حدیث نمبر 494

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے پانچ رکعت وتر پڑھتے جن میں آخر کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم شب میں آٹھ رکعت تہجد اور پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اس طرح کہ ان پانچ رکعتوں میں درمیان میں سلام کے لیئے نہ بیٹھتے بلکہ سلام آخر میں ایک بار پھیرتے تھے،یہاں بیٹھنے سے مراد سلام کے لیئے بیٹھنا ہے نہ کہ التحیات کے لیئے بیٹھنا کیونکہ ہر وقت نماز میں ہر دو رکعت پر بیٹھنا التحیات پڑھنا تمام آئمہ کے ہاں واجب ہے۔خیال رہے کہ پانچ رکعت وتر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا فعل شریف تھا جو بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا۔چنانچہ ان ہی عائشہ صدیقہ کی روایات اسی باب میں تین رکعت وتر کی آرہی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے جو اس عمل کا ناسخ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔