أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِىۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ لوگ اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے ‘ جو آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کو باہر لاتا ہے ‘ اور وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جن کو تم چھپاتے ہو اور جن کو تم ظاہر کرتے ہو

ان لایسجدوا کی متعدد نحوسی ترکیبیں اور تراجم 

النمل : ٢٥ میں ہے ان لایسجدوا اس کی مختلف نحوی تراکیب ہیں اس لئے اس کے تراجم بھی مختلف ہیں۔

شیخ سعدی متوفی ٦٩١ ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے، راہ نمے یا بند تا سجدہ کنند، مر خدا ے را،

شاہ ولی اللہ دہلوی نے اس کا ترجمہ کیا ہے : راہ نمے یا بند بسوئے آنکہ سجدہ کنندآں خدائے را،

شاہ رفیع الدین متوفی ١٢٣٣ ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے، نہیں راہ پاتے یہ کہ سجدہ کریں واسطے اللہ کے،

شاہ عبدالقادر محدث دہلوی متویف ١٢٣٠ ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے، راہ نہیں پاتے کیوں نہ سجدہ کریں اللہ کو

اعلیٰ حضرت متوفی ١٣٤٠ ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو

علامہ سید احمد سعید کاظمی متوفی ١٤٠٦ ھ نے لکھا ہے (شیطان نے انہیں روک دیا) تاکہ وہ سجدہ نہ کریں۔

ان لایسجدوا میں لام تعلیلیہ محذوف ہے اصل میں لئلایسجدوا، یعنی شیطان نے بلقیس کی قوم کو فریہ کاموں میں اس لئے ملوث کیا تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں، یا شیطان نے ان کے برے کاموں کو ان کی نظر میں اس لئے اچھا بنایا، یا ان کو سیدھے راستہ سے اس لیء روکا تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں۔

ان لایسجدوا کی دوسری تقریر یہ ہے کہ اس میں لا (حرفی نفیض زائدہ ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ شیطان نے ان کو اللہ کے لئے سجدہ کرنے سے روک دیا۔

اس کی نظیر یہ ہے کہ لئلا میں بھی لا (حفری نفی) زائد ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(الحدید : ٢٩) تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ ان کو اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں ہے۔

ان لایسجدوا کی تیسری تقریر یہ ہے کہ اس سے پہلے الی مقدر ہے اور یہ جار مجرور لایھتدون کے متعلق ہے اور اس صورت میں بھی لا زائد ہے اور اس کا یہ معنی ہے : پس وہ اللہ کو سجدہ کرنے کی طرف ہدیات نہیں پائیں گے۔

ان لایسجدوا کی ترکیب کی چوتھی تقریر یہ ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اور اس کا معنی ہے ان کا طریقہ اور ان کی عادت یہ تھی کہ وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے تھے۔

ان لایسجدوا کی نحوی ترکیب کی پانچویں تقریر یہ ہے کہ ان لا (الا) حرف تنبیہ ہے، گویا ہد ہد بلقیس کی قوم کو مخاطبین کے قائم مقام کر کے کہہ رہا ہے کہ تم اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے نیا کلام شروع کیا ہو کہ یہ لوگ اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کو باہر لاتا ہے، یا یہاں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا کلام شروع ہوا یعنی ہد ہد کا کلام سن کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کی قوم کے متعلق تبصرہ فرمایا یہ لوگ اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کو باہر لاتا ہے۔ (روح المعانی ج 19 ص 284-285 مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 25