حدیث نمبر 495

روایت ہے حضرت ابن ہشام ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے میں نے کہا ہاں بولیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۲؎ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی خبر دیجئے فرمایا ہم آپ کی مسواک اور طہارت کا پانی تیار کردیتے تھے ۳؎ تو رات میں جب اﷲ چاہتا انہیں اٹھاتا تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے جن میں آٹھویں کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۴؎ پھر اﷲ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اس سے دعا مانگتے پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوتے ۵؎ تو نویں رکعت پڑھ لیتے پھر بیٹھتے پھر اﷲ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے پھر سلام کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اے بچے یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ۶؎ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے ۷؎ اور دو رکعتوں میں پہلی رکعتوں کا سا عمل کرتے ۸؎ اے بچے یہ نو ہوئیں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے اور جب آپ کو نیند یا تکلیف رات کو اٹھنے سے مانع ہوتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۹؎ اور مجھے خبر نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ یہ کہ ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سوا کسی مہینے کا پورا روزہ رکھا ہو ۱۰؎(مسلم)

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،تابعی ہیں،حضرت انس ابن مالک کے چچا زاد بھائی ہیں،غزوہ ہند میں شریک ہوئے اور مکران میں شہید ہوئے،خواجہ حسن بصری نے آپ سے روایات لیں۔(اشعہ)

۲؎ یعنی قرآن کریم پر عمل آپ کی جبلی عادات کریمہ تھیں،یہ خاموش قرآن ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بولتا ہوا قرآن،آپ کا ہر عمل قرآن کریم کی تفسیر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بچپن شریف سے ہی قدرتی طور پر قرآن پر عامل تھے،قرآن ہماری ہدایت کے لیئے آیا نہ کہ حضور کی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اسی لیئے فرمایا گیا”ہُدًی لِّلنَّاسِ”اور فرمایا ” ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ”قرآن لوگوں کا یا متقین کا ہادی ہے نہ کہ آپ کا،آپ تو اول ہی سے ہدایت یافتہ ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔

۳؎ یعنی ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک اور وضو کا پانی آپ کے سرہانے اول رات ہی میں رکھ دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں سرہانے رکھ کر سونا سنت ہے اور یہ خدمت بیوی کے ذمہ ہے۔

۴؎ نہ سلام کے لیئے نہ التحیات کے لیئے بلکہ مسلسل آٹھ رکعتیں پڑھتے جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے ۔

۵؎ یعنی آٹھویں رکعت پر بیٹھتے تو مگر التحیات وغیرہ پڑھنے کے لیئے نہ کہ سلام پھیرنے کے لیئے۔خیال رہے کہ ام المؤمنین نے یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تہجد بیان فرمائی نہ کہ صرف وتر اور یہ حدیث بالاتفاق منسوخ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا عمل تھا اب کسی کے نزدیک وتر تہجد سے ملا کر پڑھنا جائز نہیں اور کسی کے ہاں آٹھ رکعتیں مسلسل پڑھنا درست نہیں اگر آٹھ کی نیت باندھے تو ہر دو رکعت میں بیٹھنا اور التحیات پڑھنا واجب ہے لہذا یہ حدیث عائشہ صدیقہ کی تین رکعت والی وتر کی حدیث کے خلاف نہیں کہ یہاں پہلے عمل کا ذکر ہے اور وہاں آخری کا۔

۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ وتر کے بعد دو نفل پڑھنا مستحب ہے کھڑے ہو کر پڑھنا ثواب کی زیادتی کا باعث ہے اور بیٹھ کر قرب زیادہ کیونکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل شریف ہے۔وہ جو حدیث شریف میں آیا کہ رات میں وتر کو آخری نماز بناؤ وہاں تہجد سے مراد آخر ہے یعنی تہجد پہلے پڑھو وتر بعد میں یہ دو نفل تہجد نہیں۔

۷؎ اس طرح کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت و تر علیحدہ تحریمہ اور سلام سے جیسا کہ آگے انہیں کی روایت میں آرہا ہے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا والا عمل بالکل منسوخ ہے۔

۸؎ یعنی آخر عمر شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد و وتر میں تو تبدیلی واقع ہوگئی مگر وتر کے بعد نفلوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اسی طرح بیٹھ کر پڑھتے رہے اولیٰ سے مراد پہلی حالت ہے۔

۹؎ زوال سے پہلے پہلے یا اس لیئے پڑھتے کہ آپ پر نماز تہجد فرض تھی اور فرض کی قضا ضروری ہے تب تو یہ قضا آ پ کی خصوصیت ہے یہ اس لیئے کہ جس کی تہجد رہ جائے اور وہ زوال سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھ لے تو تہجد کا ثوا ب پائے گا۔

۱۰؎ سبحان اﷲ! یہ عائشہ صدیقہ کی انتہائی احتیاط ہے کہ اپنے علم کی نفی فرمارہی ہیں یعنی ممکن ہے کہ آپ نے سفر میں یا دوسری بیوی کے ہاں یہ عمل کیے ہوں مگر میرے علم میں یہ بات نہ آئی۔عائشہ صدیقہ کی وہ روایت کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہاں سارے ماہ سے اکثر مراد ہے یعنی قریبًا سارا مہینہ۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پورا قرآن پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ نزول قرآن کی تکمیل وفات شریف سے چند روز پہلے ہی ہوئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل امت کی آسانی کے لئے نہ کیئے تاکہ ساری رات نماز اور سارے مہینوں کے روزے سنت نہ ہوجائیں،چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی خدشہ نہ تھا اس لیئے بعض صحابہ نے کبھی تمام رات بھی نمازیں پڑھی ہیں اور ایک رکعت میں ختم قرآن بھی کیا ہے اور ہمیشہ صائم بھی رہے ہیں۔