أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَىَّ وَاۡتُوۡنِىۡ مُسۡلِمِيۡنَ۞

ترجمہ:

یہ کہ تم میرے مقابلہ میں سر نہ اٹھائو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجائو

آیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کو اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا تھا یا اپنی بادشاہت تسلیم کرنے کا ؟

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس مکتوب میں لکھا تھا : تم میرے مبال ہمیں سر نہ اٹھائو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجائو (النمل : ٣١) بعض مفسرین نے کہا اس آیت میں جو مسلمین کا لفظ ہے اس سے مراد مومنین ہے اور صحیح قول یہ ہے کہ اسلام اور ایمان مترادف ہیں اور بعض مفسرین نے کہا اسلام کا لغوی معنی مراد ہے، یعنی استسلام اور ظاہری اطاعت۔

انبیاء (علیہم السلام) کا طریقہ ی ہے کہ وہ پہلے کسی قوم کو اللہ کی توحید ماننے اور اس کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی اس کے نمائندے اور اس کے سفیر اور پیغام بر ہیں اور اپنی رسالت اور نبوت پر دلائل اور معجزات پیش کرتے ہیں اور اس پیغام کے قبول نہ کرنے پر انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔

اور بادشاہوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی علاقہ کو اپنا تابع کرنے کے لئے اس کو اس پر حملہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے اس سے خراج وصول کرتے ہیں اور خراج ادا نہ کرنے کی صورت میں اس پر حملہ کردیتے ہیں۔

اگر اس آیت میں مسلمین کے لفظ سے مومنین کا ارادہ کیا جائے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ ارشاد انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ کے مناسب ہے اور اگر اس آیت میں مسلمین کے لفظ سے استسلام اور اطاعت ظاہرہ اور مغلوب اور مقہور ہونے کا ارادہ کیا جائے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ ارشاد بادشاہ ہوں کے طریقہ کے مناسب ہے۔

زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں مسلمین سے مومنین ہی مراد ہے، باقی رہا یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی نبوت پر کوئی معجزہ تو نہیں پیش کیا اس کا جواب یہ ہے کہ ہد ہد کو مکتوب دے ر کر بھیجنا اور ہد ہد کا بلقیس کو مکتوب پہنچانا خود ایک عظیم معجزہ ہے اور رہا یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو توحید اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی دعوت نہیں دی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو اسلا اور ایمان لانے کا اسی لئے حکم دیا تھا کہ وہ اور اس کی قوم سورج کو پرستش کرتی تھی اور ایمان لانے کا یہی معنی تھا کہ وہ شرک اور آتش پرستی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لائے اور اس کی اطاعت کرے۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 31