أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ فَمَاۤ اٰتٰٮنِۦَ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ۚ بَلۡ اَنۡـتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پھر جب وہ (سفیر ہدیہ لے کر) سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا کیا تم مال کے ساتھ میری مدد کر رے ہو، سو اللہ نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے بلکہ اپنے ہدیہ پر تم ہی خوش ہوتے رہو

بلقیس کے بھیجے ہوئے ہدیہ کی تفصیل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب وہ (سفیر ہدیہ لے کر) سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا کیا تم مال کے ساتھ میری مدد کر رہے ہو !

بلقیس نے حضرت سلیمان کے پاس ہدیہ میں کیا چیزیں بھیجی تھیں اس کے متعلق متعدد روایات ہیں :

حافظ عبدالرحمٰن بن محمد بن ادریس بن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ بلقیس نے کہا میں ایک ہدیہ بھیج کر ان کو اپنے ملک سے دور کرتی ہوں سو اس نے سونے کی ایک اینٹ کو ریشم میں لپیٹ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس بھیجا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٦٣٢٩ )

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ اس نے ان کے پاس غلام اور باندیاں روانہ کیں اور غلاموں کو باندیوں کا لباس پہنا دیا اور باندیوں کو غلاموں کا لباس پہنا دیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٦٣٣٠)

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ اس نے اسی (٨٠) غلام اور باندیاں روانہ کیں اور سب کے سر مونڈ دیئے اور کہا اگر وہ غلام اور باندیوں کو ایک دوسرے سے متمیز نہیں کرسکے تو وہ نبی نہیں ہیں اور اگر انہوں نے ان کو ایک دوسرے سے متمیز کرلیا تو پھر وہ نہیں ہیں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ غلاموں نے کہنیوں سے ہتھیلیوں تک دھویا اور باندیوں نے ہتھیلیوں سے کہنیوں تک دھویا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا یہ باندیاں اور وہ غلام ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٦٣٣١)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بلقیس نے ہدیہ روانہ کیا اور کہا اگر انہوں نے اس ہدیہ کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہیں میں ان سے جنگ کروں گی اور اگر انہوں نے اس ہدیہ کو مسترد کردیا تو وہ نبی ہیں میں ان کی پیروی کروں گی۔ جب بلقیس کے سفیر حضرت سلیمان علہی السلام کی قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنات کو حکم دیا کہ وہ ان کے محل میں ایک ہزار سونے کی اینٹوں اور ایک ہزار چاندی کی اینٹوں کاف رش بچھا دیں، جب اس کے سفیروں نے سونے اور چاندی کا محل دیکھا تو وہ جو سونے کی ایک اینٹ ریشم میں لپیٹ کر تحفہ میں دینے کے لئے لائے تھے وہ ان کو بہت حقیر لگی اور کہینع لگے اب ہم سونے کی ایک اینٹ کو ہدیہ میں دے کر کیا کریں گے ان کا تو پورا محل ہی سونے اور چاندی کا بنا ہوا ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٦٣٣٩)

حافظ عماد الدین ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے ان روایات کو بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے بھیجے ہوئے تحائف کی طر بالکل توجہ نہیں کی اور فرمایا کیا تم مال کے ساتھ میرا مقابلہ کر رہے ہو میں تم کو تمہارے ملک میں شرک کے حال پر نہیں چھوڑوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ملک، مال اور لشکر عطا کئے ہیں وہ تمہارے سونے اور چاندی سے بہت افضل ہیں، اپنے ان تحفوں پر تم ہی خوشی منائو میں تم سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں کروں گا۔ ان کے پاس واپس جائو اور انہیں بتادو کہ ہم ضرور ایسے لشکروں کے ساتھ ان پر حملہ کریں گے جن کے مقابلہ کی ان میں طاقتن ہیں اور ہم ضرور ان کو ذلیل اور رسوا کر کے وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ جب بلقیس کے سفیر بلقیس کے ہدیے لے کر واپس اس کے اپنے لشکر کے ساتھ اطاعت گزار ہو کر حضرت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف روانہ ہوئی، جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا کہ بلقیس اپنے لشکر کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے ان کے پاس آرہی ہے تو وہ اس سے خوش ہوئے اور انہوں نے کہا :

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 36