استاذ اور شاگرد، ذرا نم ہو تویہ مٹی…….

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف

رکن روشن مستقبل ــ دہلی

چیئرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ

کسی کا ایک آڈیو نظر سے گذرا جس میں ہمارے طلبہ کے متعلق یہ بات کہی جارہی تھی کہ ہمارے طلبہ دیوبندی مکتبوں سے شائع درسی کتب کثرت سے خرید رہے ہیں وجہ حاشیہ تعویذ کی شکل کا نہ ہوکر نیچے کردیا گیا ہے، کمپوزنگ بھی کمپیوٹر کی ہے، ورق، کلر، طباعت سب کچھ عمدہ ہے. جبکہ ہمارے یہاں مجلس برکات سے شائع کتب و شروح اسی قدیم طرز پر شائع ہورہی ہیں، نہ حاشیہ جدید طرز کا ہے اور نا ہی کمپوزنگ، طباعت، ورق، کلر ہی دیدہ زیب ہے. مجبوراً طلبہ دیوبندی مکتبوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں جہاں پیسہ تو اپنا جا ہی رہا ہے ایمان و عقیدہ پر بھی تلوار لٹک رہی ہے، ساتھ ہی انکی علمی خیانتوں سے انجان طلبہ انھیں بڑا قابل فقیہ، محدث، محقق سمجھ رہے ہیں حالانکہ اہل علم پر روشن ہے کہ ہمارے علما کا حاشیہ، تشریح، تحقیقات سرقہ کرکے اپنے نام کے ساتھ شائع کرتے ہیں تھوڑی توجہ پر آپ پائیں گے کہ کہیں دس، بیس صفحات تو کہیں کہیں پوری پوری بحثیں سرقہ ہیں.

ہم کیا کریں

ہمارے بڑے مدارس کو اس بات کا رونا ہے کہ ہم ہی سارے کام کریں، ہزاروں کی تعداد میں مدرسے، علما کیا کررہے ہیں؟ جبکہ چھوٹے مدارس کا یہ رونا ہے کہ ہمارے بڑے مدارس چھوٹوں کو منھ ہی نہیں لگاتے. میرے خیال سے یہاں تطبيق کی صورت بنتى ہے مگر ہردو فريق کو تھوڑا سا اخلاقی ہونے کی ضرورت ہے. ہم کچھ پیش کریں اس سے پہلے عریضہ پر بھی غور فرمائیں.

عریضہ : سارے کام بآسانی ہوسکتے ہیں اگر ہمارے اساتذہ طلبہ سے تعلقات استورا رکھیں، عموماً دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ استاذ قابل بچوں سے بھی قدرے دوری بنائے رکھتے ہیں، بعد فراغت اگر کہیں اتفاقیہ ملاقات ہوجائے تو صرف ہاتھ کو بوسہ دیکر معاملہ ختم ہوجاتا ہے، چونکہ پہلے بھی کوئی خاص لگاؤ نہیں رہا ہوتا ہے تو اب بھی صرف خانہ پری ہی ہوتی ہے،کوئی شاگرد اگر کچھ تصنیفی کام کرتا ہے تو تقریظ لکھنے کے لیے بھی سال، چھ ماہ لگ جاتے ہیں یہاں تھوڑی عجلت کی ضرورت ہے. بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اساتذہ کو عزت کی فکر رہتی اور طلبہ سے دوری کا سبب بھی یہی ہے اگر ایسا ہے تو فضیلت والے قابل طلبہ سے بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے اور بعد فراغت يا تحقیق کے دوران تعلقات دوستانہ ہونا چاہیے کیونکہ انھیں تعلقات سے ہم وہ کام لے سکتے ہیں جو پیسہ لگا کر بھی سالوں میں ہوجائیں تو بڑی بات. ہمارے اساتذہ کو چھوٹوں کے سروں پر ہاتھ رکھنا چاہیے، معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ معاملہ برعکس ہے (الا ماشاء اللہ) ہمارے یہاں قابل افراد کی کمی نہیں ہے، اگر استاذ اپنے کسی قابل شاگرد کو لائق سمجھتے ہوے کوئی کام سونپ کر اسے کرنے کو کہے اور کام پورا ہونے پر اسکی حوصلہ افزائی ہوجائے تو طلبہ جان چھڑک کر کام کریں گے. (شاید ہمارے کرم فرما اساتذہ کو یہ احساس نہیں کہ اچھے طلبہ استاذ کا دست شفقت پاتے ہی خود اعتمادی سے کیسے بھر جاتے ہیں اور اس اعتماد میں وہ ایسے ایسے کام کرجاتے ہیں جن کا تصور بھی ہمیں نہیں ہوتا )

ایک کمی سارے مدارس کی یہ ہے کہ وہ فارغ علما کے لیے کچھ کرتے ہی نہیں، قدیم ابنائے ادارہ (اولڈ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن) کا قیام ہر متوسط مدرسے کو کرنا چاہیے،( آنے جانے کا خرچ خود علما اٹھالیں گے مدرسے کو صرف قیام و طعام کا انتظام کرنا ہوگا ) سالانہ فارغ علما کی ایک میٹنگ ہو، جس میں کم از کم دس معمر فارغین کی شرکت ضروری ہو، نئے فارغین سے انکے منصوبے سنے جائیں، جہاں خامیاں ہوں انھیں درست مشورے دیے جائیں، کام پر حوصلہ افزائی ہو، آنے والے حالات سے آگہی، اسلام اور مسلمانوں پر ہونے والے منظم حملوں سے نپٹنے کی ترغیب دی جائے،یہ کام چاہیں تو مدرسے کے سالانہ اجلاس سے ایک دن پہلے یا بعد میں ہوجائے، یا درمیان میں جب مناسب سمجھیں.

فی الحال تو فارغین سالانہ اجلاس میں جب مدرسے پہنچتے ہیں تو انکے ساتھیوں کی یا تو فراغت ہوچکی ہوتی ہے یا انکے دوست و احباب خود اتنے ہوتے ہیں کہ کمرے میں بیگ رکھنے تک کی جگہ نہیں ہوتی ایسے حالات میں آپ کو لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ مادر علمی ہے اور آپ نے یہاں کئی سال گزارے ہیں، اہل مدارس کو اس پر بھی توجہ کی ضرورت ہے، اگر مدرسے میں جگہ نہ ہو تو قصبے یا شہر میں کوئی اسکول، کسی مسلمان کا شادی ہال، کسی کا خالی گھر اس کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے.

(1) جو کمپیوٹر ماہر ہیں ان سے کمپوزنگ کرائی جا سکتی ہے، جو حاشیہ دیکھنے لائق ہوں ان سے وہ کام لیا جائے، کچھ لوگوں کو عربی کتب دیکھنے پر ,مامور کیا جائے جو یہ دیکھیں کہ حاشیہ میں نام کس کا ہے یہ کام درسی علما بآسانی کرسکتے وہیں مطالعہ کرتے ہوے عربی شروحات و کتب بھی ايک دو گھنٹہ دیکھ لیں.

(2) چونکہ اپنی لائب ریری نہیں ہے اس لیے کچھ طلبہ، علما کی ٹیم بنا کر کتب اپلوڈ کرنے اور کمپوزنگ کی غلطیاں درست کرنے پر مامور ہوں، آج اسلام 360، البحث العلمي، وغيرہ ایپ دیکھیے تو کس قدر عقیدے پر چوٹ کی گئ ہے آپ کو احساس ہوجائے گا. صحاح ستہ، دیگر احادیث، فقہ پر ہماری لائبریری ضروری ہے تاکہ حفاظ، عام نوجوان گمراہ نہ ہوسکیں.

(3) کچھ طلبہ، علما کی ٹیم بناکر پروف ریڈنگ سیٹنگ کے بعد ایپ بنانے والوں کو ارسال کی جائیں اس طرح ہمارا کام ایپ کی شکل میں موجود ہوگا جو آج کل ہر ایک کی ضرورت ہے.

(4) چھوٹے مدارس سے بھی برابر رابطے میں رہا جائے، انکی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ انھیں بھی درست مشورے دیتے رہیں، جو لوگ رسپانس اچھا دیں، عمل کریں انھیں ساتھ رکھیں اور جو خود کو ہی سب کچھ سمجھیں ان سے بصورت احسن دوری اختیار فرمالیں، کیونکہ ع

جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں،،

اور مستقبل میں دوبارہ ساتھ کام کرنے کے راستے مسدود نہ ہوں.

(5) آپ کسی مسئلے کے لیے اگر گوگل کھولتے ہیں تو آپ کو جو شرعی مسائل دکھائی دیں گے وہ وہابی، دیوبندی، اہل حدیث وغیرہ کے ہوتے ہیں، اس سمت بھی کام کی ضرورت ہے. ٹیم بناکر اس پر بھی کام کیا جا سکتا ہے اور ضروری بھی ہے بس جو مواد سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر ہو اسے جید مفتیان کرام کو دیکھنا ہوگا جو حالات زمانہ پر دور اندیش ہوں. اہل سنت کے کئی ٹیلی گرام، واٹس ایپ گروپ ہیں جہاں شرعی مسائل کے جواب دیے جاتے ہیں بس انھیں کو دوسرے رخ پر موڑنے کی ضرورت ہے یہ کام بھی ایک پیسہ خرچ کئے بغیر صرف فارغین پر دست شفقت رکھنے بھر سے ہی ہوجائے گا.

روشن مستقبل دہلی

25 /6/2020