أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً ۢ بِمَا ظَلَمُوۡا‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّـقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پس یہ ہیں ان کے گھر جو ان کے ظلم کرنے کی وجہ سے گرے پڑے ہیں ‘ بیشک اس (واقعہ) میں اہل علم کے لیے ضرور نشانی ہے

النمل : ٥٢ میں فرمایا : پس یہ ہیں ان کے گھر جو ان کے ظلم کرنے کی وجہ سے گرے پڑے ہیں۔

قرآن مجید میں ہے : بیوت خاویہ ان کے گھر جو گرے ہوئے ہیں

علامہ راغب اصفہانی خاویہ کا معنی لکھتے ہیں :

خاویہ خوی سے بنا ہے اس کا معنی ہے خالی ہونا اور کھوکھلاہونا۔ عرب کہتے ہیں خوی بطنہ من الطعام اس کا پیٹ کھانے سے خالی ہے ‘ اور جب کوئی گھر خالی ہو تو کہا جاتا ہے خوی الدار ‘ قوم ثمود کے مکان بھی اجڑے پڑے تھے ‘ مکینوں سے خالی تھے ‘ اس لیے فرمایا تلک بیوتھم خاویۃ (المفردات ج ١ ص ٢١٧‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ ‘ مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

بعض عارفین نے کہا ہے کہس اس آیت میں بیوت سے فراد قوم ثمود کے قلوب ہیں یعنی ان کے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی یاد سے خالی تھے ‘ جس طرح گھرلوگوں کے رہنے سے آباد ہوتے ہیں اور لوگوں کے نہ رہنے سے ویران ہوجاتے ہیں ‘ اس طرح دل بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد ہوتے ہیں اور جب دلوں میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی معرفت نہ ہو وہ ویران ہوجاتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 52