صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی نے علومِ اسلامی کی عظمت و تکریم اجاگر کر کے تعلیمی وقار بلند کیا

’’اہل علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جس سے علم کی عظمت پیدا ہو‘‘

[2ذی قعدہ عرس صدرالشریعہ مبارک]

غلام مصطفیٰ رضوی

[نوری مشن مالیگاؤں]

 انگریز نے ہندُستان پر قبضہ جمایا۔حکومت مسلمانوں سے چھینی۔ دوبارہ مسلمان حکمراں نہ بن سکیں؛ اِس کے لیے سازشیں کیں۔ تعلیم کے میدان مسلمانوں کے لیے تنگ کر دیے۔ علومِ اسلامی کی درس گاہوں پر قدغن لگائے گئے۔ مدارس کے لیے مختص مالیاتی ذرائع ضبط کیے گئے۔ مدارس کو مفلوک الحال بنا دیا گیا۔ بعد ازاں مسلمانوں میں دینی علوم کی ترویج کے لیے جن مفکرین نے کامیاب جدوجہد کی اُن میں نمایاں نام اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقادری، صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان سے متوسل علما و مفکرین کا ہے۔ جنھوں نے برِصغیر میں علومِ اسلامیہ کو تقویت دینے کے لیے باضابطہ درس گاہیں قائم کیں اور اپنے قابل تلامذہ کے ذریعے مدارسِ اسلامیہ کے قیام کی فکر منتقل کی۔جس کے نتیجے میں کثیر مدارس قائم ہوئے۔

    صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی نے اردو زبان میں فقہی رہنمائی اور قوانینِ اسلامی کا عظیم خزانہ ’’بہارِ شریعت‘‘ [۲۰؍ حصے، جن میں آخری تین حصے تلامذۂ صدرالشریعہ نے مکمل کئے] لکھ کر احسان فرمایا۔ آج ہر درس گاہ اور دارالافتاء میں بہارِ شریعت سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں فقہی سرمائے میں بہارِ شریعت کو نمایاں و ممتاز مقام حاصل ہے۔جو قوانینِ اسلامی کا منبع اور مسائلِ حنفی کا خزینہ ہے۔ جس کے چشمۂ صافی سے اکتساب کرنے والے تشنگانِ علومِ اسلامیہ ہیں۔ جس سے ہر خاص و عام مستفیض ہو رہے ہیں-

    مدارسِ اسلامی کے قیام کے لیے صدرالشریعہ اور ان کے تلامذہ کی خدمات برصغیر میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی جہاں عظیم فقیہ، مدبر، مفکر، کامیاب مدرس تھے وہیں ماہرِ تعلیم بھی تھے۔ آپ کے تعلیمی افکار میں بڑی گہرائی و گیرائی ہے۔ آپ نے زمانہ سازی کی۔ ایسے قابل و ماہر افراد تیار کیے جن کے ذریعے پورا برصغیر فیض یاب ہوا۔ آج جتنے نمایاں علما ہیں ان میں اکثر؛ متعدد واسطوں سے صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی کے شجرِ علمی سے مکتسب و مربوط ہیں۔

    صدرالشریعہ کے تعلیمی افکار و نظریات پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ تا کہ فکرِ صحیح و خیالاتِ احسن کو تقویت دی جا سکے۔یہاں صرف تین مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

مقدم علم: صدرالشریعہ علم دین کی افادیت و اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    ’’سب سے مقدم یہ کہ بچوں کو قرآن مجید پڑھائیں اور دین کی ضروری باتیں سکھائی جائیں، روزہ، نماز، طہارت او ربیع واجارہ و دیگر معاملات کے مسائل جن کی روز مرہ حاجت پڑتی ہے اور ناواقفی سے خلافِ شرع عمل کرنے کے جرم میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کی تعلیم ہو ، اگر دیکھیں کہ بچہ کو علم کی طرف رجحان ہے اور سمجھ دار ہے تو علم دین کی خدمت سے بڑھ کر کیا کام ہے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تصحیح و تعلیم عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعدجس جائز کام میں لگائیں، اختیار ہے۔‘‘ [بہار شریعت، فاروقیہ بکڈپو دہلی، ج۸، ص ۱۴۴]

حقیقی علم: معاصر علوم انسانی دماغ کی اختراع ہیں۔ اصل علم دین کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ماضی کی درس گاہیں عالم بھی بناتی تھیں اور مفکر و سائنس داں بھی؛ اور فلاسفہ و ادبا بھی۔ علوم کی تقسیم بعد کو واقع ہوئی۔ جب سے علم سے رشتہ کم زور ہوا علوم کو خانوں میں بانٹ دیا گیا۔ عالم دین ہی تمام علوم میں قائد و رہنما ہوتے تھے۔ بغداد و غرناطہ؛ قرطبہ و بخارا کے مدارسِ اسلامیہ نے کتاب و سنت کے علوم کو عام کیا اور انھیں علوم کی بنیاد پر دنیا کو صالح ایجادات کا شعور بخشا۔ صدرالشریعہ علم دین کے تفوق و فضل و کمال کے ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں:

    ’’علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو، ساری دنیا جانتی ہے کہ علم بہت بہتر چیز ہے، اس کا حاصل کرنا طغرائے امتیاز ہے، یہی وہ چیز ہے کہ جس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیاو آخرت سدھرتی ہے، مگر ہماری مراد اس علم سے وہ علم نہیں جو فلاسفہ سے حاصل ہوا ہو اور جس کو انسانی دماغ نے اختراع کیا ہو یا جس علم سے دنیا کی تحصیل مقصود ہو، ایسے علم کی قرآن کریم نے مذمت کی، بلکہ وہ علم مراد ہے جو قرآن و حدیث سے حاصل ہو کہ یہی وہ علم ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں سنور تے ہیں اور یہی وہ علم ہے جو ذریعۂ نجات ہے اور اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ‘‘ [ بہار شریعت، فاروقیہ بکڈپو دہلی،ج۱۶، ص ۲۰۴]

تکریم علم: صدرالشریعہ نے اپنے تعلیمی افکار میں عظمت و تکریم علمِ دین کے مزاج کو واضح کیا ہے۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ توجہِ خصوصی علمِ دین کو نہیں دی جاتی، جس کے سبب فوائد و منافع کا حصول نہیں ہو پا رہا ہے۔ جن علوم کو ثانوی یا ضمنی حیثیت دینی تھی انھیں سے مرعوب ہو بیٹھے، نتیجہ یہ ہوا کہ اخلاقی تنزلی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر علم دین کے حصول کے بعد دنیوی علوم میں موشگافی کی ہوتی تو علم رحمت بن جاتا۔ اخلاقی قدروں کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا اور دنیا ضرر و نقصان سے بچ جاتی۔ اس کا ایک سبب علومِ دینیہ کی تکریم کا اُٹھ جانا ہے۔ صدرالشریعہ فرماتے ہیں:

    ’’اس زمانہ میں کہ علم دین کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے ، اہل علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جس سے علم کی عظمت پیدا ہو، اس طرح ہرگز تواضع نہ کی جائے کہ علم و اہل علم کی وقعت میں کمی پیدا ہو، سب سے بڑھ کر جو چیز تجربہ سے ثابت ہوئی وہ احتیاج ہے، جب اہلِ علمِ دنیا کو یہ معلوم ہوا کہ ان کو ہماری طرف احتیاج ہے، وہیں وقعت کا خاتمہ ہے۔‘‘  [بہار شریعت، فاروقیہ بکڈپو دہلی،ج ۱۲ ، ص۷۳]

    ضرورت ہے کہ اسلاف کی نصیحت و فکر سے استفادہ کر کے صالح انقلاب برپا کیا جائے۔ حصولِ علم دین کے لیے سنجیدہ ہو جائیں۔ نونہالانِ قوم کو پہلے دینی علوم سے آراستہ کروائیں اس کے بعد دیگر علوم کے درس و تحصیل میں منہمک کریں تا کہ تنزل پذیر معاشرے میں با اخلاق و صالح اہلِ علم تیار ہوں اور قومی وقار سربلند ہو۔


٢٤ جون ٢٠٢٠ء

Cell. 9325028586

gmrazvi92@gmail.com