔ (مجمع البیان ج ٣ ص ٦٢٣‘ مطبوعہ ایران ‘ ٦٠٤١ ھ)

اسی طرح السید محمد حسین الطبا طبائی متوفی ٣٩٢١ ھ نے لکھا ہے :

انما ولیکم اللہ ورسولہ (المائدہ : ٥٥) اور فان حزب اللہ ھم الغلبون (المائدہ : ٦٥١) یہ دونوں آیتیں عام نہیں ہیں ‘ یہ دونوں آیتیں حضرت علی کے ساتھ خاص ہیں اور یہ چیز سنی اور شیعہ کی بہ کثرت روایات سے ثابت ہے۔ (المیز ان ج ٦ ص ٥‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ طہران ‘ ٢٦٣١ ھ) 

حالانکہ ان دونوں آیتوں میں الذین امنوا اور حزب اللہ کے الفاظ عام ہیں لیکن علماء شیعہ نے روایات کی بنا پر ان کو خاص کرلیا ہے ‘ اسی طرح قرآن مجید میں ہے :

یایھا الرسول بلغ مآ انزل الیک من ربک ط وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ ط واللہ یعصمک من الناس ط۔ (المائدۃ : ٧٦) اے رسول ! آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس کو پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے (بالفرض) ایسانہ کیا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا ‘ اور اللہ آپ کو لوگوں (کے ضرر) سے بچائے گا۔

اس آیت میں لفظ ” ما “ عام ہے یعنی جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا یعنی تمام احکام شرعیہ اور تمام خبریں آپ پر امت کو پہچانی ضروری ہیں لیکن علماء شیعہ نے اس آیت کو حضرت علی کی خلافت کے ساتھ خاص کرلیا ہے۔

شیخ طوسی لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت علی کو خلیفہ بنائیں ‘ اور آپ اس سے ڈرتے تھے کہ آپ کے اصحاب پر یہ دشوار ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تاکہ آپ بہادری سے اللہ کا یہ حکم سنائیں۔ (التبیان ج ٣ ص ٨٨٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

شیخ طبرسی لکھتے ہیں :

یہ آیت حضرت علی (علیہ السلام) کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ حضرت علی کے متعلق تبلیغ کریں سو آپ نے حضرت علی (علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑ کر کہا میں جس کا مولیٰ ہوں علی اس کے مولیٰ ہیں ‘ اے اللہ ! جو علی سے محبت رکھے اس سے محبت رکھ اور جو علی سے عداوت رکھے اس سے عداوت رکھ ‘ اور حضرت ابو جعفر اور حضرت ابو عبد اللہ سے مشہور وایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت علی کو خلیفہ بنائیں۔ (مجمع البیان ج ٤ ص ٤٤٣‘ مطبوعہ ایران ‘ ٦٠٤١ ھ)

ان آیات میں قرآن مجید کے لفظ عام کو خاص کرنے کے باوجود شیخ طبرسی اور شیخ طبا طبائی نے وورث سلیمن داود (النمل : ٦١) کی تفسیر میں لکھا ہے اس سے مراد حضرت سلیمان کو مال کا وارث بنانا ہے اور علم اور نبوت کا وارث بنانا مراد نہیں ہے۔ (مجمع البیان ج ٧ ص ٤٣٣‘ المیز ان ج ٥١ ص ٢٨٣‘ مطبوعہ طہران ‘ ٢٦٣١ ھ)

میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید کی بہ کثرت آیات میں کتاب کا وارث بنانے کا ذکر ہے اور وہاں مال کا وارث بنانے کو مراد نہیں لیا جاسکتا :

فخلف من بعد ھم خلف ورثوالکتب۔ (الاعراف : ٩٦١) پھر ان کے بعد ایسے لوگ جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث ہوئے۔

ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا ج (فاطر : ٢٣) پھر ہم نے ان لوگوں کو الکتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا تھا۔

واورثنا بنی اسرآء یل الکتب۔ (المومن : ٣٥) اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔

ان الذین اور ثوا الکتب من بعد ھم لفی شک منہ مریب۔ (الشوری : ٤١) بیشک جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا وہ اس کی طرف سے زبردست شک میں ہیں۔

علم کا وارث بنانے اور مال کا وارث بنانے کے ثبوت میں روایات ائمہ اہل سنت 

ایک طویل حدیث میں ہے حضرت عمر (رض) نے حضرت عباس اور حضرت علی سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ہم مورث نہیں بنائے جاتے ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٠٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٧١‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٦٩٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩١٧١‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٦٧٥١١‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٨٠٥٢ )

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص علم کو طلب کرنے کے لیے کسی راستہ پر جاتا ہے اللہ اس کو جنت کے راستہ کی طرف لے جاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لیے اپنے پر رکھتے ہیں اور تمام آسمانوں اور زمینوں کی چیزیں عالم کے لیے مغفرت طلب کرتی ہیں حتی کہ پانی میں مچھلیاں بھی ‘ اور عالم کی فضیلت عابد پر اس طرح ہے جس طرح چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے ‘ بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نہ دینار کا وارث کرتے ہیں نہ درھم کا وہ صرف علم کا وارث کرتے ہیں سو جس نے علم کو حاصل کیا اس نے بہت بڑے حصہ کو حاصل کیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٨٦٢‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٤٦٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٢٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٦٩١‘ سنن الداری رقم الحدیث : ٩٤٣‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٨٨‘ مسند الشامیین رقم الحدیث : ٣٢١‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٩٢١ )

علم کا وارث بنانے اور مال کا وارث نہ بنانے کے ثبوت میں روایات ائمہ شیعہ 

شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلینی الرازی المتوفی ٨٢٣ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابو البختری بیان کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ علیہالسلام نے فرمایا : بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں ‘ کیونکہ انبیاء نہ درہم کا وارث کرتے ہیں نہ دینار کا ‘ وہ اپنی احادیث میں سے احادیث کا وارث کرتے ہیں ‘ پس جس شخص نے ان سے کسی چیز کو حاصل کیا اس نے بہت بڑے حصہ کو حاصل کیا۔ الحدیث۔ (الاصول من الکافی ج ١ ص ٢٣‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ایران ‘ ٨٨٣١ ھ)

محمد بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ علم میں وراثت ہوتی ہے ‘ اور جب بھی کوئی عالم فوت ہوتا ہے تو وہ علم میں اپنا جیسا چھوڑ جاتا ہے۔ (الاصول من الکافی ج ١ ص ٢٢٢‘ مطبوعہ ایران ‘ ٨٨٣١ ھ)

ابو جعفر (علیہ السلام) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک روئے زمین پر سب سے پہلے وصی ھبتہ اللہ بن آدم تھے اور جو نبی بھی گزرے ان کا ایک وصی ہوتا تھا ‘ اور تمام انبیاء ایک لاکھ بیس ہزار تھے ‘ ان میں سے پانچ اولوالعزم نبی تھے ‘ نوح ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ ‘ عیسیٰ اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ اور بیشک علی بن ابی طالب (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اللہ تعالیٰ کا عطیہ تھے۔ وہ تمام اولیاء کے علم کے وارث ہوئے ‘ اور اپنے سے پہلوں کے علم کے وارث ہوئے ‘ اور بیشک (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سے پہلے انبیاء اور مر سلین کے علم کے وارث تھے۔ (الاصول من الکافی ج ١ ص ٤٢٢‘ دارالکتب الاسلامیہ ‘ ایران ٨٨٣١ ھ)

المفصل بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے کہا کہ بیشک سلیمان دائود کے وارث ہوئے ‘ اور بیشک (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلیمان کے وارث ہوئے اور ہم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث ہیں اور بیشک ہمارے پاس تورات ‘ انجیل اور زبور کا علم ہے۔ (الاصول من الکافی ج ١ ص ٥٢٢۔ ٤٢٢‘ ایران)

ابو بصیر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا : بیشک دائود انبیاء (علیہم السلام) کے علم کے وارث تھے ‘ اور بیشک سلیمان دائود کے وارث تھے ‘ اور بیشک (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلیمان کے وارث تھے اور بیشک ہم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث ہیں اور بیشک ہمارے پاس حضرت ابراہیم کے صحائف ہیں اور حضرت موسیٰ کی الواح ہیں۔ (الاصول من الکافی ج ١ ص ٤٢٢‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ایران ‘ ٨٨٣١ ھ)

ان تمام دلائل سے آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) علم کا وارث بناتے ہیں مال کا وارث نہیں بناتے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) کے علم ‘ ان کے فضائل ‘ ان کے ملک اور ان کی نبوت کے وارث تھے ‘ اور اس آیت میں اسی وراثت کا ذکر ہے ‘ ان کے مال کی وراثت کا ذکر نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور سلیمان دائود کے وارث ہوئے اور کہنے لگے اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے ‘ اور ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے اور بیشک یہی کھلا ہوا فضل ہے۔ (النمل : ٦١ )

تحدیث نعمت (اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار کرنا)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ کہنا فخر اور تکبر کی وجہ سے نہ تھا ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار اور اس کی تشہیر کے لیے تھا ‘ اور آپ نے اپنے معجزات کا ذکر کیا تاکہ آپ لوگوں کو اپنے ان معجزات کی وجہ سے اپنی نبوت کی تصدیق کی دعوت دیں ‘ بعض علماء نے کہا آپ نے لوگوں کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا کیا نعمتیں دی ہیں تاکہ مومنوں کا اس پر زیادہ ایمان ہو اور منکروں کے خلاف حجت قائم ہو ‘ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

واما بنعمۃ ربک فحدث۔ (الضحی : ١١) اور آپ بہرحال اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتے رہیے۔

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنے رب کی نعمتوں کا ذکر اور اظہار فرمایا ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب بیٹھے ہوئے آپ کا انتظار کررہے تھے۔ حتیٰ کہ آپ حجرے سے باہر آئے اور ان کے قریب پہنچ کر ان کی باتیں سننے لگے ‘ ان میں سے بعض نے کہا تعجب ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق میں سے خلیل بنایا تو حضرت ابراہیم کو خلیل بنایا ‘ دوسرے نے کہا اس سے زیادہ تعجب اس پر ہے کہ حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا ‘ ایک اور نے کہا حضرت عیسیٰ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں ‘ اور دوسرے نے کہا حضرت آدم صفی اللہ ہیں ‘ آپ نے ان کے پاس آکر ان کو سلام کیا اور فرمایا : میں نے تمہاری باتیں اور تمہارے تعجب کو سنا کہ ابراہیم خلیل اللہ ہیں ‘ وہ اسی طرح ہیں ‘ اور موسیٰ نجی اللہ ہیں اور وہ اسی طرح ہیں ‘ اور عیسیٰ روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں وہ اسی طرح ہیں اور آدم صفی اللہ ہیں اور وہ اسی طرح ہیں ‘ اور سنو ! میں حبیب اللہ ہوں اور فخر نہیں ! اور میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والے ہوں گا اور فخر نہیں ! اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میں وہ ہوں جس کی شفاعت قیامت کے دن سب سے پہلے قبول کی جائے گی ‘ اور فخر نہیں ‘ اور میں سب سے پہلے جنت کے دروازوں کو کھٹکھٹائوں گا تو اللہ میرے لیے ( ان کو) کھول دے گا اور مجھ کو اس میں داخل کردے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور فخر نہیں اور میں اولین اور آخرین میں سب سے مکرم ہوں اور فخر نہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦١٢٣‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ٨٤‘ المسند الجامع رقم الحدیث : ٩٠٠٧)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جمع کے صیغہ کے ساتھ کہا ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسے سلاطین اور حکام اپنے آپ کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں اس میں تکبیر اور تجبر نہ تھا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو حضرت دائود (علیہ السلام) دونوں کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے ‘ کیونکہ امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت دائود (علیہ السلام) دو دن جانوروں کے درمیان فیصلہ کرتے تھے اور ایک دن انسانوں کے درمیان فیصلہ کرتے تھے ‘ ایک دن ایک گائے نے آکر انکے دروازے کے حلقہ میں اپنا سینگ رکھا پھر اس طرح بولی جس طرح ماں اپنے بچہ سے بولتی ہے اس نے کہا جب میں جوان تھی تو یہ مجھ سے بچے نکلواتے تھے اور مجھ سے اپنے کام لیتے تھے اب جب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو یہ مجھے ذبح کرنا چاہتے ہیں ! پھر حضرت دائود نے کہا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کو ذبح نہ کرو۔ (تفسیرامام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٩٨١٦١ )

نطق اور منطق کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

امام لغت خلیل بن احمد الفراھیدی المتوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں :

الناطق کی معنی ہیں فصاحت اور بلاغت سے بولنے والا ‘ الکتاب الناطق کے معنی ہیں واضح کتاب ‘ ہر چیز کے کلام کو منطق کہتے ہیں ‘ کمر کے باندھنے کے پٹکے یا پیٹی کو منطق ‘ النطاق یا منطقہ کہتے ہیں۔ (کتاب العین ج ٣ ص ٧٠٨١‘ مطبوعہ انتشارات اسوہ ایران ‘ ٤١٤١ ھ)

امام ابو القاسم حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

نطق کا معنی ہے وہ الگ الگ اور متمیز آوازیں جن کو انسان ظاہر اور صادر کرتا ہے اور کان ان کو سنتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

مالکم لا تنطقون۔ (الصفت : ٢٩) تم کو کیا ہوا تم بولتے کیوں نہیں !

نطق کا اطلاق اور استعمال صرف انسان کے لیے کیا جاتا ہے اور دوسروں کے لیے با لتبع کیا جاتا ہے ‘ الناطق اور الصامت ‘ الناطق سے مراد ہے جس کی آواز ہو اور الصامت سے مراد ہے جس کی آواز نہ ہو ‘ حیوانات کو مطلقاً ناطق نہیں کیا جاتا ‘ منطقی اس قوت کو نطق کہتے ہیں جس سے کلام صادر ہوتا ہے ‘ نیز وہ معقولات کے ادراک کرنے والے کو ناطق کہتے ہیں اور وہ انسان کی تعریف حیوان ناطق کرتے ہیں یعنی ایسا جاندار جو غور وفکر کرتا ہو اور بولتا ہو ‘ ان کے نزدیک نطق دو معنوں میں مشترک ہے ‘ وہ قوت انسانیہ جس سے کلام صادر ہوتا ہے اور وہ کلام جو آواز سے صادر اور ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

لقد علمت ما ھؤلآء ینطقون۔ (الانبیائ : ٥٦) آپ کو معلوم ہے کہ یہ (بت) بولتے نہیں ہیں۔

اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ بت بولنے والوں اور عقل والوں کی جنس سے نہیں ہیں اور قرآن مجید میں ہے :

علمنا منطق الطیر۔ (النمل : ٦١) ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔

اس آیت میں پرندوں کی آوازوں کو اس اعتبار سے نطق فرمایا ہے کہ حضرت سلیمان ان آوازوں سے ان کی مراد کو سمجھتے تھے سو جس آواز سے کوئی شخص کسی معنی کو سمجھے خواہ وہ بولنے اور باتیں کرنے والا ہو اس آواز کو نطق اور منطق اور اس آواز والے کو ناطق کہتے ہیں۔

قرآن مجید میں ہے ‘ قیامت کے دن کہا جائے گا :

ھذاکتبنا ینطق علیکم بالحق ط۔ (الجاثیۃ : ٩٢) یہ ہے ہماری کتاب (صحیفہ اعمال) جو تمہارے سامنے سچ سچ بول رہی ہے (تمہارے اعمال کو ظاہر کر رہی ہے۔ )

کتاب بھی ناطق ہے لیکن اس کے نطق کا آنکھیں ادراک کرتی ہیں ‘ جیسے کلام بھی کتاب ہے لیکن اس کا ادراک قوت سامعہ کرتی ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٢٤٦۔ ١٤٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الاز مکہ مکرمہ ‘ ٨١٤١ ھ)

طیر کے معانی 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

ہر وہ جانور جو ہوا میں اپنے پروں کے ساتھ اڑتا ہو اس کو طائرکہتے ہیں اور اس کی جمع طیر ہے ‘ جیسے راکب کی جمع رکب ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

ولاطئر یطیر بجناحیہ۔ (الانعام : ٨٣) اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے پرندوں کے ساتھ اڑتا ہوا۔

عرب پرندوں کو اڑا کر فال نکالتے تھے اگر پرندہ دائیں طرف اڑ جاتا تو وہ اس سے نیک شگون لیتے تھے ‘ اور اگر وہ بائیں طرف اڑ جاتا تو وہ اس سے براشگون لیتے تھے ‘ اس کو کہتے تھے تطیر فلان ‘ پھر تطیر کے لفظ کا غالب استعمال بدشگونی میں ہونے لگا ‘ قرآن مجید میں ہے :

وان تصبہم سیئۃ یطیروا بموسی و من معہ ط (الاعراف : ١٣١) اور اگر ان کو کوئی برائی پہنچتی تو وہ (قوم فرعون) اس کو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی نحوست کہتے۔

طائر کا اطلاق اعمال نامہ پر بھی کیا گیا ہے جیسے گلے کا ہار گلے کے ساتھ چمٹا ہواہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کا اعمال نامہ انسان کے گلے کے ساتھ چمٹا ہوا ہوگا۔ قرآن مجید میں ہے :

وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ ط (بنی اسرائیل : ٣١) ہر انسان کے گلے میں اس کا اعمال نامہ لازم کردیا گیا ہے۔

گردوغبار کی طرح چاروں طرف پھیل جانے والی چیز کو مستطیر کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

یوفون بالنذر ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا۔ (الدھر : ٧) جو لوگ نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٠٤۔ ٣٠٤‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ٨١٤١ ھ)

چیونٹیوں اور بعض پرندوں کے متعلق احادیث 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک چیونٹی نے انبیائ (سابقین) میں سے کسی نبی کے کاٹا ‘ تو انکے حکم سیچیونٹیوں کی بستی کو جلادیا گیا ‘ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف وحی کی ایک چیونٹی نے آپ کو کاٹا تھا تو آپ نے چیونٹیوں کی پوری نسل کو ہلاک کردیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھیں۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٦٦٢٥‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩١٠٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٢٢‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٩٦٣٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٢٢٣ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چیونٹی ‘ شہد کی مکھی ‘ ہد ہد اور لٹورا (موٹے سرسفید اور سبز پیٹھ کا ایک پرندہ جو چھوٹے پرندوں کا شکار کرتا ہے ‘ حدیث میں اس کے لیے صرد کا لفظ ہے ‘ اگر یہ جانور ضرر پہنچائیں تو ضرر سے بچنے کے لیے ان کو مارنا جائز ہے اور محض ان کو ایذا پہنچانے کے لیے ان کو مارنا جائز نہیں ہے) ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٧٦٢٥‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٧٦٠٣‘ دارالفکر)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضاء حاجت کے لیے جاتے تو دور جاتے تھے ‘ ایک دن آپ کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھے اور آپ نے دونوں موزے اتاردیئے آپ نے ایک موزہ پہنا تھا کہ ایک پرندہ آکر دوسرے موزے کو اٹھا کرلے گیا ‘ پھر وہ بلندی پر جا کر فضا میں چکر لگانے لگا تو اسمیں سے سیاہ رنگ کا موذی سانپ نکلا تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہی کرامت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مکرم کیا ہے۔ اے اللہ ! میں زمین پر دو پیروں کے ساتھ چلنے والوں کے شر سے اور پیٹ کے بل رینگنے والوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٠٠٣٩‘ البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٧٤٥‘ الخصائص الکبری ج ٢ ص ٩٠١‘ سبل الھدی والرشاد ج ٩ ص ٥٢٥ )

حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ‘ آپ کسی کام سے گئے تو ہم نے ایک پرندہ دیکھاجس کیساتھ اس کے دو بچے تھے ‘ ہم نے اسکے بچوں کو پکڑ لیا وہ پرندہ آکر تڑپنے لگا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو آپ نے فرمایا : اس پرندہ کو اس کے بچے کی وجہ سے کس نے پریشان کیا ہے ؟ اس کے بچے اس کو واپس کرو۔ پھر آپ نے فرمایا آگ کے رب کے سوا کسی کے لیے آگ سے عذاب دینا جائز نہیں ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٦٢٦ )

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے مل جل کر رہتے تھے ‘ حتی کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے تھے ‘ اے ابو عمیر اس تغیر (بلبل) نے کیا کیا۔

سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٠٢٧٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٩ ص ٤١‘ مسند احمد ج ٣ ص ٩١١)

حضرت خالد بن معدان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سفید مرغ میرا دوست ہے اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن ہے ‘ اپنے مالک کے گھر کی سات گھروں تک حفاظت کرتا ہے۔ (الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٣٩٢٤‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٦٧٢٥٣‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٨٩١٢١‘ المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٠٩٢٢ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ سفید مرغ جس کی کلغی شاخ درشاخ ہو میرا دوست ہے اور میرے دوست کا دوست ہے جبریل اس کے گھر کی اور اس کے پڑوس کے سولہ گھروں کی حفاظت کرتا ہے۔ چاردائیں ‘ چار بائیں ‘ چار آگے اور چار پیچھے۔ (الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٩٢٤‘ کتاب الضعفاء للعقیلی ج ١ ص ٧٢١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٧٧٢٥٣‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٣٩١٢١ )

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مرغ نماز کی اذان دیتا ہے ‘ جس نے سفید مرغ رکھا اس کی تین چیزوں سے حفاظت کی جائے گی۔ ہر شیطان کے شر سے ‘ جادو گر سے اور کاہن سے۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٧١٥‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٥٩٢٤‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٩٩١٢١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٨٨٢٥٣ )

مرغ کے متعلق ان تینوں احادیث کی اسانید ضعیف ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کبوتروں کو اپنے گھروں میں رکھو کیونکہ یہ جنات کو تمہارے بچوں سے دور رکھتے ہیں۔ (کنزالعمال رقم الحدیث : ١٩٢٥٣‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے)

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک مریم بنت عمران نے اپنے رب سے یہ سوال کیا کہ وہ انکو ایسا رزق کھلائے جس میں گوشت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ٹڈی کھلائی۔ حضرت مریم نے دعا کی اے اللہ ! اس کو بغیر دودھ پیے زندہ رکھ۔ (سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٨٥٢‘ المعجم الکبیر ج ٨ ص ١٤١‘ رقم الحدیث : ١٢٦٧‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٧٣٨٧‘ ج ٣ ص ٧٣١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٩٢٥٣‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کی سند میں یزید اقیسی کو میں نہیں پہنچانتا اس کے باقی راوی ثقہ ہیں مجمع الزوائد ج ٤ ص ٩٣)

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے موزوں کو پہننے کے لیے منگایا۔ آپ نے ایک موزہ پہنا تھا کہ ایک کوا آیا وہ دوسرا موزہ اٹھاکر لے گیا اس نے (اوپر جا کر) اس موزہ کو پھینکا تو اس میں سے ایک سانپ نکلا تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ موزوں کو جھاڑے بغیرنہ پہنے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٠٢٦٧‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ج ٥ ص ٠٤١‘ الخصائص الکبری ج ٢ ص ٩٠١‘ سبل الھدیٰ والرشاد ج ٩ ص ٥٢٥ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے زمانہ میں ایک پرندہ پیدا کیا جس کو العنقاء کہا جاتا تھا ‘ حجاز کے شہروں میں اس کی نسل بہت زیادہ ہوگئی وہ بچوں کو جھپٹ کرلے جاتا تھا لوگوں نی اس زمانہ کے نبی حضرت خالد بن سنان سے اس کی شکایت کی یہ حضرت عیسیٰ کے عبد بنی عبس سے ظاہر ہوئے تھے ‘ انہوں نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کی نسل منقطع ہوگئی۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ٤٣٧٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٦٩٢٥٣) (یہ حدیث معلل ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی نبی معبوث نہیں کیا گیا۔ )

انبیاء کرام اور اولیاء عظام کا پرندوں کی باتیں سمجھنا 

شیخ ابو محمد روز بہان بن ابی النصر البقلی الشیر ازی المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

پرندوں اور وحشی جانوروں کی آوازیں اور کائنات کی حرکتیں یہ سب اللہ سبحانہ کے انبیاء اور مرسلین اور عارفین اور صدیقین اور محبین کے لیے خطابات ہیں جن کو وہ اپنے مقامات اور احوال کے اعتبار سے سمجھتے ہیں۔ پس انبیاء اور مرسلین محض پرندوں کی بولیوں سے انکے معانی اور مطلب کو سمجھ لیتے ہیں اور اس چیز کا ولی کے لیے واقع ہونا بھی ممکن ہے ‘ لیکن اکثر اولیاء پرندوں کی آوازوں سے ان چیزوں کو سمجھ لیتے ہیں جو انکے احوال کے مطابق ہوتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں الہام کرتا ہے ‘ نہ یہ کہ وہ ان کی لغات کو بیعنہ جانتے ہیں۔

ابو عثمان المغربی نے کہا جو شخص تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے ہر چیز سمجھتا ہے ‘ اور ہر چیز سے اس کو سمجھتا ہے سو اس کو پرندوں کی آوازوں سے اور دروازوں کی چرچراہٹ سے بھی اللہ کا علم حاصل ہوتا ہے۔ جیسے عام لوگوں کو طبل کی آواز سے قافلہ کی روزانگی کا علم ہوجاتا ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ اہل حضور اور خواص کو پرندوں اور وحشی جانوروں کی آوازوں سے معانی اور مطالب پر مطلع فرماتا ہے۔

مقاتل نے کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک پرندہ بولتا ہوا گزرا ‘ انہوں نے اہل مجلس سے کہا کیا تم جانتے ہو کہ یہ پرندہ جو ابھی گزرا تھا اس نے کیا کہا ہے ؟ لوگوں نے کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اس پرندہ جو ابھی گزرا تھا اس نے کیا کہا ہے ‘ لوگوں نے کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اس پرندہ نے کہا : اے بنی اسرائیل کے بادشاہ ! آپ پر سلام ہو ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت عطا فرمائی ہے اور آپ کو اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا فرمایا ہے ‘ میں اپنے بچوں کے پاس جارہا ہوں ‘ پھر دوبارہ آپ کے پاس سے گزروں گا ‘ آپ نے فرمایا وہ دوبارہ گزرے گا تم اس کا انتظار کرو ‘ کافی دیر انتظار کے بعد وہ پھر دوبارہ گزرا اس نے آپ کو سلام کیا اور بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو کھلا پلا کر آیا ہے۔ اس قسم کی امثال حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت معروف ہیں۔ (عرائس البیان ج ٢ ص ٢١١۔ ١١١‘ مطبوعہ المطبع العالی المنشی نوالکشور)

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حیوانوں کا باتیں کرنا اور آپ کی تعظیم کرنا 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت قبیلہ بنی سلیم کا ایک اعرابی آیا ‘ اس نے ایک گوہ شکار کر کے اپنی آستین میں رکھی ہوئی تھی وہ اس کو اپنے گھر پکانے کے لیے لے کر جا رہا تھا تاکہ اس کو کھائے ‘ اس نے جو مسلمانوں کی جماعت کو بیٹھے ہوء دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ اس کو بتایا کیا کہ یہ نبی ہیں ! وہ لوگوں کو چیر تا ہوا مجلس میں آیا اور کہنے لگا لات اور عزیٰ کی قسم ‘ میرے نزدیک آپ سے زیادہ مغغوض اور کوئی نہیں ہے ‘ اور اگر میری قوم مجھے جلد باز نہ کہتی تو میں آپ کو جلد قتل کر کے ہر سرخ وسفید کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ حضرت عمر (رض) نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے میں اس کو قتل کر دوں ! آپ نے فرمایا اے عمر ! کیا تم نہیں جانتے کہ بردبار شخص نبی ہوتا ہے ؟ پھر آپ نے اس اعرابی کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا : تمہیں اس بات کی طرف کسی نے برانگیختہ کیا ؟ اس نے کا لات اور عزیٰ کی قسم ! میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائوں گا جب تک کہ یہ گوہ آپ پر ایمان نہ لے آئے ! اور آستین سے وہ گوہ نکال کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پھینک دی ! آپ نے گوہ سے پوچھا تم کسی کی عبادت کرتی ہو ؟ اس نے کہا : جس کا آسمان میں عرش ہے اور زمین میں اس کی سلطنت ہے ‘ سمندر میں اس کا راستہ ہے اور جنت میں اس کی رحمت ہے ‘ اور دوزخ میں اس کی سزا ہے۔ آپ نے پوچھا اے گوہ ! میں کون ہوں ؟ اس نے کہا آپ رب العالمین کے رسول ہیں ! اور خاتم النبیین ہیں ‘ جس نے آپ کی تصدیق کی وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے آپ کی تکذیب کی وہ ناکام ہوگیا ‘ اس اعرابی نے کہا جس وقت میں آپ کے پاس آیا تھا تو میرے نزدیک آپ سے زیادہ کوئی مبغوض نہیں تھا ‘ اور اب آپ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں ہے اور آج آپ میرے نزدیک میرے والد سے ‘ میری آنکھوں سے اور میری جان سے بڑھ کر محبوب ہیں ‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ اور بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص ٧٣۔ ٦٣‘ ملخصا ‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ٢ ص ٨٧٣۔ ٧٧٣‘ رقم الحدیث : ٥٧٢‘ تاریخ دمشق الکبیر ج ٤ ص ٠٦٢۔ ٩٥٢‘ البدلیۃ والنہایتہ ج ٤ ص ٥٤٥۔ ٤٤٥‘ المعجم الصغیر للطبرانی رقم الحدیث : ٨٤٩‘ المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث : ٣٩٩٥‘ مکتبہ المعارف ریاض ‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٩٩٥‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ٦٨٠٤١‘ الوفاء ص ٢ ٤٣‘ ١٤٣‘ الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص ٨٠١۔ ٧٠١‘ دارالکتب العلمیہ ‘ سبل الھدیٰ والرشاد ج ٩ ص ١٢٥۔ ٠٢٥ )

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہرنی کے پاس سے گزرے جو ایک خیمہ میں بندھی ہوئی تھی ‘ اس نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے کھول دیجیے تاکہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلاآئوں ‘ میں پھر واپس آجائوں گی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو ایک قوم نے شکار کیا ہے اور اس نے اس کو باندھا ہوا ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ہرنی سے حلف لیا اور اس کو کھول دیا ‘ تھوڑی دیر بعدوہ واپس آگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو باندھ دیا ‘ تھوڑی دیر بعد خیمہ والے آگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو مجھے ہبہ کردو ‘ انہوں نے آپ کو ہبہ کردیا ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کھول دیا۔

ایک اور روایت حضرت زید بن ارقم سے ہے اس کے آخر میں ہے ‘ حضرت زید بن ارقم نے کہا : پس میں نے دیکھا وہ جنگل میں اونچی آواز سے یہ کہتی ہوئی جارہی تھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص ٥٣۔ ٤٣‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ٢ ص ٦٧٣۔ ٥٧٣‘ رقم الحدیث : ٤٧٢‘ تاریخ دمشق الکبیر ج ٤ ص ٨٥٢۔ ٧٥٢‘ البدلیۃ والنہایہ ج ٤ ص ٣٤٥‘ ٢٤٥‘ المعجم الکبیر ج ٣٢ ص ١٣٣‘ الوفاء ص ١٤٣۔ ٠٤٣‘ م مجمع الزوائد رقم الحدیث : ٧٨٠٤١‘ الخصائص الکبری ج ٢ ص ١٠١‘ سبل الہدی والر شاوج ٩ ص ٠٢٥۔ ٩١٥)

حضرت یعلیٰ بن مرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک اونٹ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گردن بڑھا کر بڑ بڑا رہا تھا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس اونٹ کے مالک کو بلائو ‘ جب وہ آیاتو آپ نے فرمایا یہ کہ میں ان کے ہاں پیدا ہوا انہوں نے مجھ سے خوب کام لیا ‘ اب جب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو یہ مجھے ذبح کرنا چاہتے ہیں اور آپ نے فرمایا :

مامن شیء فیھا الا یعلم انی رسول اللہ الا کفرۃ اوفسقۃ الجن والانس۔ اس دنیا میں ہر چیز کو یہ علم ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں سوا فاسق جن اور انس کے۔ (المعجم الکبیر ج ہ ٢ ص ٢٦٢۔ ١٦٢‘ البدلیۃ والنہایۃ ج ٩ ص ٤٣٥‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ٩٥١٤١‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ٢ ص ١٨٣۔ ٠٨٣‘ الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص ٥٩۔ ٤٩‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢٧١‘ سبل الھدی ‘ والرشاد ج ٩ ص ٤١٥)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین اور انصار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اونٹ نے آکر آپ کو سجدہ کیا۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ٢ ص ١٨٣‘ رقم الحدیث : ٨٧٢‘ مسند احمد ج ٦ ص ٦٧‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٠١٣)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور انصار تھے ‘ باغ میں ایک بکری تھی اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کیا ‘ حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ! اس بکری کی بہ نسبت ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ مستحق ہیں ‘ آپ نے فرمایا میری امت میں سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو سجدہ کرے ‘ اور اگر کسی کے لیے کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ٢ ص ٩٧٣‘ رقم الحدیث : ٦٧٢‘ الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص ٠٠١‘ سبل الھدی والرشاد ج ٩ ص ٦١٥)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے پاس سے گزرے اس کی چوٹی پر بیٹھا ہوا ایک بلبل چہچہا رہا تھا اور اپنی دم ہلا رہا تھا ‘ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی زیادہ جاننے والے ہیں ‘ آپ نے فرمایا وہ کہہ رہا ہے ‘ میں نے آدھے پھل کھالیے اور دنیا میں زیادتی ہے ‘ اور ایک فاختہ بولنے لگی تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہی ہے کہ کاش یہ مخلوق پیدا نہ کی جاتی ‘ اور مور بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ تم جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ‘ اور ہد ہد بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے : اے گنہ گارو ! اللہ سے استغفار کرو ‘ اور طیطوی (ایک پرندہ) بولا تو آپ نے فرمایا : یہ کہہ رہا ہے کہ ہر زندہ مرنے والا ہے اور ہر نئی چیز پرانی ہونے والی ہے ‘ اور خطاف (لمبے بازو اور چھوٹے پائوں والا سیاہ پرندہ) بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ نیکیاں بھیجو آخرت میں ان کو پائو گے اور رخمۃ ( سیاہ رنگ کا گدھ) بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ سبحان رب الاعلی مل سمائہ وارضہ ( بر اعلیٰ کی تسبیح آسمان اور زمین کی پہنائی کے برابر) اور قمری بولی تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہی ہے کہ سبحان رب الاعلیٰ ‘ اور چپل بولی تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ‘ اور القطاۃ (ایک پرندہ) بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ جو خاموش رہا وہ سلامت رہا ‘ اور طوطا بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ دنیا اور دنیا کی فکر کرنے والے کے لیے ہلاکت ہو ‘ اور مرغ بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ اے غافلو ! اللہ کا ذکر کرو ‘ اور سفید گدھ بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ اے آدم ! تو جب تک چاہتا ہے زندہ رہ بالآخر تجھے موت آئے گی ‘ اور عقاب بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ لوگوں سے دوررہنے میں انس ہے ‘ اور مینڈک بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ سبحان ربی القدوس ‘ اور چنڈول (کلغی والا پرندہ) بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہ رہا ہے کہ اے اللہ محمد اور آل محمد سے بغض رکھنے والے پر لعنت فرما ‘ اور زرزور ( ایک پرندہ) بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ ! میں تجھ سے ہر نئے دن کا رزق طلب کرتا ہوں ‘ اور تیتر بولا تو آپ نے فرمایا : یہ کہہ رہا ہے الرحمن علی العرش استوی۔ (روح المعانی جز ٩١‘ ص ٧٥٢۔ ٦٥٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت : ٥١٤١ ھ)

اس روایت کا امام بغوی متوفی ٦١٥‘ نے ذکر کیا ہے۔

(معالم التنزیل ج ٣ صص ٤٩٤۔ ٣٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

حضرت عبد اللہ بن قرط (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانچ یا چھ اونٹنیاں قربانی کے لیے لائی گئیں ‘ ان میں سے ہر اونٹنی آپ کے قریب ہونے لگی کہ آپ اس سے ذبح کی ابتداء کریں۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٦٧١)

ایسے ہی موقع کے لیے کسی نے یہ شعر کہا ہے :

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ برکف بر امید آنکہ روزے بہ شکار خواہی آمد 

جنگل کے تمام ہرن اپنی اپنی ہتھیلیوں پر اپنے اپنے سر لیے پھر رہے ہیں ‘ اس امید پر کہ وہ کسی روز شکار کرنے کے لیے آئیں گے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دنیا کی ہر چیز دی جانے کا محمل 

اس کے بعد فرمایا اور ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے اور بیشک یہی کھلا ہوا فضل ہے۔

اصل میں کل کا لفظ احاطہ افراد کے لیے آتا ہے اور اس حقیقی معنی یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے یہ کہا ہمیں دنیا کی ہر چیز دی گئی ہے۔ لیکن یہاں حقیقت مراد نہیں ہے کیونکہ جس وقت انہوں نے یہ فرمایا تھا اس وقت تو ان کے پاس تخت بلقیس بھی نہیں تھا اور کل مجازاً اکثر چیزوں کے لیے آتا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بہت زیادہ چیزیں دی گئی تھیں ‘ انکو ملک ‘ سلطنت ‘ نبوت ‘ کتاب ‘ ہوائوں ‘ جنات اور شیاطین کی تسخیر دی گئی تھی۔ پرندوں کی بولیوں کا علم دیا گیا تھا ‘ تانبا ‘ پیتل اور بہت معدنیات دے گئے تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) دنیا اور آخرت کی جس چیز کا بھی ارادہ کرتے تھے وہ انہیں مل جاتی تھی ‘ ایک قول یہ ہے کہ انہیں اپنے ملک کی حفاظت کے لیے جو چیز درکار ہوتی وہ انہیں میسر ہوجاتی تھی۔ (روح المعانی ج ٩١ ص ٨٥٢‘ دارالفکر ‘ ٧١٤١ ھ)

سلطان کے متعلق احادیث 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سلطان زمین میں اللہ تعالیٰ کا اسایہ ہے ‘ اللہ کے بندوں میں سے ہر مظلوم اس کی پناہ میں آتا ہے ‘ اگر وہ عدل کرے تو اس کو ثواب ہوگا اور اس کی رعایا پر اس کا شکر ادا کرنا لازم ہے اور اگر وہ ظلم کرے تو اس کو عذاب ہوگا اور اس کی رعیت پر صبر کرنا لازم ہوگا اور جب حکام سے جنگ کی جاتی ہے تو آسمان سے قحط نازل ہوتا ہے اور جب زکوۃ روک لی جاتی ہے تو مویشی ہلاک ہوجاتے ہیں اور جب زنا کا غلبہ ہوتا ہے تو فقر اور ذلت کا ظہور ہوتا ہے اور جب ذمیوں سے بدعہدی کی جاتی ہے تو کفار کا مسلمانوں پر غلبہ ہوجاتا ہے۔ (مسند البنر اررقم الحدیث : ٠٩٥١‘ حافظ الہیشمی متوفی ٧٠٨ ھ نے کہا اس حدیث کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ‘ متروک ہے۔ مجمع الزوائد ج ٥ ص ٦٩١)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سلطان زمین میں اللہ تعالیٰ کا سایہ ہے پس جو شخص اس کے ساتھ خیر خواہی کرے او اس کو دعا دے وہ ہدایت یافتہ ہے اور جو اس کو دھوکا دے اور اس کو بد دعا دے وہ گمراہ ہوگا۔ (کتاب الضعفاء الکبیر ج ٣ ص ٤٥٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)

سہل بن عبداللہ تستری نے کہا جس نے سلطان کی امامت کا انکار کیا وہ زندیق ہے اور جس کو سلطان نے بلایا اور وہ حاضر نہیں ہوا وہ زندیق ہے اور جس اس کے پاس بغیر بلائے گیا ہے جاہل ہے ‘ اور سہل سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا سلطان ‘ ان سے کہا گیا کہ ہماری رائے تو یہ ہے کہ لوگوں میں سب سے برا سلطان ہے ‘ انہوں نے کہا ایسا نہ کہو ‘ اللہ تعالیٰ ہر روز دو بار نظر رحمت فرماتا ہے ‘ ایک نظر مسلمانوں کے اموال کی سلامتی کی طرف ہوتی ہے اور ایک نظر ان کے جسموں اور بدنوں کی سلامتی کی طرف ہوتی ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ سلطان کے صحیفہ اعمال کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ (احیاء العلوم مع اتحاف السادۃ المتقین ج ٩ ص ٨٧‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٤١٤١ ھ)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا بیشک یہی کھلا ہوا فضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جو نعمتیں عطا کی تھیں اور بہت بڑی سلطنت دی تھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے حضرت سلیمان کا یہ کہنا اظہار شکر کے لیے تھا نہ کہ اپنی بڑائی اور فخر کے اظہار کے لیے جیسے اس حدیث میں ہے : حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور فخر نہیں ہے ‘ اور میرے ہی ہاتھ میں حمد کا جھنڈا فخر نہیں ہے اور اس دن جو بھی نبی ہوگا آدم ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور وہ سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور سب سے پہلے مجھ سے زمین (قبر) پھٹے گی اور فخر نہیں ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٥١٦٣ )

امام بغوی متوفی ٦١٥ ھ لکھتے ہیں : مقاتل نے کہا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبوت اور ملک دیا گیا اور ان کے لیے جنات ہوائوں اور سیاطین کو مسخر کیا گیا ‘ روایت ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زمین کے تمام مشارق اور مغارب کی حکومت دی گئی اور انہوں نے سات سو سال اور چھ ماہ حکومت کی ‘ اور وہ دنیا کے تمام جنات ‘ انسانوں ‘ مویشیوں ‘ پرندوں اور درندوں کے مالک تھے اور وہ ہر جانور کی بولی جانتے تھے اور ان کے زمانہ میں بہت عجیب و غریب کام ہوئے۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٣٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ھ)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عمر اور ان کی حکومت کی مدت کے متعلق اس کے مخالف اقوال بھی ہیں اور ان کی حقیقی عمر اور موت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 16