أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۩ ۞

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہی عرش عظیم کا مالک ہے

تخت بلقیس اور عرش الٰہی دونوں کے عظیم ہونے کا فرق 

النمل : ٢٦ میں ہد ہد کا قول ہے یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

اس سے پہلے ہد ہد نے بلقیس کے عرش (تخت) کو عظیم کہا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے عرش کو عظیم کہا ہے، دونوں عورشوں کے عظمی ہونے میں فرق ہے، بلقیس کا تخت دنیاوی بادشاہوں کے تختوں کے اعتبار سے عظیم تھا اور اللہ تعالیٰ کا عرش کائنات کے تمام تختوں کے اعتبار سے عظیم ہے، نہیں بلکہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں سے بڑا ہے۔

امام ابن جریر نے اور امام ابوالشیخ نے کتاب العظمتہ میں اور امام ابن مردویہ نے اور امام بیہقی نے الاسماء و الصفات میں حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسری کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اے ابو ذر ! سات زمینیں اور سات آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے جنگل کی زمین میں انگوٹھی گری ہوئی اور عرش کی فضیلت کرسی پر ایسے ہے جیسے انگوٹھی کی فضیلت جنگل پر ہے۔

خطیب بغدادی، امام فریابی، امام عبدبن حمید، امام ابن المنذر امام ابن ابی حاتم امام طبرانی امام ابوالشیخ امام حاکم اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کرسی قدموں کی جگہ ہے اور عرش کی عظمت اور مقدار کا کوئی شخص اندازہ نہیں کرسکتا۔ (الدارالمنثور ج ٢ ص 17-18 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت : ١٤٢١ ھ)

امام ابن جریر، امام ابن المنذر، امام ابوالشخی نے اور امام بیہقی نے کتاب الاسماء و الصفات میں حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کیا ہے کہ کرسی پیر رکھنے کی جگہ ہے اور وہ چرر چرر کرتی ہے جس طرح پالان چرر چرر کرتا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا یہ بہ طور استعارہ ہے اور اللہ تعالیٰ تشبیہ سے پاک ہے، اس کی وضاحت میں امام ابن جریر نے ضحاک کا یہ قول درج کیا ہے کہ کرسی وہ چیز ہے جس کو تخت کے نیچے رکھا جات ہے، بادشاہ تخت پر بیٹھ کر اس پر اپنے پیر رکھتے ہیں۔ (الدارالمنثور ج ٢ ص 17-18 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 26