باب الوتر

وتر کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ وتر کے لغوی معنی ہیں طاق عدد جتخ یعنی شفع کا مقابل ،رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ”۔شریعت میں وتر خاص نماز کا نام ہے جو عشاء کے بعدمتصل یا تہجد کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔وتر میں علماء کے پانچ اختلاف ہیں:ایک یہ کہ وتر سنت ہیں یا واجب؟ہمارے ہاں واجب ہیں۔دوسرے یہ کہ وتر ایک رکعت ہے یا تین؟ہمارے ہاں تین رکعت۔تیسرے یہ کہ اگر تین رکعت ہے تو دو سلام سے یا ایک سلام سے؟ہمارے ہاں ایک سلام سے ہے۔چوتھے یہ کہ وتر میں دعائے قنوت ہمیشہ پڑھی جائے گی یا صرف رمضان کے آخری پندرہ دن میں؟ہمارے ہاں ہمیشہ پڑھی جائے گی۔خیال رہے کہ اس باب میں وتر کبھی صرف اس ایک رکعت کو کہا جائے گا جو وتر کے آخر میں ہوتی ہے،کبھی پوری تین رکعتوں،کبھی پوری تہجد کو، جہاں ارشاد ہوگا کہ وتر سات یا نو یا گیارہ رکعتیں پڑھیں وہاں پوری تہجد مراد ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں وتر کی پوری بحث ہماری کتاب “جاء الحق”حصہ دوم میں مطالعہ فرماؤ۔یہاں بھی احادیث کی شرح میں کچھ عرض کیا جائے گا۔ان شاءاﷲ!

حدیث نمبر 492

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رات کی نماز دو دور رکعتیں ہیں ۱؎ پھر جب تم میں سے کوئی صبح کا خوف کرے۲؎ تو ایک رکعت اور پڑھ لے جو اس کی پڑھی ہوئی نماز کو طاق بنادے گی۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی بہتر یہ ہے کہ نماز تہجد دو۲دو۲ رکعتیں پڑھے،چار چار یا زیادہ کی نیت نہ باندھے یہ حدیث صاحبین اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ رات کے نوافل دو دو کرکے پڑھنا افضل ہے۔

۲؎ یعنی تہجد پڑھنے والے وتر تہجد کے بعد پڑھیں مگر صبح صادق سے پہلے پہلے پڑھ لیں۔اس حدیث میں اشارۃً ارشاد ہوا کہ تہجد کی نماز دراز پڑھے حتی کہ صبح کے وقت ختم کرے۔

۳؎ اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک رکعت دو رکعتوں کے ساتھ پڑھے یہ ایک رکعت تمام نماز کو طاق بنادے گی یہ مطلب نہیں کہ علیحدہ ایک رکعت پڑھے ورنہ یہ حدیث تین رکعت والی احادیث کے خلاف ہوگی جو آگے آرہی ہیں اور احادیث میں سخت تعارض ہوگا لہذا یہ حدیث ا حناف کے خلاف نہیں۔