اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ(۲۲)

تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۳۷) تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں (ف۳۸) اور وہ مغرور (ف۳۹)

(ف37)

اللہ عزوجل جو اپنی ذات و صفات میں نظیر و شریک سے پاک ہے ۔

(ف38)

وحدانیت کے ۔

(ف39)

کہ حق ظاہر ہو جانے کے باوجود اس کا اِتّباع نہیں کرتے ۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)

فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْۙ-قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ(۲۴)

اور جب ان سے کہا جائے(ف۴۰) تمہارے رب نے کیا اتارا (ف۴۱) کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۴۲)

(ف40)

یعنی لوگ ان سے دریافت کریں کہ ۔

(ف41)

محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو ۔

(ف42)

یعنی جھوٹے افسانے کوئی ماننے کی بات نہیں ۔

شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کی شان میں نازِل ہوئی اس نے بہت سی کہانیاں یاد کر لی تھیں اس سے جب کوئی قرآنِ کریم کی نسبت دریافت کرتا تو وہ یہ جاننے کے باوجود کہ قرآن شریف کتابِ مُعجِز اور حق و ہدایت سے مملو ہے ، لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ کہہ دیتا کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ، ایسی کہانیاں مجھے بھی بہت یاد ہیں ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ لوگوں کو اس طرح گمراہ کرنے کا انجام یہ ہے ۔

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِۙ-وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠(۲۵)

کہ قیامت کے دن اپنے (ف۴۳) بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں سن لو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں

(ف43)

گناہوں اور گمراہی و گمراہ گری کے ۔