حدیث نمبر 498

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو آخر رات میں نہ اٹھنے کا خوف کرے وہ اول رات میں وتر پڑھ لے ۱؎ اور جسے آخر شب میں اٹھنے کی امید ہو وہ آخر شب میں وتر پڑھے کیونکہ آخر شب کی نماز حاضری ملائکہ سے مشرف ہے اور یہ بہتر ہے ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ ا مروجوبی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر واجب ہیں۔

۲؎ حضرت ابوبکر صدیق اول شب میں وتر پڑھ لیتے تھے اور حضرت عمرفاروق آخر شب میں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر تم احتیاط پر عمل کرتے ہو اور اے عمر تم قوت و اجتہاد پر۔خیال رہے کہ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو آخر شب میں اﷲ کی رحمتیں لے کر اترتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ مشہود کے معنی ہیں عظمت کی گواہی دی ہوئی۔